28 مئی وہ دن جب 1998 میں پاکستان ایک ایٹمی قوت کے طور پر دنیا کے سامنے آیا۔ اس تاریخی کارنامے کے پیچھے کئی محب وطن سائنس دانوں کی برسوں پر محیط محنت کارفرما ہے، جن میں دو نمایاں نام سب سے آگے ہیں: ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور نظریاتی طبیعیات دان ڈاکٹر ریاض الدین۔ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا “انجینئر” کہا جاتا ہے، تو ڈاکٹر ریاض الدین وہ “معمار” تھے جنہوں نے اس پروگرام کی نظریاتی بنیادیں رکھیں، ایٹم بم کا ماڈل تیار کیا۔اسے سائنسی طور پر ممکن بنایا اور دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر پیش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے جب پاکستان کے ایٹمی پرگرام کو مؤثر بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کیں تو انہوں نے 20 جون 1972 کو ملتان میں منعقدہ اجلاس میں بیرون واندرون ملک سے مایہ ناز سائنسدانوں کو مدعو کیا تاکہ اس حوالے سے اہم مشاورت کی جاسکے۔اس اہم میٹنگ میں ڈاکٹر عبدالسلام ۔ڈاکٹر قدیر۔ڈاکٹر ریاض الدین۔ڈاکٹر منیر احمد ودیگر شامل تھے ملاقات کے بعد ڈاکٹر ریاض الدین، جو کیمبرج اور امریکہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) میں 1974 میں “تھیوریٹیکل فزکس گروپ” کی بنیاد رکھی۔ انہیں اس گروپ کا بانی ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اور ان کے ذمے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سائنسی اور نظریاتی رہنمائی تھی۔ وہ سائنسی ماڈلز، بلاسٹنگ تکنیک، اور ایٹمی ردِ عمل کی اندرونی میکانکس پر تحقیق کے ماہر تھے۔
ڈاکٹر ریاض الدین بیرونِ ملک تحقیق کے دوران کئی بین الاقوامی اداروں، خاص طور پر CERN (سوئٹزرلینڈ) اور انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس (ICTP)، اٹلی سے وابستہ رہے۔ ان تجربات اور عالمی اداروں سے سیکھے گئے جدید طریقۂ کار کو وہ پاکستان لے کر آئے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ان تکنیکس کو پاکستانی حالات کے مطابق ڈھالا اور ایک مضبوط تھیوریٹیکل فاؤنڈیشن فراہم کی۔
ان کی قیادت میں تھیوریٹیکل فزکس گروپ نے نہ صرف ایٹمی ہتھیاروں کی ساخت اور طاقت کے اندازے کا سائنسی خاکہ تیار کیا بلکہ انہوں نے پاکستان کا پہلا نیو کلیئر Cold Test بھی ممکن بنایا، جو 1983 میں سرگودھا کے کیرانہ ہلز کے مقام پر خفیہ طور پر کیا گیا۔ یہ تجربہ ایٹمی قوت کے حوالے سے ایک سنگِ میل تھا، جس نے پاکستان کی تیاری اور تکنیکی صلاحیت کو عالمی سطح پر واضح کیا۔
ڈاکٹر ریاض الدین کی ٹیم نے ایسے سائنسی سافٹ ویئر، فزکس ماڈلز، اور ڈیزائن ترتیب دیے جو پاکستان کے ایٹمی بم کی ساخت، اس کی اثرپذیری، اور تحفظات کو مدنظر رکھ کر تیار کیے گئے۔ انہوں نے “فزیکل بلاسٹ ماڈلز” اور “کمانڈ اینڈ کنٹرول فزکس” جیسے پیچیدہ نظریاتی مسائل حل کیے۔آپ نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطور ممبر ٹیک اور قائم مقام چیرمیں بھی خدمات انجام دیں۔سائنسی میدان میں ان کی ریسرچ جاری رہی اور انہوں نے پھر کئی سال بیرون ملک گزارے اور مزید تحقیق کے عمل کو آگے بڑھایا جس کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام کے کہنے پر وطن واپس آکر اہم سائنسی ادارے نیشنل سنٹر فار فزکس کی بنیاد رکھی اور اس اہم ترین سائنسی ادارے کے پہلے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوے اس دوران آپ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوے بیرون ملک سے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں کو پاکستان لاے اور مقامی سائنسدانوں کی عالمی معیار کی تحقیق سے روشناس کرایا۔

ڈاکٹر ریاض الدین کی قومی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں کئی اعلیٰ ترین سول اعزازات سے نوازا۔ ہلال پاکستان، ستارہ پاکستان اور تمغہ پاکستان ان میں نمایاں ہیں۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی خدمات کے اعتراف میں نواز شریف کے دور حکومت میں ہی سابق صدر رفیق تارڑ نے انہیں ہلال امتیاز سے نوازا۔بعدازاں سابق صدر پرویز مشرف نے بھی اپنے دور اقتدار میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔اس سے قبل بھی 1990 میں بھی حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز عطا کر چکی تھی ۔
۔یہ اعزازات نہ صرف ان کی قابلیت کا اعتراف تھے بلکہ قومی سطح پر ان کے کردار کو تسلیم کرنے کا عملی اظہار بھی ہے۔حکومتی اور سائنسی حلقوں میں تو اس ہیرو کو زبردست پزیرائی ملی عالمی ادارے آکسفورڈ نے انکی زندگی اور سائنسی خدمات پر انکے انتقال کے بعد کتاب بھی تحریر کی ہے لیکن عوامی حلقوں میں نوجوان نسل اس ہیرو کو کم ہی جانتی ہے یہ ستم ظریفی ہے کہ ہم نے اپنے اصل ہیروز کی بجاے ٹک ٹاکرز۔فلمی اداکاروں اور بہروپیوں کو اپنا رول ماڈل بنا رکھا ہے۔آج کے دن پوری قوم کو ڈاکٹر قدیر سمیت ڈاکٹر ریاض الدین کی سائنسی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنا چاہیےکیونکہ یومِ تکبیر صرف ایک دن نہیں، یہ پاکستان کی بقا، خودمختاری، اور سائنسی خودکفالت کی علامت ہے۔ اس دن ہمیں اُن عظیم دماغوں کو یاد کرنا ہے جنہوں نے خاموشی سے، کسی ذاتی مفاد کے بغیر قوم کی خدمت کی۔ ڈاکٹر ریاض الدین کا کردار “پس پردہ ہیرو” کا ہے جنہوں نے نہ صرف ایٹمی بم کے پیچھے سائنسی ڈھانچہ کھڑا کیا بلکہ کئی دہائیوں تک پاکستان کے نوجوان سائنسدانوں کو نظریاتی بنیادوں پر تربیت دی۔وہ آج ہمارے درمیان نہیں، لیکن ان کا کام، ان کا وژن، اور ان کی قربانی ہمیشہ پاکستان کی ایٹمی خودمختاری کا ستون بنی رہے گی۔



