اللہ کے بندوں سے محبت

تحریر: زیبا فاطمہ

اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں : ’’شرک کے بعد بدترین گناہ ایذا رسانی ہے۔‘‘ اور فرمایا: ’’ایمان لانے کے بعد افضل ترین نیکی خلق کو آرام دینا ہے۔‘‘

رسول اکرم ﷺ نے مسلمانوں کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ آپس میں یوں مل کر رہتے ہیں جس طرح جسم کے اعضا کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ تم مسلمانوں کو آپس میں محبت کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و خاکساری میںایسا پاؤ گے جیسا کہ جسم کا حال ہوتا ہے کہ اگر ایک عضو کو کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو جسم کے بقیہ اعضا بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو اس پر وہ ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ اس کی حاجت پوری کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پریشانی کو دور کردے گا اللہ قیامت کے دن اس کی پریشانی کو دور کردے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (بخاری و مسلم)

حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’نیکی میں سے کسی شئے کو حقیر نہ سمجھنا چاہیے خواہ وہ اتنی سی ہوکہ تو اپنے مسلمان بھائی سے کشادہ پیشانی سے ملے۔‘‘ (مسلم)

یعنی کسی مسلمان بھائی سے مسکراتے ہوئے محبت کے ساتھ ملنا بھی بہت بڑی نیکی ہے اگر کوئی لوگوں سے اللہ کے دین کی بنیاد پر محبت رکھتا ہے ان کی خیر خواہی کرتا ہے ان کو دین پر چلانے کی کوشش کرتا رہتا ہے ایسے لوگوں کو آخرت میں اجر عظیم کی خوشخبری دی گئی ہے۔ انھیں وہ بلند رتبہ ملے گا کہ انبیاء و شہداء بھی ان کے مرتبے پر رشک کریں گے۔

سرورِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو نہ نبی ہیںاور نہ شہید پھر بھی انبیاء اور شہداء قیامت کے دن ان کے مرتبے پر رشک کریں گے جو انہیں اللہ کے یہاں ملے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسولؐ !یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا : وہ لوگ ہوں گے جو آپس میں ایک دوسرے کے رشتہ دار نہ تھے اور نہ آپس میں مالی لین دین کرتے تھے بلکہ محض خدا کے دین کی بنیاد پر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ بخدا ان کے چہرے نورانی ہوں گے اور ان کے چاروں طرف نور ہی نور ہوگا۔ انھیں کوئی خوف نہ ہوگا اس وقت جب کہ لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے اور نہ کوئی غم ہوگا اس وقت جب کہ لوگ غم میں مبتلا ہوں گے اور پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی:

الا ان اولیاء اللّٰہ لا خوف علیہم و لا ہم یحزنون۔

حضرت معاذ بن جبلؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ میری بزرگی اور عظمت کے خیال سے (یعنی میری خوشنودی حاصل کرنے کے لیے) آپس میں محبت کرتے ہیں ان کے لیے نور کے منبر ہوں گے اور ان پر نبی اور شہدا بھی رشک کریں گے۔‘‘ (ترمذی)



  تازہ ترین   
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا
افغان طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی، ڈرون حملے
لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ؟ اہم فیصلہ آج متوقع
معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے: وزیراعظم
چین اور پاکستان ہر موسم کے سٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں، چینی سفیر
محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ
نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر