تحریر: ڈاکٹرطارق مرزا۔ آسٹریلیا
گردے محنتی ، جفاکش اورمشفق ماں باپ کی طرح ہوتے ہیں۔دونوں گردے خراب ہوکر ایک گردے کا محض ایک چوتھائی حصہ تک باقی رہ جائے تب تک احساس بھی نہیں ہونے دیتے کہ اندر ہی اندر ان پر کیا بیت چکی ہے، کونسا آسیب لاحق ہے جو ان کے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ، بس خاموشی سے آپ کی خدمت کیئے جارہے ہوتے ہیں۔آپ جاگ رہے ہوں یا سوئے ہوئے، گردےآپ کا خیال رکھ رہے ہوتےہیں ۔ چوبیس گھنٹوں میں 180 لیٹر خون کو لگاتاراپنی چھلنیوں سے فلٹریعنی نتھارکراسے ہر قسم کی کثافتوں سے پاک صاف کرتے اور فاسد مادوں کو پیشاب کی شکل میں جسم سے نکال باہر کرنے کا کام خاموشی سے سرانجام دیئے جارہے ہوتے ہیں۔ ہمت تب ہی ہارتے ہیں جب ان کی کمر واقعتاً ٹوٹ جائے، تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، روزانہ کی ڈائلسس(Dialysis) اورگردے کی پیوندکاری (Renal Transplant) کی نوبت آجاتی ہے جس کی عدم دستیابی موت پرمنتج ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں اس ڈائلسس کی بات کی جا رہی ہے جو گردوں کی مزمن امراض میں ان کے ناکارہ ہوجانے (Chronic Renal Failure) میں کی جاتی ہے۔ حاد (یعنی Acute Renal Failure) کی نہیں۔ وہ ایک الگ موضوع ہے۔
یاد رہے کہ گردےمحض فاسد اور فالتومادوں کو جسم سے نکالنے کا کام ہی نہیں کرتے، یہ بلڈ پریشر اور پانی کی مقدارکونارمل رکھنے کا کام بھی سرانجام دیتے ہیں۔ اسی طرح گردے غیر فعال وٹامن ڈی کو فعال (Active) شکل میں تبدیل کرنے کا کام بھی کرتے ہیں اور اسی طرح اریتھروپوئیٹین (Erythropoietin) نامی ہارمون بھی پیدا کرتے ہیں جو ہڈیوں کے گودہ میں انگیخت پیدا کرکے خون کے سرخ خلیوں کی پروڈکشن کوضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کرنے کا انتہائی اہم فریضہ سرانجام دیتا ہے۔
دسمبر کی ٹھٹھرتی کہرآلود شاموں میں لاہورکی فوڈ سٹریٹ کی کسی ٹکاٹک شاپ میں نان کے ساتھ گرماگرم گردے کپورے کھانے والوں میں سے کم ہی جانتے ہونگے کہ ہر گردہ قریباًایک ملین ننھی منی ٹیوبوں
یعنی نالیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو فلٹر(چھلنی) کا کام کرتی ہیں۔ان تمام ٹیوبوں کی، جنہیں نیفرون(Nephron)
کہا جاتا ہے،مجموعی لمبائی تقریباً پچاس ہزار (50000) میل بن جاتی ہے۔ قدرت کا ایک عظیم اور نادر تحفہ یہ فلٹریشن سسٹم محض یک طرفہ نہیں، کئی طرفہ ہوتا ہے۔ ٹیوب کا ایک حصہ سوائے خون کے خلیوں کے باقی سب کچھ اپنے اندر آنے دیتا ہے، پھر آگے چل کر ایک حصہ ضرورت کی مفید اشیاء کو واپس خون میں بھیج دیتاہے، آگے کا ایک اورحصہ پانی کا کچھ حصہ پیشاب بنانے کے لیئے رکھ لیتا ہے تو ایک حصہ پانی کی باقی ماندہ مقدارواپس خون میں شامل کررہا ہوتا ہے۔