کراچی(نیشنل ٹائمز)سندھ ہائیکورٹ نے رینجرز اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے کیس میں ایم کیوایم کےکارکن عبید عرف کےٹو کی عمر قید کی سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پرملزم کی اپیل پرفیصلہ محفوظ کیا۔جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ 27 سال پہلے کراچی میں قتل ہوا اور ملزم گھومتا رہا، کسی نے گرفتار کیوں نہیں کیا؟ پولیس اور حکومت کیا کررہی تھی؟عدالت نے کہا اس وقت کےآئی جی اورحکومتی ذمےداروں کوجیل میں نہیں ڈال دینا چاہیے۔وکیل صفائی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سےگرفتار سارے ملزم رہا ہو چکے، صرف عبید کےٹو جیل میں ہے، جس پر جسٹس عمر سیال نے کہا کہ پتا تو ملزم کو بھی ہے اس نے کیا کچھ کیا ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم نے اعتراف جرم کیا، انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزم کو قانون کے مطابق سزا سنائی، ملزم بری کیے جانے کا حقدار نہیں ہے۔یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے 2024 میں ملزم عبید کے ٹو کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
رینجرز اہلکار پر قاتلانہ حملے کا کیس: عبید کے ٹو کی عمر قید کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ



