عابد حسین قریشی
زندگی کی کہانی تو بہت مختصر ہے، مگر جب تک بندہ زندہ ہوتا ہے وہ اسی غلط فہمی میں رہتا ہے کہ بھلے شاہ اسی مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور۔ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ جس نے مرنا تھا وہ تو مر گیا۔ ہم نے زندہ رہنا ہے۔ مگر ایسا ہوتا نہیں۔ موت کا بلاوا اپنے وقت پر ہر ذی نفس کے در پر دستک دیتا ہے۔مرنے والے کو بعد میں یا تو اسکے اچھے کام زندہ رکھتے ہیں، یا وہ لواحقین اسے یاد رکھتے ہیں، جو اس سے یا تو emotionally attach ہوتے ہیں یا مالی طور پر dependant, باقی دوست احباب، عزیز رشتہ دار اور بہت سے چاہنے والے یا جنازہ سے واپس ہوتے ہیں یا قبرستان سے۔ انسان بڑا بھولا ہے، وہ زندگی میں یہ سمجھ رہا ہوتا ہے، کہ اس زندگی کے رنگ اسی کے دم قدم سے ہیں، یہ سرابوں کی دنیا اسے اپنے سایوں کے پیچھے بھگاتی چلی جاتی ہے اور پھر ایک دن وہ تھک کر گر جاتا ہے، اور یہیں اختتام زندگی ہوتا ہے۔ مگر یہ بات انسان کو گرنے سے پہلے سمجھ نہیں آتی۔ جب یہ زندگی بہت عارضی ہے اور قرآن کے الفاظ میں شاید ایک دن یا اس سے بھی کم تو پھر اس زندگی کو خوبصورت طریقے سے کیوں نہ گزارا جائے ۔اپنی ضد اور انا کو قربان کرکے، ویسے یہ انا اور تکبر کس بات پر، جب انسان نے آخرکار زمین کے اندر رزق خاک ہی ہونا ہے۔ جب یہ زندگی بھی عارضی ہے، اسکے مقیم بھی دراصل مسافر ہی ہیں، تو پھر یہ گلے شکوے ، یہ باہمی کدورتیں ، یہ حسد، بغض و کینہ سب چھوڑ کر اس مختصر سی زندگی کو تمام ذہنی اور جسمانی کوفتوں کو بھول کر اللہ کی یاد میں،قران کریم پر غور و فکر میں، انسانیت کی خدمت میں، حاجت مندوں کی حاجت روائی میں ، اپنے چاہنے والوں کی رفاقت میں۔ اچھی اچھی کتابوں کے مطالعہ میں، کسی ہمدم دیرینہ کی صحبت میں، کسی من پسند موسیقی کی دھن سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اور دل و دماغ میں پیار و محبت کے انگ ہوں، آنکھوں میں چاہت و شناسائی کے رنگ ہوں اور دلوں میں بسنے والوں کے سنگ ہوں، تو زندگی بہت مختصر سہی مگر دلنشیں و دلکش بن سکتی ہے۔یہ اور بھی خوبصورت بن سکتی ہے کچھ معاف کرکے، کچھ بھول کر اور بہت سا درگزر کرکے۔