اورٹیوب کے ان تمام حصوں میں مختلف اقسام کے ہارمون اور کیمکل خلیاتی سطح پراپنااپنا کرداراداکررہے ہوتے ہیں، گویا ہر ننھی منی ٹیوب ایک مکمل خودکار کارخانہ کی طرح کام کرتی ہے۔ اورخودکار بھی ایسی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ فیصلے کررہی ہوتی ہے کہ بھئی گرمی ہے، پسینے آرہے ہیں،پانی پیا نہیں یاپھر شدیداسہال جاری ہیں تو پیشاب بنانا کم کردو یاپھر خون میں شوگر یعنی گلوکوز زیادہ ہوچکی، فلٹرکرکے پیشاب میں زیادہ آنے دو اور واپس خون میں کم بھیجواور اسی طرح اور کئی قسم کے “فیصلے”لمحہ بہ لمحہ ،دم بدم بدلتے ہوئے ہارمونل اور کیمیائی فیصلے، صرف اس لئے تاکہ انسان زندہ اور “نارمل”رہ سکے۔ سچ ہے قولِ ربّ جلیل کہ فبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (سوره الرحمان)۔اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟
یہ ایک المیہ ہے کہ دنیا میں اس وقت گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد ایک اندازہ کے مطابق 850 ملین یعنی 80 کروڑ ہے۔ اس تعداد کا صحیح اندازہ لگانے کے لیئے واضح رہے کہ آسٹریلیا کی کل آبادی دم تحریر 27 ملین کے لگ بھگ ہے، جبکہ برطانیہ یعنی انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور ناردرن آئرلینڈ کی کل ملا کر آبادی تقریباً68 ملین ہے۔
گردے کے مریضوں کے زہریلے ترین اورمہلک ترین موذی دشمن وہ نام نہاد خیرخواہ،دوست احباب ، رشتہ داراورفی زمانہ جڑی بوٹیوں کی طرح اگنے والے جاہل اور ناعاقبت اندیش وی لاگرحکیم اور نام نہاد “نیچروپیتھ” ہوتے ہیں جو انہیں بے بنیاد، من گھڑت اور نام نہاد آزمودہ تیربہدف قہوے اور جوشاندے یا تعویزگنڈے اور جادوٹونے یا “خاندانی ٹوٹکے” تجویزکررہے ہوتے ہیں۔ان خیرخواہوں کی اور ان کی باتوں پرآنکھیں بندکرکے عمل کرنےوالوں، ہردو کی عقل پہ ماتم ہی کیاجاسکتاہے۔اوران دونوں طبقہ کی مجموعی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کی عقلوں پر ماتم کرنے کے لئے بقول غالبؔ :
“مقدورہوتوساتھ رکھوں نوحہ گرکو میں”!
گردوں کو صحتمند رکھنے کے لیئے کیا کیا جا سکتا ہے؟۔ اس ضمن میں چیدہ چیدہ چند اہم نکات پیش کئے جاتےہیں۔
ماہرین امراض گردہ کے مطابق اگر کسی شخص کے قریبی عزیزوں میں کسی کو گردے کا مرض لاحق ہے تو فوراً سے پیشتراس شخص کو اپنے ٹیسٹ بھی ضرورکروالینے چاہیئں کیونکہ گردوں کے کچھ امراض موروثی یا جینیاتی بھی ہوتے ہیں۔ کسی فرد میں گردے کے مرض کی تشخیص کواس کے عزیزوں رشتہ داروں کے لیئے خطرے کی گھنٹی سمجھنا چاہیئے۔ اسی طرح ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس (شوگر)ایسے امراض ہیں جو گردوں کو اندر ہی اندرگھن کی طرح چاٹ سکتے ہیں، ایسے مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا اچھا کنٹرول مستقبل میں گردے فیل ہونے سے بچا سکتا ہے۔ بچپن میں گلے کے انفیکشن، جلدی انفیکشن مثلاً پھوڑے پھنسیاں،حتیٰ کہ سر کی جوئیں، متعدی خارش (Scabies) بھی گردوں کی بیماری پر منتج ہو سکتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے جب ہمارا مدافعاتی نظام اس قسم کے انفیکشن کے خلاف حرکت میں آتا ہے تو جسم میں کچھ ایسے ذیلی یا ثانوی کیمیائی مادے پیدا ہو سکتے ہیں جو دل اورگردوں کے اندر جم کر وہاں سوزش پیدا کرسکتے ہیں۔ لہٰذہ بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیئے اور ہر قسم کی بیماری کا بروقت علاج کروانا چاہیئے۔ جوئیں اور متعدی خارش اور اسی طرح سوجھے ہوئے متعفن مسوڑھے اور ٹوٹی ہوئی داڑھیں ،نیزکٹی پھٹی ایڑیاں کچھ ایسے بیکٹیریاجسم کے اندربھجوادیتے ہیں جو خطرناک ہوتے ہیں اور اندرونی اعضاء کو متاثرکرتے ہیں۔
اسی طرح کچھ افراد کوروزمرہ کی معمولی یا چھوٹی موٹی علامات کے ظاہرہوتے ہی بروفن وغیرہ قسم کی دافع سوزش ادویات کھانے کی عادت ہوتی ہے، ان کا کثرت استعمال بھی گردوں کو مستقل طورپرخراب کرسکتاہے۔ بسا اوقات اس قسم کی ادویات دیگرزیراستعمال ادویہ کے ‘موافق’ نہیں ہوتیں ، لہٰذہ ان کے بارہ میں اپنے ڈاکٹر یااسپیشلسٹ سے ضرورمشورہ کرلینا چاہیئے۔
چالیس سال اور پھر خاص کر پچاس سال سے اوپرکے خواتین و حضرات کے لیئے سال میں کم از کم ایک بار اپنے ڈاکٹرسے مکمل چیک اپ اور ٹیسٹ وغیرہ جو وہ مناسب سمجھے، ضرور کروالیناچاہیئے۔ سگریٹ نوشی اورہر قسم کی نشہ آور اشیاء سے مکمل پرہیز بھی لازم ہے۔ اگر ہاتھ پاؤں ہلائے بغیرچارپائی پر پڑے رہناکسی کی عادت ہے تو اس سے چھٹکاراپانا انتہائی ضروری ہے۔ موٹاپا ہے تووزن کو کم کرنا بھی اتنا ہی لازم ہے۔اس مقصد کے لیئے اولین فرصت میں اپنے ذاتی معالج سے رجوع فرمائیں۔
شاید قارئین میں سے کوئی کہہ دے کہ یہ کیا باتیں ہوئیں۔ کوئی “صحیح اور خاص قسم ” کی بات بتانا تھی۔ اور یہ رد عمل بالکل بھی غیر متوقع نہیں۔ ہم لوگ دراصل ہمہ وقت شارٹ کٹ یا گیدڑ سنگھی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہم سے مراد دیسی بھی ہیں اور گورے بھی۔ لہٰذہ راقم کو ایک بار پھر یہ بات دہرالینے دیجئے کہ گردے کے مریضوں کے زہریلے ترین اورمہلک ترین دشمن وہ نام نہاد خیرخواہ،دوست احباب ، رشتہ داراورفی زمانہ جڑی بوٹیوں کی طرح اگنے والے جاہل اور ناعاقبت اندیش وی لاگرحکیم اورسیانے ہوتے ہیں جو انہیں بے بنیاد، من گھڑت اور نام نہاد آزمودہ تیربہدف قہوے اور جوشاندے یا تعویزگنڈے اور جادوٹونے یا خاندانی ٹوٹکے تجویز کررہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ ہماراٹوٹکااستعمال کرکے چالیس دنوں میں ڈائلیسس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے، تو یقیناً ایسا ہی ہوتا ہے،کیونکہ کم وبیش چالیس دنوں کے اندراندر موت سے ہمکنار ہونے کے بعد ایسےمریض کو ڈائلسس سے مکمل نجات مل ہی جاتی ہے۔



