انٹرنیشنل ڈیسک(نیشنل ٹائمز)غزہ میں اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف کی شہادت کے بعد ان کا آخری پیغام جاری کردیا گیا۔
اسرائیل کی غزہ سٹی میں صحافیوں کے خیمے پر بمباری میں الجزیرہ کے 2 صحافی اور 3 کیمرا آپریٹر شہید ہوئے۔خلیجی میڈیا کے مطابق شہدا میں صحافی انس الشریف، محمد قریقہ، کیمرا آپریٹر محمد ظاہر، محمد نوفل اور مومین علیوا شامل ہیں۔الجزیرہ کے مطابق 28 سالہ انس الشریف اور ان کے ساتھی اس وقت شہید ہوئے جب اسپتال کے مرکزی دروازے کے باہر صحافیوں کے لیے لگائے گئے ایک خیمے کو اسرائیلی فوج کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے تصدیق کی ہے کہ اکتوبر 2023 سے جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 237 ہو گئی ہے۔
انس الشریف کا آخری پیغام
صحافی انس الشریف کی شہادت کے بعد ان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر ان کا آخری پیغام جاری کیا گیا جو 6 اپریل 2025 کو لکھا گیا تھا۔صحافی انس نے کہا کہ یہ میری وصیت اور میرا آخری پیغام ہے، اگر یہ میرے الفاظ آپ تک پہنچ گئے تو جان لیجیے کہ اسرائیل مجھے قتل کرنے اور میری آواز کو خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔صحافی انس الشریف کے آخری پیغام میں کہا گیا کہ اللہ جانتا ہے کہ جب سے میں نے جبالیا پناہ گزین کیمپ کی گلیوں اور سڑکوں میں آنکھ کھولی، میں نے اپنی قوم کا سہارا اور آواز بننے کے لیے اپنی پوری طاقت اور ہمت لگائی، مجھے امید تھی کہ اللہ میری زندگی کو طول دے یہاں تک کہ میں اپنے اہل خانہ اور پیاروں کے ساتھ اپنے شہر، مقبوضہ عسقلان واپس جا سکوں، لیکن اللہ کا حکم غالب آیا اور اس کی تقدیر پوری ہوئی۔انس نے کہاکہ میں درد میں جیا، بار بار نقصان اور غم کا ذائقہ چکھا، اس کے باوجود میں نے کبھی سچ کو جیسا ہے ویسا پہنچانے میں ہچکچاہٹ نہیں کی، نہ اسے بگاڑا اور نہ ہی مسخ کیا۔اس امید پر کہ اللہ گواہ بنے گا ،جو خاموش رہے، جنہوں نے ہمارے قتل کو قبول کیا اور جنہوں نے ہماری سانسوں کو بھی گھونٹ دیا، ہمارے بچوں اور عورتوں کی مسخ شدہ لاشیں بھی ان کے دلوں کو نہ پگھلا سکیں اور نہ ہی اس قتلِ عام کو روک سکیں جس کا سامنا ہمارے لوگ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے کر رہے ہیں۔انس الشریف کے پیغام میں کہا گیا کہ میں فلسطین کو تمہارے سپرد کرتا ہوں، جو مسلمانوں کے تاج کا نگینہ اور اس دنیا کے ہر آزاد انسان کی دھڑکن ہے۔ میں فلسطین لے لوگوں اور ان کے مظلوم ننھے بچوں کو تمہارے سپرد کرتا ہوں جنہیں اتنا وقت بھی نہ ملا کہ وہ خواب دیکھ سکیں اور امن و سلامتی میں زندگی گزار سکیں۔صحافی انس نے پیغام میں کہاکہ آپ فلسطین اور اس کے لوگوں کی آزادی کے لیے پل بنیں، زنجیریں آپ کی آواز کو خاموش نہ کرسکیں اور سرحدیں آپ کو روک نہ پائیں ، یہاں تک کہ آزادی کا سورج ہماری لوٹی ہوئی قوم پر چمکنے لگے۔انہوں نے پیغام میں کہا کہ میں اپنے گھر والوں کو، آپ کے سپرد کرتا ہوں ، میری آنکھ کا تارا، میری پیاری بیٹی جس کے بڑے ہونے کا خواب میں نے دیکھا تھا لیکن وقت نے مجھے اسے بڑا ہوتے دیکھنےکی مہلت نہ دی۔ میں اپنے بیٹے صلاح کو آپ کے سپرد کرتا ہوں جس کے لیے میں سہارا اور ساتھی بننا چاہتا تھا یہاں تک کہ وہ مضبوط ہو کر میرا بوجھ سنبھالے اور میرا مشن جاری رکھے۔انس الشریف کے پیغام میں کہا گیا کہ میں اپنی پیاری ماں کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، جن کی دعاؤں نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔ ان کی دعائیں میرا قلعہ اور راستے کی روشنی تھیں، میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں صبر دے اور ان کو میری طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔میری درخواست ہے کہ آپ ان سب کے گرد رہیں اور اللہ کے بعد ان کا سہارا بنیں، فلسطینیوں کیساتھ کھڑے رہیں۔صحافی انس نے پیغام میں کہاکہ اللہ کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ میں اس کے فیصلے پر راضی ہوں اور اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر اور دائمی ہے۔مجھے معاف کرنا اگر مجھ سے کوتاہی ہوئی، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔انہوں نے آخری میں کہا کہ غزہ کو مت بھولنا اور مجھے اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھنا ۔
’غزہ کو مت بھولنا،فلسطینیوں کیساتھ کھڑے رہنا‘ صحافی انس کی شہادت کے بعد اُن کا آخری پیغام جاری



