عابد حسین قریشی
دو تین روز قبل کسی “غرض مند” نے ہمارے نام کی فیک آئی ڈی بنا کر فیس بک اکاؤنٹ کھول کر فوری طور پر لوگوں کو فرینڈز ریکوسٹ بھیجنے کے ساتھ ہی مختلف لوگوں سے میرے نام پر پیسے بھی مانگنا شروع کر دیئے۔ کچھ دوستوں نے میرے ساتھ رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہی دی۔ مجھے اس بات پر خوشی ہوئی کہ سنا تھا فیک آئی ڈیز عموماً مشہور لوگوں کی یا celebrities کی بنتی ہیں۔ غور کیا، تو اپنا نام ان دونوں کیٹیگریرز میں نہ تھا، مگر فیک آئی ڈی بنانے والے کا شکریہ کہ اس نے ہم فقیروں کو بھی معروف لوگوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ البتہ فیک آئی ڈی بنانے والے کے ساتھ مجھے بھی شدید مایوسی اس وقت ہوئی، جب کسی دوست نے بھی اسے کوئی رقم نہ بجھوائی، اس نے اگلے روز میری تازہ تصویر کے ساتھ پھر واردات ڈالنے کی کوشش کی، مگر وہ بھول گیا کہ لوگ تصویریں دیکھ کر پیسے نہیں بیجھتے، ورنہ تو شو بز کے لوگ اسی کام پر لگ جائیں ، اور وہ جو کچھ دیکھ کر بیجھتے ہیں، وہ تو اب ہمارے پاس دستیاب نہیں تھا۔ جا اوئے فیک آئی ڈی بنانے والے تیرا ستیا ناس، تو نے ہمارا وہ بھرم بھی توڑ دیا جو ہم ریٹائرمنٹ کے بعد اٹھائے پھر رہے تھے۔ کہ اللہ نہ کرے اگر کبھی زندگی کے کسی موڑ پر دوستوں سے کچھ مانگنے کی نوبت آئی تو وہ مایوس نہیں کریں گے۔اس طرح کے مطالبہ کی عدم پذیرائی پر اپنی سروس کے اوائل کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ کسی ضلع میں تعینات ایک نیک نام سیشن جج جنہیں اپنی نیک نامی ثابت کرنے کے لئے روزانہ عدالت میں بیٹھ کر دوسروں کے ایمان پر شک کرنے کی عادت تھی، اور اپنی امانت و دیانت کا چرچا مطلوب ہوتا تھا، روزانہ اپنے عدالتی عملہ کی سر عام سرزنش بھی کرتے کبھی کبھار انکی جامہ تلاشی بھی لیتے کہ انہوں نے کہیں انکے نام پر کوئی پیسے تو نہیں اٹھا لئے۔ ایک دن انکے ریڈر نے تنگ آ کر ان سے پوچھا، کہ جج صاحب آپ ایماندار آدمی ہیں، انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک ہے،؟ تو ریڈر نے بڑی معصومیت سے کہا کہ” سر آپ کے نام پر تو کوئی چوانی بھی نہیں دیتا،” آپ کیوں ہر وقت اپنی ایمانداری پر خود ہی شک کرتے رہتے ہیں۔” یہ واقعہ شاید اس فیک آئی ڈی والی کہانی پر بھی منطبق ہوتا ہے، کہ بھائی ہم ریٹائرڈ لوگ ہیں، ہمارے نام پر کوئی چوانی بھی نہیں دیتا، تم ہزاروں روپے کا مطالبہ کر رہے ہو۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تو لوگ فون کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں، لوگ دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں، تم پیسے مانگ رہے ہو۔ عقل کو ہاتھ مارو۔ اس کار خیر کے لئے کسی حاضر سروس بیوروکریٹ یا پولیس آفیسر کا نام استعمال کرکے دیکھو۔ شاید بہتر نتیجہ آئے،اگر کام نہ چلا تو جج کو بھی آخر میں آزما لینا۔ بہر حال فیک آئی ڈی بنانے والے کا شکریہ کہ اس نے یہ چند سطور لکھنے کا موقع فراہم کیا۔



