زاہد یعقوب عامر
آج 18 جولائی 2025 کو یہ سفر ایک خوب صورت موڑ پر لا کر ختم کر رہا ہوں۔
چَودہ جولائی 1994، میں حافظ آباد کے ایک قصبہ کالیکی منڈی سے روانہ ہوا۔ میری منزل لاہور میں واقع ایئرفورس سلیکشن سنٹر تھی۔ میرے گلی محلے، قصبے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ائرمین کیا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں سے پوچھا تو ایک صاحب نے کہا کہ یہ ہوائی آدمی ہوتا ہے، ہوائی جہاز کے متعلقہ ہے۔
لاہور پہنچ کر ٹیسٹ دیے، پاس کیے اور ٹریننگ کے لیے کوہاٹ پہنچ گیا۔ یہ میری زندگی کے پروفیشنل سفر کا پہلا قدم تھا۔
میں اس وقت حافظ آباد ڈگری کالج سے ایف ایس سی کر رہا تھا۔ کالج کے میگزین “الحفیظ” کا سب ایڈیٹر بھی تھا۔ کچھ سالوں بعد ایک میٹرک پاس ائرمین اور فائٹر اسکواڈرن کے آرمامنٹ ٹیکنیشن نے تعلیمی سفر جاری رکھا۔ پہلے ایجوکیشن انسٹرکٹر بنا، اور پھر کمیشن حاصل کر لیا۔ بالکل اسی طرح جیسے میجر عزیز بھٹی شہید اور کیپٹن کرنل شیر خان شہید نشانِ حیدر نے پاک فضائیہ کے ائرمین ہوتے ہوئے کمیشن حاصل کیا تھا۔
میٹرک سے سفر شروع ہوا تو ماسٹرز ان انٹرنیشنل ریلیشنز، اردو، ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ میں ڈگریاں حاصل کیں۔ ہمدرد یونیورسٹی سے ایجوکیشنل کوالٹی مینجمنٹ اور قائد اعظم یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم فل کیے۔
مجھے استاد بنا دیا گیا۔ میں انسٹرکٹر بن گیا۔ ٹاٹ اسکول کا سابقہ طالب علم، ائرمین ٹریننگ، پی اے ایف اکیڈمی کی ٹریننگ اور پھر پاک فضائیہ کے اسٹاف کالج کا استاد بن گیا۔ میرے اسٹوڈنٹ مجھ سے سینئر ہوتے تھے۔ دوست ممالک کے افسران بھی ہوتے تھے۔ جونیئر ہوتے ہوئے بھی میں ہر دلعزیز استاد تھا۔
ٹیچنگ ٹیکنیکس ہوں یا ائروار کالج کے انٹرنیشنل ریلیشنز کے استاد کے طور پر، وہ لوگ بھی میرے اسٹوڈنٹ بنے جو پاکستان کے فضائی دفاع کے ماتھے پر جھومر ہیں۔ حسن صدیقی جیسے ہیرو نے مجھے استاد ہونے کا احساس اور اس سے جڑے عزت و وقار سے ہمیشہ مالا مال رکھا۔ میں نے اپنی کلاس میں سامنے بیٹھی مریم مختیار شہید کو بھی دیکھا ہے۔ بہت سے شہداء و غازی بھی میرے تعلیمی و تربیتی سفر میں اسٹوڈنٹ رہے۔
بہرحال، میرے لکھنے کی خواہش، صلاحیت اور تدبر نے مجھے اس میدان میں بھی جذبوں کی حدت سے مالا مال رکھا۔ کتب لکھیں۔ ایک سچا سپاہی، محب وطن پاکستانی ہونا میرا سب سے بڑا انعام تھا۔ اللہ نے مجھے بہت سے اعزازات سے نوازا۔ مجھے “امتیازی سند” سے نوازا گیا۔ اسے گوگل کیجیے گا۔ اندازہ ہو گا کہ اس کی کیا حیثیت و اہمیت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع فراہم کیا کہ ایم ایم عالم جیسے قومی ہیرو کی صحبت و رفاقت نصیب ہوئی۔ تیرہ سالہ رفاقت رہی۔ ان کو قریب سے دیکھا تو عام زندگی کے بہت سے پہلو زندگی میں غیر اہم ہو گئے۔ میری ٹرانسفارمیشن ہوئی اور ویلیو سسٹم پر یقین بڑھا۔ اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنے کا حوصلہ ملا۔
میں ان کی سوانح حیات کتابی شکل میں لکھی، جو ان کی زندگی میں ہی شروع کی تھی مگر ان کے انتقال کے بعد مکمل ہوئی۔ بطور اسکواڈرن لیڈر، ائروار کالج انسٹیٹیوٹ کی اکیڈیمک کونسل کا ممبر رہا۔ بہت اہم سینٹرز کو بنانے کے لیے کانسیپٹ پیپرز لکھے۔
میں کسی ائرفورس بیس پر پہنچتا تو بہت سے بیس کمانڈرز بھی اسٹوڈنٹ ہوتے۔۔ عزت و تکریم ملتی۔۔ مجھے گیسٹ اسپیکر مدعو کیا جاتا۔
