انٹر نیشنل ڈیسک (نیشنل ٹائمز)غزہ میں امداد کے منتظر افراد پر اسرائیلی فوج اور امریکی کنٹریکٹرز کے مظالم کے حوالے سے مزید ثبوت سامنے آگئے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں سابق امریکی فوجی اور غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن کے سابق کنٹریکٹر انتھونی اگوئیلرنے بتایا کہ انہوں نے غزہ میں امدادی مراکز پر اسرائیلی افواج اور امریکی کنٹریکٹرز کی جانب سے سنگین بدسلوکی اور جنگی جرائم ہوتے دیکھے ہیں۔انتھونی اگوئیلر کے مطابق اسرائیلی فوج اور امریکی کنٹریکٹرز نے ایسے نہتے فلسطینی شہریوں پر براہ راست گولیوں، توپ خانے اور ٹینک فائر کا استعمال کیا جو خوراک حاصل کرنے کے لیے امدادی مراکز پر جمع تھے۔سابق امریکی فوجی نے ان کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دیا اور کہا کہ اپنی پوری فوجی زندگی میں انہوں نے ایسی بے رحمی کبھی نہیں دیکھی۔انتھونی اگوئیلر نے ایک اور واقعہ بتایا کہ غزہ میں خوراک کا بچا کھچا سامان ملنے پر فلسطینی بچے نے ایک امریکی سکیورٹی اہلکار کا شکریہ ادا کرکے ہاتھ چوم لیا تھا، لیکن کچھ ہی دیر میں وہ بچہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مارا گیا۔خیال رہے کہ غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ منصوبہ ہے، یہ ادارہ غزہ میں اقوام متحدہ کی جگہ امداد فراہم کر رہا ہے۔ تاہم اس پر طویل عرصے سے تنقید کی جارہی ہے کہ یہ امدادی کارروائیوں کو عسکری انداز سے چلارہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مئی 2025 سے اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن کے مراکز کے آس پاس شہید کیے جاچکے ہیں، جس کی وجہ وہاں موجود اسرائیلی اور امریکی سکیورٹی اہلکاروں کا طاقت کا غیر ضروری استعمال بتایا جاتا ہے۔انتھونی اگوئیلر کے بیانات نے غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں اور اسرائیلی افواج اور امریکی کنٹریکٹرز کے طرز عمل پر عالمی سطح پر تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ غزہ میں امدادی مراکز پر تعینات امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے خوراک کے لیے جمع بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر براہِ راست گولیاں چلائیں جب کہ پر اسٹن گرینیڈز اور مرچ اسپرے کا بھی استعمال کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق غزہ میں تعینات 2 امریکی کنٹریکٹرز نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی عملہ غیر تربیت یافتہ اور بھاری اسلحے سے لیس تھا۔امریکی کنٹریکٹرز نے خبرایجنسی کو بتایا کہ یہ اقدامات بغیر کسی واضح خطرے کےکیے گئے اور وہ ان واقعات پر پریشان ہوکر حقائق سامنے لارہے ہیں۔دوسری جانب اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ غزہ میں قحط کی بدترین صورتحال جنم لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں امداد کی ترسیل کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کے بغیر جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
غزہ میں امدادی مراکز پر اسرائیلی فوج اور امریکی کنٹریکٹرز جنگی جرائم میں ملوث ہیں: سابق امریکی فوجی



