تحریر: سعدیہ نارو
یکم جولائی ۲۰۲۴ کو مجھے میسنجر پر اسامہ شاہد بنگش کا پہلا میسج آیا۔
Hello
How are you?
Any treks planned?
ہمارا قبیلہ پہاڑ تھے تو زیادہ لمبا چوڑا تعارف درکار نہیں تھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اس ہفتے کے آخر میں ٹائیگر پیک کرنے جا رہی ہوں۔
ان کا دوسرا میسج ۱۱ جولائی ۲۰۲۴ کو آیا۔
Salam
If you have any plans for trek in coming days then please add me in.
جب دوسرے ٹریک کا اردہ ہوا تو انہیں مطلع کر دیا کہ ۲۰ جولائی کو چٹا کٹھہ ٹریک کے لیے جا رہی ہوں۔ ان تاریخوں میں ان کی ذاتی مصروفیت تھی اس لیے انہوں نے جانے سے معذرت کر لی۔ سال بیت گیا۔ اسامہ کا نام اور ان سے ہوئی مختصر بات چیت ذہن سے نکل چکی تھی۔
اس سال جب میں کے ٹو ٹریک سے واپس آئی تو ۷ اگست کو مجھے اسامہ کا تیسرا میسج آیا۔ ان سے حسبِ روایت مختصر اور شائستہ گفتگو رہی جو ہر بار کی طرح اگلے ٹریک پر مبنی تھی۔ اس کے بعد اسامہ میرے ساتھ ایڈ بھی ہو گئے۔ میں نے جانتی تھی کہ یہ میری ان سے آخری گفتگو ہے اور وہ ایک ہفتے بعد اچانک سے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ ٹریکرز اکثر پہاڑوں میں ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ میں نہیں جانتی تھی کہ پہاڑوں کے اس شیدائی اور سلجھے انسان سے میری کبھی ملاقات نہیں ہو پائے گی اور وہ ابدی سفر پر روانہ ہو جائیں گے۔ ۱۵ اگست کو سکردو روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور پتھر اسامہ کی گاڑی کو لگا۔ دیگر لوگ محفوظ رہے لیکن اسامہ جان کی بازی ہار گئے۔ یہ خبر یقیناً ان کے دوستوں اور خاندان کے لیے ناقابلِ یقین ہو گی۔ ایک ایسا زخم جو کبھی نہیں بھرے گا۔
میں صرف اتنا جانتی تھی کہ اسامہ کی ڈگری Architecture and interior design میں تھی لیکن وہ اپنی ٹور کمپنی چلا رہے تھے۔ انھوں نے اپنی من پسند جگہوں پر من چاہی زندگی جی تھی۔ وہ اس دنیا میں جنت جیسی جگہوں پر رہے تھے اور یقینا آخرت میں بہشت ان کا ٹھکانہ ہو گی۔
ہم نہیں جانتے کس موڑ پر موت ہماری تاک میں بیٹھی ہے۔ کب کہاں ہم جان سے جائیں گے۔ ہمارے پاس بس آج کا ہی دن ہے اور آج ذہن میں ایک ہی جملہ بار بار آ رہا ہے۔۔۔
As flies to wanton boys are we to the gods;
They kill us for their sport.
Osama Shahid Bangash






