حرف حق / حافظ شفیق الرحمن
کنگلے ، فقرے ، نادار ، جنم جنم کے بھوکے ، بے در ، بے زر اور بے پر وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں ایک صدارتی ارڈیننس کے ذریعے 140 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کا اطلاق یکم جنوری 2025 سے ہوگا۔ یعنی وہ پانچ ماہ کی اضافہ شدہ بھاری بھرکم تنخواہیں قومی خزانے سے وصولنے ، بٹورنے اور ہتھیانے میں کامیاب رہیں گے۔ قومی خزانہ نہ ہوا حلوائی کی دکان ہوگئی جہاں یہ وفاقی وزراء اپنے ننھیال اور دودھیال کی فاتحہ بہ یک وقت اور یک مشت پڑھتے دکھائی دیں گے۔ انتہائی عجلت میں چھٹی کے دن کیا گیا یہ اضافہ یقینا حیران کن ہے۔ ملک و قوم حالت جنگ میں ہیں اور فارم 47 میڈ ان وزراء کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔ اس لٹیرا حکومت کی وفاقی کابینہ کے وزراء کا واحد نصب العین یہی ہے کہ ” لٹو اور فٹو”
ان لوگوں کی ہوس زر ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ سچ کہا تھا قران نے کہ تم لوگوں کو کثرت زر کی ہوس نے قبر کے کناروں تک پہنچا دیا۔ ان کی حد سے بھری ہوئی بھوک کا تدارک تو صرف اور صرف قبر کی مٹی ہی کر سکتی ہے۔



