تحریر: سعد یہ نارو
سمٹ ہوٹل سکردو
۱۹ جولائی ۲۰۲۵
سکردو میں ریڈیو پاکستان چوک پر واقع سمٹ ہوٹل میں میرا قیام مختصر لیکن یادگار رہا۔ ہمارے ٹیم لیڈر عمیر حسن نے ساری ٹیم کے قیام کا انتظام سمٹ ہوٹل میں کیا تھا۔ سمٹ ہوٹل کو ٹریکرز اور کوہ پیماؤں کا ہوٹل کہنا بے جا نہ ہو گا۔ ٹریک پر جانے سے پہلے میں وہاں ڈیڑھ دن رہی اور میں نے اس مختصر سے دورانیے میں کئی ٹریکرز اور کوہ پیماؤں کو مہمات پر جاتے اور واپس آتے دیکھا۔
ہوٹل کا گیٹ عبور کریں تو دائیں جانب بکنگ آفس، ڈائینگ روم اور اس کے ساتھ ایک لان تھا۔ بائیں جانب دو عمارات اور ان کے آگے الگ الگ لان تھے۔ جن میں مختلف رنگوں کے گلاب کے پودے لگے تھے۔ درختوں کے نیچے کرسیاں دھری تھیں۔ پہلی عمارت کی دوسری منزل پر چار نمبر کمرہ مجھے دیا گیا۔ ان عمارات کے عقب میں ایک اور عمارت اور لان تھا۔ پچھلا لان قدرے بڑا تھا۔ اس میں خوبانی اور چیری کے درخت ساتھ ساتھ لگے تھے۔ دونوں درخت پھل سے لدے تھے۔


میری فرمائش پر نور عالم نے چیری توڑ کر دی، گو کہ چیری پوری طرح پکی نہیں تھی لیکن پھر بھی بہت خوش ذائقہ تھی۔


۱۹ جولائی کو ہم شنگریلا ریزارٹ اور سوق ویلی کی سیر کر کے شام سات بجے سمٹ ہوٹل واپس پہنچ گئے۔ فریش ہونے کے بعد ہم ہوٹل کے عقبی لان میں چلے گئے جہاں ہماری ٹیم کی پہلی نشت منعقد ہونے والی تھی۔ لان میں کرسیاں ایک بڑے دائرے کی صورت میں سجی تھیں اور گروپ کے ممبرز ان پر براجمان تھے۔ Ascender Adventures کے عمیر حسن اور ان کی ٹیم بھی وہاں موجود تھی۔ لان کے ایک طرف کھانے کے میز لگے تھے اور باربی کیو کا انتظام ہو رہا تھا۔ رات کا کھانا عمیر کی جانب سے تھا۔ تقریب کا آغاز تمام ممبرز کے تعارف سے ہوا۔ ہر ممبر نے اپنا مختصر تعارف کرایا جس میں نام، شہر، پیشہ اور پچھلے ٹریکس کے متعلق بتایا گیا۔ ممبرز کے تعارف کے بعد عمیر نے اپنی ٹیم کا تعارف کروایا اور اپنی کمپنی کی سروسز پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے اگلی صبح یعنی ۲۰ جولائی کو شروع ہونے والے کے ٹو بیس کیمپ ٹریک کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس کے بعد سوال جواب کا سیشن شروع ہوا۔ مجھ سمیت کئی ممبرز نے اپنے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے کئی سوالات کیے جن کے جوابات عمیر نے نہایت تفصیل سے دئیے۔ جب سب ممبرز مطمئن ہو چکے تو میزوں پر کھانا لگا دیا گیا۔


