1973 اور 2025 والے مری کی رونقیں خوب سہی، مگر کہانی جدا جدا ہے۔

عابد حسین قریشی

غالباً جولائی 1973 میں علامہ اقبال میموریل ہائی سکول گوہدپور کے بہت ہی نفیس اور اعلٰی انسانی روایات کے امین ہیڈ ماسٹر چوہدری لال دین مرحوم کی ہدایت پر گھوڑا گلی مری میں دس روزہ سکاوٹ کیمپ تقریری مقابلہ میں شرکت کے لئے مجھے نامزد کیا گیا۔بڑے خلیق اور دلنواز پیٹی صدیق مرحوم اور اپنی ذات میں ایک انجمن، نہایت مرنجا مرنج ماسٹر ودود قریشی اس قافلہ کے سالار تھے۔ سیالکوٹ ضلع کے تمام بڑے سکولوں کے سکاوٹ نارووال سے چلنے والی سپیشل ٹرین پر سوار تھے۔ ہم بھی سیاکوٹ سے ہمرکاب ہوئے۔ راستہ میں کیا رونق رہی۔ کچھ نہ پوچھیئے۔ جب سیالکوٹ شہر کے نوجوان کورس کی صورت میں چلتی ٹرین میں مترنم آواز میں ، ” ایک باپ کے دو بیٹے قسمت جدا جدا ہے۔ ایک بادشاہ ملک کا، اک شہر کا گدا ہے،”: گاتے تو سماں بندھ جاتا۔ دل چاہتا کہ یہ ٹرین اسی طرح چلتی رہے۔ مگر ہر ٹرین کا ایک سٹاپ ہوتا ہے، زندگی کا بھی شاید یہی سلسلہ ہے۔ جہلم جا کر ٹرین نے لمبا سٹاپ کیا اور ہم لوگ منگلا ڈیم کی سیر کے لئے بسوں سے روانہ ہوئے۔ راولپنڈی سے مری اس زمانے میں راکٹ نما بسیں چلتی تھیں۔ سڑک اس قدر تنگ کہ آمنے سامنے سے آنے والی بسوں کا باقاعدہ معانقہ ہوتا۔ بعض جگہوں پر تو ایک بس کو دوسری کو رستہ دینے کے لئے رکنا پڑتا۔ مگر دلوں میں تنگی اور عدم برداشت نہیں تھی، اسلئے سب راضی خوشی چلتا۔ مجھے یاد نہیں آرہا کہ پنڈی سے مری کے سفر میں دو چار کاروں کے علاوہ اور اکا دکا بسوں کے کوئی ٹریفک نہ تھی۔ کار کی سواری تو اس زمانے میں رئیس لوگوں کو ہی میسر تھی۔ گھوڑا گلی سکاوٹ کیمپ مری سے چند کلومیٹر باہر ہی اوپر پہاڑ کہ چوٹی پر ایک دلکش ویلی میں لگتا تھا۔ ہمارے پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ٹینٹ نما خیموں کا ایک شہر اس پہاڑ کے اوپر آباد ہو چکا تھا۔ سبھی دوستوں کو مری کا مال روڈ دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ لہزا ہر روز بعد از دوپہر ہم ماسٹر ودود قریشی صاحب کی قیادت میں پہاڑوں کے بیچوں بیچ، پر پیچ مگر چہیڑ کے گھنے درختوں کے جھنڈ سے پگڈنڈی نما راستوں سے پیدل ہی مری کے مال روڈ کی طرف روانہ ہوتے۔ واہ کیا صفائی تھی، کیا خوبصورتی تھی مری کی اس زمانے میں۔ مال روڈ پر گنے چنے لوگ مٹر گشت کر رہے ہوتے۔ بہت تھوڑے ہوٹل اور وہ بھی سستے،۔ امیر ، کاروباری اور بڑے جاگیردار گرمیوں کا سیزن مری گزارنے اپنی فیملیز کے ساتھ مال روڈ سے ملحقہ سڑکوں پر قیام پزیر ہوتے۔ مال روڈ کے اطراف میں ممدوٹ، ٹوانے اور دولتانے قیام پزیر ہوتے۔ صرف چہل قدمی کے لئے مال روڈ کا رخ کرتے۔ مری کی فضاؤں میں ایک عجب طرح کی مہک ٹھی، ایک ٹہھراو تھا، سکون تھا، امنگ تھی اور ترنگ تھی۔ مال روڈ پر دو سینما گھر بھی تھے۔ ہم نے بھی سلطان راہی کی مشہور فلم بشیرا یہیں دیکھی۔اور فلم کا آخری سین جب”” کندا ڈھولی نوں دے جاویں ویر وے”” کی صورت میں گانے پر اختتام پزیر ہوتا ہے، تو سینما ہال سے نکلنے والی ہر آنکھ نم تھی۔ اس زمانے میں لوگ مال روڈ کی صاف ستھری فضا میں سیر اور چہل قدمی کرتے تھے۔ یہ سیل فون اور سیلفی کی قباحتیں مفقود تھیں۔ گھوڑا گلی سے مری کے راستوں میں ودود قریشی صاحب کے ہلکے پھلکے چٹکلے کہ ہنس ہنس کے برا حال ہو جاتا۔ جب ہمارے ایک ساتھی نے یہ کہہ کر اچانک راستہ تبدیل کیا کہ وہ شارٹ کاٹ کر رہا ہے، تو اس شارٹ کاٹ کی گونج اگلے دو سال تک سکول میں سنی جاتی رہی۔ کتنا کچھ بھول گیا، بہت سا وقت گزر گیا، بیسیوں بار بعد میں بھی مری آنا جانا رہا، مگر1973 والا مری نہ دل سے نکل سکا نہ آنکھیں ہی بھلا پائیں۔محدود وسائل میں دس روز تک مری میں قیام، گپ شپ۔ پنجاب کے میدانی علاقوں کی تپش سے تنگ آئے لوگوں کے لئے ایک دلفریب اور چیڑ کے قد آور درختوں میں گھری تفریح گاہ مری جسے وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے ٹنڈ منڈ کر دیا۔ مری کی معطر فضاوں میں بے ہنگم عمارتوں سے خوبصورت درختوں کی کٹائی سے ماحولیاتی آلودگی میں وہ اضافہ کیا ہے، کہ 52 سالہ پرانے مری کا کوئی تقابل موجودہ مری سے بنتا ہی نہ ہے۔ آج پھر مری آنے کا اتفاق ہوا۔ راولپنڈی سے مری تک ایکسپریس وے کی صورت میں بہترین سڑک ہے۔ مگر رش کا عالم یہ ہے، کہ یہ دو رویہ سڑک تنگ دامانی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ہر وقت مہنگائی اور غربت کا رونا روتی قوم کے پاس اس قدر زیادہ اور مہنگی گاڑیاں ہیں کہ لگتا ہے مری میں لینڈ کروزرز کا میلہ برپا ہے۔ موجودہ مال روڈ پر ہر رنگ اور ہر برانڈ کا ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہے۔ لوگوں کا رش ہے۔ کہ ہر لمحہ بڑھتا ہی جارہا ہے، مگر 52 سال پہلے والا ماحول نہیں ہے۔ گھوڑا گلی سے ایک دن پنڈی پوائنٹ اور ایک دن کشمیر پوائنٹ کی یاترا والا، نہ حوصلہ ہے نہ ہمت۔ وقت کی گرد میں کتنا کچھ اڑ جاتا ہے، یہی زندگی کا خلاصہ ہے۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر