مسعود اظہر 1968 میں پاکستان کے شہر بہاولپور میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور وہیں انہوں نے بنیادی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد انہیں 1980 میں کراچی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بھیج دیا گیا تعلیم مکمل کرنے کے بعد مسعود اظہر وہیں معلم مقرر ہوئے۔
1989 میں مسعود ازہر 40 روزہ تربیت حاصل کرنے کے لیے افغانستان گئے اور مستقل طور پر جہاد میں رہنے کا عزم کیا
مسعود اظہر عالمی جہاد کے قائل ہیں
انہوں نے انڈیا بنگلہ دیش سعودی عرب اور زمبیا کے علاوہ برطانیہ کے بھی دورے کیے۔ مسعود اظہر کو 1994 میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتار کیا گیا ان پر انڈیا میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا ۔
سی بی آئی کو دیے گئے بیان میں مولانا مسعود اظہر نے بتایا تھا کہ انہیں انڈیا اس لیے بھیجا گیا تھا تاکہ وہ زمینی حقائق کا جائزہ لیں۔
مسعود اظہر کا نام عالمی افق پر اس وقت ابھرا جب کشمیر میں 1995 میں چھ غیر ملکیوں کو اغوا کیا گیا اور اغوا کار گروپ نے اپنا نام الفاران بتایا اور مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا جسے انڈین حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
اس کے بعد انڈیا اور پوری دنیا کو مسعود اظہر کی طاقت کا پتہ اس وقت چلا جب 24 دسمبر 1999 کو کھٹمنڈو سے دہلی جانے والی انڈین ائیر لائن کو اغوا کر کے کندھار افغانستان میں اتارا گیا جہاں طالبان کی حکومت تھی۔ ہائی جیکروں نے طیارے میں سوار 155 مسافروں کی رہائی کے بدلے مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا اور 8 دن کے طویل مذاکرات کے بعد مولانا مسعود اظہر کے ساتھ عمر سعید شیخ اور ایک کشمیری مشتاق زرگر کو رہائی ملی
انڈیا میں گرفتاری سے قبل مولانا مسعود اظہر حرکت المجاہدین میں شامل تھے اور رہائی کے بعد کراچی میں اپنی جماعت جیشِ محمد کے قیام کا اعلان کیا۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دار الحکومت سری نگر میں بادامی باغ کے قریب فوجی ہیڈ کوارٹر پر 19 اپریل 2000 میں کار خودکش بَم حملہ ہوا اور تحریک کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلا خودکش حملہ تھا۔
انڈین حکام نے اس کا ذمہ دار جیش محمد کو قرار دیا۔
دسمبر 2001 میں دہلی میں انڈین پارلیمان پر حملہ کیا گیا اور ان کاروائیوں میں جیش محمد پر الزام دیا گیا۔
اس کے بعد کئی برس تک جیش محمد پر کوئی الزام نہیں آیا تاہم 2016 میں پٹھان کوٹے ائیر بیس پر حملے کے بعد اس تنظیم کا نام دوبارہ سامنے آیا اس کے بعد انڈیا نے 2016 میں مزار شریف میں انڈین کونسل خانے اور اُڑی میں فوج کے برگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے کا ذمہ دار بھی جیش محمد کو قرار دیا۔( مسعود اظہر اپنے ایک بیان میں انڈین فوج کی کشمیر میں ظلم اور بربریت کو دیکھتے ہوئے انڈیا کے سینکڑوں فوجی مارنے کا دعوی کرتے ہیں)
اس کے بعد پلوامہ میں خودکش حملے کے بعد دوبارہ جیش محمد اور مسعود ازہر پر الزام دیا گیا۔
انڈین پارلیمان پر حملے کے بعد امریکہ نے جیش محمد کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ایف ٹی او کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔ اس کے بعد انڈیا کی کوشش رہی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جیش محمد اور مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے تاہم چین اس کوشش کو ویٹو کرتا رہا۔
انڈیا بارہا پاکستان سے مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبدالرؤف اصغر کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور پلوامہ واقعے کے بعد یہ مطالبہ دوبارہ دہرایا گیا تھا تاہم اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی ٹی وی سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسعود اظہر اتنے بیمار ہیں کہ بستر سے اُٹھ بھی نہیں سکتے۔
پاکستان میں شدت پسندی کے امور پر تحقیق کرنے والے صحافی ماجد نظامی کے مطابق مسعود اظہر انڈیا کی جانب سے سب سے زیادہ مطلوب شخصیات کی فہرست میں شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانونی طور پر پاکستان میں درج کسی ایف آئی آر میں اُن کا نام نہیں ہے، تاہم مشرف دور میں اور اس کے بعد پٹھان کوٹ حملے کے بعد انھیں حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا لیکن وہ کسی ایف آئی آر کی بنیاد پر نہیں تھا۔
جنوری 2016 میں پنجاب حکومت نے جیش محمد کے دفاتر سیل کر کے مسعود اظہر کو حفاطتی تحویل میں لیا۔



