واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپرکا کہنا ہےکہ غزہ میں کوئی امریکی فوجی داخل نہیں ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرق وسطیٰ سمیت وسطی اور جنوبی ایشیا میں امریکی عسکری مفادات کے تحفظ کے ذمہ دار کمانڈ سینٹر سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈکوپر نے جنگ بندی کے بعد غزہ کا دورہ کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس دورے کا مقصد یہ تصدیق کرنا تھا کہ اسرائیلی افواج کا طے شدہ علاقوں کی طرف انخلا مکمل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب غزہ سے واپسی پر سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایڈمرل بریڈکوپرکا کہنا تھا کہ غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے روانہ ہونے والے 200 فوجیوں میں امریکی فوجی شامل نہیں ہوں گے۔
ایڈمرل کوپر نےکہا کہ میرے دورےکا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ سینٹ کام کی زیر قیادت سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹرکا قیام کیسےکیا جائے، یہ کام امریکی افواج کی غزہ میں موجودگی کے بغیر انجام دیا جائےگا۔
خیال رہے کہ ایک سینئر امریکی عہدے دار نے خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ غزہ امن معاہدے کے بعد امریکا کی نگرانی میں 200 اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی فورس جنگ بندی کی نگرانی کرے گی اور اس فورس میں مصر، قطر، ترکی اور ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کے فوجی شامل ہوں گے۔
ادھر جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہونے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہری اپنے گھروں کو لوٹنے لگے۔ اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد امدادی عملے نے ملبے تلے دبی انسانی باقیات کی تلاش کا عمل بھی شروع کردیا ہے، کل سےاب تک 155لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔
حماس، اسلامی جہاد اور پاپولرفرنٹ کا کہناہےکہ غزہ کی گورننس خالصتاً فلسطین کا داخلی معاملہ ہے،کسی غیر ملکی سرپرستی کو قبول نہیں کیا جائےگا۔