کھانے کے فوراً بعد لان میں ایک ہلچل سی مچ گئی جب عالمی شہرت یافتہ
Maria Cardell اپنی ساتھی Denis Urubko
کے ساتھ وہاں پہنچے۔ ہم سب ساتھیوں نے ان کو گھیرے میں لے لیا۔ یہ دونوں کوہ پیما جون میں پاکستان آئے تھے۔ ان کا مقصد اور ارادہ دنیا کے نویں بلند ترین پہاڑ نانگا پربت ( ۸۱۲۵ میٹر) پر جانے کے لیے دیامیر سائیڈ سے ایک نیا راستہ تلاش کرنا تھا۔ دونوں الپائن انداز میں ایک نئے روٹ سے بغیر بوتل بند آکسیجن کے، بغیر رسی کے اور بغیر پورٹرز کے نانگا پربت کر کے لوٹے تھے۔ سب پوری توجہ اور دلچسپی سے ان کی روداد سن رہے تھے۔ ان سے یوں اتفاقاً ملنا ہم سب کے لیے خوشی اور اعزاز کا باعث تھا۔ ان کی کامیاب مہم کی خوشی میں کیک کاٹا گیا۔ ہم سب باری باری ان کے ساتھ تصویریں بنوا رہے تھے اور وہ نہایت خندہ پیشانی سے سب سے مل رہے تھے۔ ان منکسر المزاج اور خوش طبع کوہ پیماؤں سے مل کر میرا دل بہت راضی ہوا جن کے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ آٹھ ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیوں کو سر کرنے والے روسی نژاد پولش کوہ پیما ڈینس اروبکو کو دیکھ کر میں سوچ رہی تھی کہ پہاڑ انسانوں میں کتنا انکسار اور برداشت پیدا کر دیتے ہیں۔
ہم سب کھڑے باتوں میں مشغول تھے جب عمیر نے میری ملاقات Travel Girls کی سعدیہ مقبول سے کروائی۔ سعدیہ رنر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ٹور آپریٹر بھی ہیں۔ وہ مرو و خواتین اور صرف خواتین کے اندرون و بیرون ملک ٹرپس کرواتی ہیں۔ ان کو میں فیس بک کی حد تک جانتی تھی لیکن اب ان سے بالمشافہ ملاقات بھی ہو گئی تھی۔ سعدیہ بھی اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ کے ٹو ٹریک اور جی جی لا کے لیے جا رہی تھیں اور ہماری طرح سمٹ ہوٹل میں ٹھہری تھیں۔ کے ٹو ٹریک کے دوران ہماری ان سے اور ان کے گروپ سے گاہے بہ گاہے ملاقات ہوتی رہی۔ پاکستان میں بچیوں کو ٹریکنگ کرتے اور ٹور آپریٹر جیسا منفرد کام کرتے دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے۔ میں نے یہ شوق زندگی میں تب اپنایا جب مجھ میں جوانوں والی پھرتی اور طاقت نہیں رہی تھی لیکن میں اتنا جانتی تھی کہ میں ان جتنا حوصلہ اور جذبہ ضرور رکھتی ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ہر ایک کا اپنا اپنا وقت ہوتا ہے۔ جب میرا وقت آیا تو قسمت نے مجھے ٹریکنگ کی جانب موڑ دیا۔ جتنا سفر مقدر میں لکھا ہے وہ ہو رہا ہے اور باقی ماندہ زندگی میں بھی ہوتا رہے گا، تو دیر سویر کچھ نہیں ہوتی بس وقت سے اپنا اپنا حصہ وصولنا ہوتا ہے۔
جب رات گہری ہونے لگی تو ہم سب ساتھیوں نے اپنے اپنے کمرے کا رُخ کیا۔ کمروں میں جانے سے پہلے ہمارے گائیڈ نیک اختر نے ہر ممبر کو ایک کارڈ تھمایا جس پر ایک نمبر پرنٹ تھا۔ مجھے دئیے گئے کارڈ پر 4 نمبر پرنٹ تھا۔ یہ کارڈ میں نے اپنے سفری بیگ ساتھ لگانا تھا اور اسی نمبر والا کارڈ پورے ٹریک پر میرے کیمپ اوپر لگا ہونا تھا۔ اس سے نہ صرف مجھے اپنے کیمپ کو پہچاننے میں سہولت ہونی تھی بلکہ عملے کو بھی میرا سامان میرے کیمپ میں پہنچانے میں مدد ملنی تھی۔ اگلی صبح ہمارے ٹریک کا پہلا سفر شروع ہونا تھا۔ ہمیں فی بندہ پندرہ کلو وزن کی اجازت تھی، تو سب نے اپنے اپنے سامان کو چیک کر کے فائنل پیکنگ کرنی تھی۔ رات کو جلدی سونا تھا تاکہ اگلی صبح دئیے گئے وقت پر سب ممبرز ناشتے کی میز پر ہوں۔ دل میں ایک عجیب سا اطمینان اور خوشی تھی۔ اطمینان اس بات کا کہ اب تک سب چیزیں احسن طریقے سے انجام پا رہی تھیں اور خوشی اس بات کی کہ میرے خواب کی تکمیل کا سفر شروع ہونے والا تھا۔ وہ خواب جو میں نے تین سال پہلے دیکھا تھا اب حقیقت کا روپ دھارنے والا تھا۔ اس میں بس ایک شب کی دوری تھی جو سوتے جاگتے کٹ ہی جانی تھی۔
جاری ہے۔۔۔



