نیویارک (نیشنل ٹائمز) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اسرائیل فلسطین تنازع کے قابل عمل دو ریاستی حل اور فوری جنگ بندی پر زور دیا ہےاقوام متحدہ میں اسرائیل اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل سے متعلق 3 روزہ کانفرنس شروع ہوگئی جس کی میزبانی فرانس اور سعودی عرب کر رہے ہیں۔یو این جنرل اسمبلی نےگزشتہ سال فیصلہ کیا تھا کہ ایسی کانفرنس 2025 میں ہونی چاہیے تاہم جون میں ہونے والی کانفرنس ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد ملتوی کی گئی تھی۔کانفرنس سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افتتاحی خطاب میں اسرائیل فلسطین تنازع کے قابل عمل دو ریاستی حل پر زور دیا۔یو این سیکرٹری جنرل نے کہا کہ غزہ کی تباہی ناقابل برداشت ہے اور غزہ کے خاتمے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ غزہ کا مسئلہ دنیاکی آنکھوں کے سامنے آگیا ہے۔کانفرنس کو بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک فیصلہ موڑ کے طور پر کام کر سکتا ہے اور یہ قبضے کے خاتمے کی طرف ناقابل واپسی پیش رفت کو متحرک کر سکتا ہے۔سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ اقدام قابل عمل دو ریاستی حل کے لیے ہماری مشترکہ خواہش کوپورا کرنے کی طرف پیش رفت کو متحرک کر سکتا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کا یو این کانفرنس کا بائیکاٹ
امریکا اور اسرائیل نے فلسطین کے لیے دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ کانفرنس غلط وقت میں بلائی گئی،کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کانفرنس امن کی تلاش کو مشکل بنا دےگی۔
یو این میں فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق عالمی کانفرنس، سیکرٹری جنرل کا جنگ بندی پر زور



