بیرہ سُم نہ اجازت ء نُمے — غیرت، عشق اور بغاوت کی صدیوں پر محیط داستان

تقریباً دو سَو سال قبل کا بلوچستان ہے۔ اور بلوچستان کے پہاڑوں کے اندر ایک خالص قبائلی علاقہ کوہلو ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سال بھی 1825 ہے۔ یعنی آج سے پورے دو سَو سال قبل۔ کوہلو کے ایک گھر میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ نام رکھا جاتا ہے “لعل ہان”۔۔ بڑا ہوکر یہ ایک چرواہا بن جاتا ہے۔

مون سون کا مہینہ ہے ( جیسا کہ آج کل)۔۔۔ یہ چرواہا اپنے بھیڑ بکریوں کے ساتھ اپنے علاقے سے باہر ہے۔ طوفانی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ انہیں پہاڑوں کے بیچ ایک گھر نظر آتا ہے۔ یہ پناہ لینے اُسی گھر کی طرف چلا جاتا ہے۔ گھر کے مرد وہاں نہیں ہوتے ۔ اُس وقت کے رسم و رواج کے مطابق گھر کی عورت میزبان بن جاتی ہے۔ وہ ایک نئی نویلی دلہن ہے۔

وہ عورت طوفان سے اپنے خیمے کو بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ تیز ہوائیں اُس کا دوپٹہ اُڑا لے جاتی ہیں۔ وہ سامان بچانے کی کوشش میں ہے۔ بجلی چمکتی ہے۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں لعل ہان کی نظر اُس عورت پر پڑجاتی ہے جس کے بال کھلے ہوئے ہیں اور طوفان اُس کا دوپٹہ اُڑا لے گئی ہے مگر وہ دُنیا سے بےخبر اپنا آشیانہ بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیکنڈ کے اس ہزارویں حصے میں لعل ہان کی زندگی بدل جاتی ہے اور وہ “مست توکلی” اور “سمو بیلی ” بن جاتا ہے۔ وہ عورت کوئ اور نہیں بلکہ “سمو” تھی۔

تصور کرے کہ آج سے دو سَو سال قبل کا خالص قبائلی زمانہ ہے۔ مست توکلی نہ صرف ایک شادی شدہ عورت کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے بلکہ اپنی شاعری میں اس کا نام بھی لیتا ہے۔ خود کو “سمو بیلی” یعنی سمو کا دوست بھی کہتا ہے۔

مگر کسی کی “غیرت” نہیں جاگتی کہ جاکر اُس چرواہے کو قتل کرڈالے۔

بلکہ ہوتا یہ ہے کہ اُنہیں “حضرت مست توکلی” کہا جاتا ہے۔ اُن کی موت کے بعد اُن کی قبر پر لوگ انتہائی عزت و احترام کے ساتھ پیش ہوتے ہیں اور اُن کا قبر مرجع الخلائق بن جاتا ہے

“سمو” نام کا اصل معنی کیا ہے کسی کو نہیں پتہ لیکن آج بھی بلوچ سماج میں ہزاروں عورتوں کا نام “سمی” ہے۔

چودہ سَو سال قبل کا زمانہ ہے ۔ مکہ میں ایک عورت کاروبار کرتی ہے۔ خود مختار ہے۔

ایک نوجوان کو اپنا سامان دے کر شام بھیجتی ہے۔ اُن کے دیانت داری سے متاثر ہوتی ہے۔ وہ پہل کرتی ہے۔ اپنے غلام کے ہاتھوں رشتہ بھیجتی ہیں۔

جی ہاں چودہ سَو سال پہلے ایک عورت رشتہ بھیج رہی ہے۔ دونوں کی شادی ہوجاتی ہے۔ وہ عورت اُم المومنین حضرت خدیجہ (رضی اللہ تعالی عنہا) ہیں اور نوجوان حضرت محمد (صلی اللہ و علیہ وسلم)۔

یہ وہ اسلام کی تعلیم، عزت و وقار، اختیار ,جو عورت کو دیا کے وہ اپنی پسند سے رشتہ بھج کر شادی کرے۔ جس کو ام المومنین اور آقا دوجہاں نے اپنایا جس سے آج کل کے مرد، سردار بغاوت کر کے خود کو نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم سے الگ کر رہے ھیں

ہمارے یہاں ہر سال سینکڑوں خواتین و مرد “غیرت” کے نام پر قتل کردیے جاتے ہیں۔

یہ لوگ اس “نام و نہاد غیرت” کا کانسیپٹ یا تو قبائلی رسم و رواج سے لیتے ہیں یا پھر مذہب سے۔
یہ دونوں واقعات اِس خیال کی نفی کرتے ہیں۔

فاسٹ فاروڑڈ کرتے ہیں۔ دو ہزار پچیس کا ترقی یافتہ زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہے۔ ویڈیو کے زمان و مکان نا معلوم ہیں۔

نام و نہاد غیرت مندوں کی ایک ٹولی ہے۔ ایک “سمو” کو لایا جاتا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں قرآن ہے۔ ایک بدبخت اُن کے ہاتھ سے قرآن لے لیتا ہے۔ وہ ڈری نہیں ہے۔ سہمی نہیں ہے۔ منت و سماجت نہیں کر رہی۔

ایک جملہ بولتی ہے ۔ ایک دھماکہ کرتی ہے
“بیرہ سُم نہ اجازت ء نُمے”
(صرف گولی مارنے کی اجازت ہے تمھیں)

یہ ایک جُملہ نہیں ہے۔ ایک فلسفہ ہے، اعلان ہے، بغاوت ہے۔ وہ اجازت مانگ نہیں رہی اجازت دے رہی ہے۔ حکم صادر کر رہی ہے۔ فیصلہ سنا رہی ہے۔

وہ اعلان کر رہی ہے کہ میں کسی کی ملکیت نہیں ہوں۔ کسی کا پالتو جانور نہیں۔ ایک جیتا جاگتا انسان ہوں۔ اپنے شرطوں پہ زندگی جینے کا حق ہے مُجھے اور اپنی ہی شرطوں پہ مرنے کا حق بھی۔

وہ سات قدم آگے چلتی ہے ۔ اور پھر وہ آزاد ہوجاتی ہے۔

فضا میں گولیوں کی تڑ تڑاہٹ کے ساتھ ایک جملے کی گونج ہے
“بیرہ سُم نہ اجازت ء نُمے”

یہ ایک جُملہ اس نام و نہاد غیرت کی دیواروں کو پاش پاش کرنے کے لیے کافی ہے۔

بیرہ سُم نہ اجازت ء نُمے۔

فیصلہ آپ کا، کہ نبی کی سنت سے باغی یہ سردار، وہ تمام مرد کس سزا کے مستحق ہیں؟



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر