عابد حسین قریشی
یوں تو ہر دن ہی والدین کا دن ہوتا ہے، جن کے طفیل انسان اس دنیا میں آتا ہے، مگر سوشل میڈیا کے اس دور میں اب کچھ دن کچھ لوگوں کے لیے مخصوص ہو رہے ہیں۔ اب دنیا بھر میں ہر سال باقاعدہ فادرز ڈے منایا جاتا ہے۔ جب تک خود فادر نہیں بنے تھے باپ کے رشتہ کو سمجھنا کافی مشکل تھا۔ گھر میں دیر سے آنے پر ڈانٹ، ہوم ورک نہ کرنے پر کچھائی، چھوٹی موٹی شرارت پر سرزنش، اور پھر ہمارے معاشرتی کلچر میں ہماری ماؤں نے ابا جی کو اچھا خاصا ولن بنا کر پیش کیا ہوتا ہے۔ خود تو اس بے چارے مرد سے ڈرتی نہیں البتہ اولاد کو ہمہ وقت باپ سے ڈرا کر رکھتی ہیں۔ باپ کے اس سارے رعب و دبدبے کے پیچھے ایک عجب طرح کا اپنی اولاد کے لیے انس ہوتا ہے ، پیار ہوتا ہے، شفقت ہوتی ہے، مروت ہوتی ہے۔ ماں اگر سراپا محبت و الفت اور رحمت ہے تو باپ اپنی اولاد کے لیے ایک شجر سایہ دار ہے۔ جو اولاد کو زمانہ کی سختیوں سے بچاتا، حالات کی سنگینیوں کو سہتا، مشکلات کا تن تنہا مقابلہ کرتا ، چہرے پر مسکراہٹ سجائے ،ہر قدم پر اپنے بچوں کی کامیابیوں پر نازاں اور شاداں امتداد زمانہ سے نبرد آزما آگے بڑھتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک زمانے میں one man show تھا اور اب بھی کافی حد تک ہے۔ اس ون مین شو کا ہیرو ہر خاندان میں باپ ہوتا ہے۔ جسکا واحد مشن اس گھر کا نظام چلانا، اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر فوکس رہنا اور اس مشن میں نہ وہ چوکتا ہے، نہ وقفہ کرتا ہے، نہ غافل ہوتا ہے اور نہ کوتاہی کرتا ہے۔ وہ تو ہمہ وقت ایک تنے ہوئے رسہ پر چلتا ہے۔ اولاد کی کامیابی اسے آکسیجن پہنچاتی ہے، وہ اولاد کو کامیاب دیکھ کر خود کو جوان محسوس کرتا ہے، توانا و چست نظر آتا ہے۔ اولاد کی طرف سے سکھ اور چین اور انکی کامیابی باپ کو زندگی کی تمام تلخیاں اور ترشیاں بھلا دیتی ہے۔ دنیا میں شاید باپ ہی وہ واحد ہستی ہے جو اولاد کو اپنے سے زیادہ ترقی کرتے دیکھنا چاہتی ہے۔ ورنہ باقی ہر طرف تو حاسدین کا جم غفیر ہوتا ہے۔۔ ماں اور باپ کے رویوں میں جو فرق میں نے محسوس کیا وہ بڑا دلچسپ ہے۔ ماں کو اپنے بچوں کی سیکورٹی ، حفاظت ، دیکھ بھال بڑی عزیز ہوتی ہے، وہ ہمہ وقت اپنے بچوں کے لیے دعاگو اور انکی خیریت کی فکر میں ہوتی ہے۔ باپ کے جزبات بھی بالکل اسی طرح کے ہوتے ہیں، وہ چونکہ باہر کی دنیا سے زیادہ واقف ہوتا ہے اسلئے وہ بچوں کی activities پر نظر رکھتا ہے، مگر اولاد کی کامیابی اور Wordly clout کو صرف باپ ہی appreciate کر سکتا ہے اور اسے انجوائے بھی۔ اولاد کی کامیابی باپ کو فتح کے ایک ایسے مسحور کن نشہ میں جکڑ لیتا ہے کہ الفاظ میں ان کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ ہر باپ اپنی اولاد کا ہیرو ہوتا ہے۔ باپ اپنی اولاد کے لیے ایک شجر سایہ دار کے ساتھ ساتھ، ایک بہترین دوست, غمگسار ساتھی، ہمہ وقت ایک چوکس نگہبان، اولاد کی خاطر اپنی خوشیاں قربان کرنے والا بے لوث انسان، مشکلات و مصائب سے تن تنہا نبرد آزما سپاہی، ایک ان تھک محنت کش، ایک مخلص صلاح کار، selfless اور بے ریا مجاہد، اور اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر تپش زمانہ میں باد نسیم کا جاں فزا جھونکا ہوتا ہے۔ باپ کی محبت ویسے تو بیٹے بیٹیوں کے لیے یکساں ہی ہوتی ہے مگر نجانے کیوں اسے بیٹیوں کی فکر زیادہ ہوتی ہے، شاید انہوں نے پرائے گھر جانا ہوتا ہے۔ بیٹیاں بھی باپ کے لیے زیادہ caring ہوتی ہیں۔ یہ جزبے بھی قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ ہیں۔ جن کو،الفاظ کے سانچوں میں پرونا شاید آسان نہین ہوتا۔ جن کے والدین زندہ ہیں انہیں غنیمت جانیں اور راضی رکھیں، جن کے دنیا سے رخصت ہوگئے اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ انکی بخشش و مغفرت فرمائے ۔