بالآخر پروموشن بورڈ تک پہنچتے پہنچتے ملکی حالات کے سبب یہ لیٹ ہوتا گیا۔ الحمد للّٰہ میں اپنے کورس کا پہلا نمبر اور تمام پروفیشنل کورسز کا ٹاپر رہا ہوں۔۔۔ اسی دوران کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹر شائستہ تبسم کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا سفر بھی شروع ہو گیا۔۔ مجھے چھ ماہ کی فیلوشپ کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی، امریکہ میں نیویارک یونیورسٹی اور برطانیہ کی ایک اور ٹاپ یونیورسٹی ڈرہم یونیورسٹی کی طرف سے قبول و منظور کرلیا گیا۔۔
ائرفورس کے 31 سالوں کا ساتھ تھا۔۔ دوسری طرف کیریئر میں آگے بڑھنے کے چانسز بھی تھے، رینک بھی مل جاتا، مگر بچوں کی پروفیشنل پڑھائی، سول میں کوئی گھر بنانے کے لیے وسائل پیدا کرنا، پی ایچ ڈی اور باہر کی یونیورسٹیوں میں جانے کا آپشن، واپس آ کر کوئی نیشنل و اسٹریٹیجک لیول کی خدمات۔۔۔ ان سب حالات نے کہا کہ:
اب راستہ تبدیل کیا جائے۔
اس سفر کا عزت و وقار کے ساتھ رخ تبدیل کیا جائے۔
میں نے ائرفورس سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لیے اپلائی کر دیا۔ آج الحمد للّٰہ، میرا اپنے آفس اور وردی میں آخری دن ہے۔
میرے فخر کی چند روشن مثالیں:
- میں نے 31 سالوں میں کبھی اپنا یونیفارم بغیر وضو یا غسل کے نہیں پہنا۔
- میں نے کبھی حرام کا ایک روپیہ بھی اپنے رزق میں شامل نہیں کیا۔
- کبھی کسی انکوائری یا ڈسپلن ایشو کا سامنا نہیں رہا۔
- کیپٹن کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہید، ایم ایم عالم پر کتب لکھیں۔
- سرفراز رفیقی شہید، راشد منہاس، اور بہت سے ہیروز کی فیملی میں ایک فیملی ممبر کی طرح رہا۔
- سینکڑوں غازیوں کے انٹرویوز کیے اور جنگ کو سمجھا۔
- ٹینٹ، کچے پکے کمروں میں دفاع وطن کے لیے وقت گزارا۔
- کسی کی حق تلفی نہیں کی، کسی غلط بات پر خاموش نہیں رہا۔
- مختلف بیسز، ایئر ہیڈکوارٹرز، ٹریننگ یونٹس میں اپنا کام بطور ٹیکنیشن یا آفیسر ایمانداری سے سر انجام دیا۔
میرے نقادوں کے لیے:
جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم فوجی آفیسر ملک کھا جاتے ہیں،
دیکھیں: میرے پاس نہ ڈی ایچ اے میں کوئی گھر، نہ بحریہ میں پلاٹ، نہ کسی اسکیم میں حصہ۔
انیس سالہ کمیشنڈ سروس، کل 31 سالوں میں:
- تین عمرے،
- ایک کھیت کنارے سات مرلہ پلاٹ،
- ایک چھوٹی گاڑی میری ملکیت ہے۔
- تین کتب کا مصنف، سینکڑوں مضامین میرے اثاثے ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کی اولیول کی کتاب میں “The Bullying” پر میرا مضمون شامل ہونا میرے لیے ایک اعزاز ہے۔
میری سب سے بڑی طاقت:
- میرے اسٹوڈنٹس: جو آج ایئروائس مارشل ہیں۔
- میرے دوست: جو میرے سرمایہ ہیں۔
- نیک نیتی و نیک نامی: میری اصل طاقت ہیں۔
شکریہ:
- ڈاکٹر کنول مبارک: میری اہلیہ، میری ساتھی، میری سہارا۔
- میری والدہ: جنہوں نے سترہ سالہ بیٹے کو گلے لگا کر رخصت کیا، مگر کبھی واپس بلانے کو نہیں کہا۔
- میرے والد مرحوم: جن کی دعاؤں نے مجھے اس مقام تک پہنچایا۔
کل سے نئی زندگی کا آغاز ہے۔
دعا فرمائیں۔
میں دنیا کا سب سے مطمئن انسان ہوں۔
میں اس ملک کا سچا سپاہی ہوں۔
میں ایک مخلص استاد ہوں۔
استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، بس کلاس میں آنا چھوڑ دیتا ہے۔۔
فوجی کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔۔ بس وردی پہننا چھوڑ دیتا ہے۔۔



