میری کے ٹو کہانی -سکردو یاترا (حصہ دوئم)

تحریر: سعدیہ نارو

بلتستان کے سب سے بڑے شہر سکردو سے دنیا بھر کے ٹریکرز اور کوہ پیما واقف ہیں۔ اس کے چھوٹے سے ائیر پورٹ پر ایک دن میں چھ جہاز بھی اُترے ہیں۔ اس پُر امن شہر میں دنیا بھر سے آئے سیاح بنا خوف و خطر گھومتے ہیں۔ پہاڑوں میں گھری اس جادو نگری میں سیر و سیاحت کے لیے خواتین کو کسی مرد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ لوگ آپ کو تکتے ہیں لیکن وہ نگاہیں بے ضرر ہوتی ہیں۔ قراقرم کے پہاڑوں کو جانے والوں کے قدم پہلے اس شہر کو چھوتے ہیں۔ یوں اس شہر کی ترقی اور خوش حالی میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا بھی مقدور بھر حصہ ہے۔ اپنے پیسے کی صورت وہ یہاں آسودگی اور خوشی لاتے ہیں۔ اس شہر سے ہو کر ہی مجھے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو تک جانا تھا۔

۱۸ جولائی کی سہ پہر میں سمٹ ہوٹل سکردو میں تھی۔ شہر اور اس کے باسی دیکھنے کی جستجو مجھے ہوٹل میں ٹکنے نہیں دے رہی تھی۔ مجھے جی جی لا کے لیے سامان بھی کرائے پر لینا تھا اور ٹریک کے لیے کچھ ڈرائی فروٹس بھی خریدنے تھے۔ میں نے جب اس بات کا ذکر اپنے ٹیم لیڈر عمیر حسن سے کیا تو انھوں نے نور عالم کو میرے ہمراہ کر دیا۔ یہ میرا ہوشے کے نور عالم سے پہلا تعارف تھا۔ ہم پانچ لوگ تھے۔ سکردو میں ٹیکسی باآسانی مل جاتی ہے۔ آپ سڑک کنارے کھڑے ہوں تو گاڑی آپ کے پاس آ کر رک جاتی ہے۔ ہم سب ہوٹل سے باہر نکلے تو نور عالم نے ہمارے لیے دو ٹیکسیوں کا بندوبست کر دیا۔

ہم سب سے پہلے جی جی لا کا سامان لینے پہنچے۔ دکاندار سولہ سترہ سال کا لڑکا تھا۔ اس نے ہم سب کے لیے کریمپونز، ہارنیس، ہیلمٹ، کیرابینر اور جومر نکالے اور بل بنانے لگا۔ میری نظر بار بار الماری میں اوپر رکھے نیلے اور لال ہیلمٹس پر رُک رہی تھی۔ میں نے ان کے بارے میں استفسار کیا تو وہ کہنے لگا باجی یہ نئے ہیں اس لیے کرائے پر نہیں دوں گا۔ بل بناتے ہوئے عبدالرحیم نے جو رقم لکھی ان میں تو نئی چیزیں آ جانی تھیں۔ میں نے پیسے کم کرنے پر اصرار کیا تو اس نے جواباً کہا “آپ لوگوں کے پاس بہت پیسے ہوتے ہیں۔” میں اس کی بات سن کر مسکرائی اور کہا “بیٹے ہم پائی پائی جوڑ کر آپ کے شہر آئے ہیں اور ہمارے پاس خرچ کرنے کو ایک محدود رقم ہے۔” میری بات کا اس پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔ تنگ آ کر میں نے نور عالم سے ریٹ کم کروانے کو کہا۔ دونوں نے بلتی زبان میں ایک دوسرے سے کچھ کہا۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا یا تو نور عالم کی دال نہیں گلی یا وہ اس کے کاروبار میں ٹانگ اڑانے سے گریز کر رہا ہے۔ المختصر عبدالرحیم نے ریٹ میں معمولی سی کمی کی اور ہم پانچ لوگ سامان لے کر دکان سے نکل آئے۔

سڑک کنارے چلتے مجھے مرکزی جامع مسجد کا داخلی گیٹ نظر آیا۔ گیٹ پر مقرر چوکیدار سے اجازت لے کر اندر جھانکا تو سامنے ایک شاندار مسجد تھی۔ نیلے، فیروزی، پیلے اور سفید نقش و نگار والی یہ مسجد نہایت دیدہ زیب تھی۔ مسجد کے دائیں جانب ڈرائی فروٹس کی دکان تھی۔ نور عالم ہمیں وہاں لے گیا۔ دکان میں رش تھا۔ خریداروں کو ڈرائی فروٹس دکھایا اور چکھایا جا رہا تھا۔ ایک بزرگ سب خریداروں کو قہوہ پلا رہے تھے۔ یہ ان کی دکانداری کا انداز تھا۔ ہم نے دورانِ ٹریک کھانے کے لیے ڈرائی فروٹس لیے اور پیسے ادا کرنے کے لیے مالک کے کاؤنٹر پر آ گئے۔ بل دیکھ کر ہم نے اسے ریٹ میں کچھ کمی کرنے کو کہا کیونکہ بھاؤ تاؤ کرنا ایک خریدار کا حق بھی ہے اور سنتِ نبوی بھی۔ جواباً مالک نے ایک غیر مناسب بات کہی اور سامان دینے سے بھی انکار کر دیا۔ ہم چونکہ سکردو میں مہمان تھے اس لیے بدمزگی کو بڑھانے اور سخت ردِ عمل دکھانے کی بجائے درگزر سے کام لیا اور منہ مانگی قیمت چکا کر سامان لے لیا۔

میرے لیے پہلا تجربہ کافی ہونا چاہیے تھا لیکن ٹریک سے واپسی پر کسی نئی دکان پر بھاؤ تاؤ کرنے کی بجائے میں اسی دکان پر اپنی فیملی کے لیے ڈرائی فروٹس لینے چلی گئی۔ میں نے ان سے چار چیزیں اچھی خاصی مقدار میں منہ مانگی قیمت پر خریدیں۔ گھر واپسی پر تین چیزیں ٹھیک نکلیں اور ایک میں کیڑا لگا ہوا تھا۔ جو کھانے لائق نہیں تھی اور دینے والے یقیناً اس سے باخبر تھے۔ بہت دیکھ بھال کر لینے کے باوجود میرے ساتھ ہاتھ ہو گیا تھا۔ اگر تین چار چیزیں ایک ساتھ خریدی جا رہی ہوں تو ہر چیز کی الگ سے تسلی کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ بعد میں پچھتاوے سے بچا جا سکے۔

ڈرائی فروٹس کی خریداری کے بعد ہماری اگلی منزل SCOM کی فرینچائز تھی۔ میرے ساتھیوں کو ایس کام کی سم درکار تھی۔ میں نے سم نہیں خریدی کیونکہ سکردو میں بھی اس کی سروس درمیانے درجے کی ہوتی ہیں۔ دورانِ ٹریک گروپ ممبرز کو اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا۔ کونکورڈیا میں اس کا ٹاور خراب تھا تو جن ممبرز نے گھر والوں کو مطلع کرنے کے لیے اسے خریدا تھا وہ مایوس ہی ہوئے۔

ہمیں بازار میں گھومتے رات کے ساڑھے آٹھ ہو چکے تھے۔ کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ کھانے کے لیے ہمیں نور عالم شاہی دیوان لے گیا۔ جس کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے ہم سب کی بھوک مزید چمک اُٹھی۔ شاہی دیوان کا ماحول اور بیٹھنے کا انتظام قابلِ ستائش تھا۔ ان کی سروس بہترین اور کھانا خوش ذائقہ تھا۔ سکردو میں اچھے کھانے کا لطف اُٹھانے کے لیے شاہی دیوان بلا شبہ ایک بہترین جگہ تھی۔ کھانے کے بعد سمٹ ہوٹل واپسی ہوئی تو ہم سب نے اپنے اپنے کمرے کا رُخ کیا۔

اگلے دن ہوٹل میں باقی گروپ میمبرز سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا انھوں نے بھی جی جی لا کا سامان اسی لڑکے عبدالرحیم سے لیا تھا۔ اس نے انھیں نیا سامان ہم سے کافی کم ریٹ پر کرایے پر دیا تھا۔ جس کو ہم بچہ سمجھے تھے اس نے پانچ لوگوں کو چکمہ دیا تھا۔ ابھی میں اس بات پر افسوس کا اظہار کر ہی رہی تھی کہ سعد نے بتایا کہ وہ کسی اور دکان سے یہی سامان دس ہزار ایڈوانس اور دس ہزار کرایہ دے کر لایا ہے۔ جو سراسر زیادتی تھی۔ اس واردات کا سن کر میری ہنسی نکل گئی کہ بھائی بے وقوف تو ہم بھی بنے ہیں لیکن آپ کا تو کوئی نیکسٹ ہی لیول ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ناموں پر نہیں جانا چاہیے ضروری نہیں جس کا نام شرافت ہو وہ شریف بھی ہو اور جس دکان کا نام بسم اللہ سے شروع ہوتا ہو وہاں دکانداری بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ہوتی ہو۔ دکاندار کہیں کا بھی ہو وہ دکاندار ہوتا ہے اور آخر میں اس نے صرف اپنا فائدہ دیکھنا ہوتا ہے۔ سب انگلیاں برابر نہیں ہوتی ہیں اور دنیا میں اچھے برے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر