عابد حسین قریشی
گاؤں کے ایک کسان نے اپنی بیمار بھینس کے لئے کسی مقامی سنیاسی باوا سے دوا لی۔ اور دوا کھاتے ہی بھینس مر گئی۔ کسان شکایت کرنے اس سنیاسی باوا کے پاس پہنچا تو سنیاسی نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ بھینس تو میری بھی اسی دوا سے ہی مری تھی۔ ہمارے ہاں آپ کسی سے اپنی کسی بیماری کا ذکر کریں، سننے والا فوری طور پر حکمت سے لیکر ہومیوپیتھی اور اپنی طرف سے ہر طرح کی antibiotics تجویز کر دے گا۔ بیمار پہلے ہی پریشان ہوتا ہے، اس طرح کے مشورے اسے مزید پریشان کر دیتے ہیں۔ پاکستان ایسا خوبصورت ملک ہے، کہ آپکو ہر موقع بموقع مفت مشورہ ملے گا۔ آپ کچھ نہیں کر رہے، تو کسی سماجی تقریب میں بیٹھے بیٹھے آپ کروڑ پتی بن سکتے ہیں۔ آپ منٹوں میں دکان سے فیکٹری اور امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ آپ مکان بنا رہے ہیں، ہر گزرنے والا اس مکان میں اپنی مرضی کا اضافہ یا ترمیم کرانے پر بضد ہو گا۔ آپ کسی بچے کو سکول داخل کرانا چاہتے ہیں، مدرسہ سے بیکن ہاوس تک ہر طرح کے سکول میں داخلہ کے ظاہری و مخفی فوائد سے آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ جسکا گھر میں ہر وقت جھگڑا چل رہا ہوگا ممکن ہے، کہ اہلیہ محترمہ دست و گریبان پر بھی آمادہ ہوں، وہ آپکو پر سکون اور پر لطف خاندانی زندگی کے سارے اسرار و رموز بتانے پر مصر ہوگا۔ بعض اوقات ہم سارے وہ مشورے اور تجربات لوگوں کو دیتے ہیں، جن میں ہم خود ناکام ہو چکے ہوتے ہیں۔ مگر ظاہر یہی کرتے ہیں، کہ یہ سب کچھ ہماری ہڈ بیتی ہے۔ حالانکہ بعض اوقات یہ ہڈ بیتی بڑی خطرناک بلکہ شرمناک بھی ہو سکتی ہے۔ کہتے ہیں کسی نیم حکیم نے پاگل پن کی دوا تیار کی۔ کسی نے پوچھا حکیم صاحب آپ نے اس دوائی کا کوئی تجربہ بھی کیا ہے، انہوں نے برجستگی سے جواب دیا، جی میں نے خود کھائی ہے۔ ہم بھی گاہے اسی پاگل پن کی دوائی خود کھا کر لوگوں کو پاگل پن سے بچنے کے مشورے دیتے ہیں۔ ہماری حکومت کو ایک وزارت مشورہ بھی رکھ لینی چاہیئے، جسکا کام مشورہ دینا نہیں بلکہ لوگوں کو مفت مشورے دینے سے روکنا ہو۔ اس معاشرہ میں مشورہ وہی بہتر ہوتا ہے جو معاوضہ یا فیس لیکر دیا جائے۔ اس وقت ملک جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ہمارے میڈیا پر لوگ حکومت کو رنگ برنگے مشورے دے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگ جنگ سے خوف کھانے کی بجائے طرح طرح کے لطائف پوسٹ کر رہے ہیں۔ ہم کیا قوم ہیں، جنگ کو بھی غیر سنجیدہ انداز سے دیکھ رہے ہیں ۔ دوسری طرف انڈین میڈیا پاگل پن اور ہزیانی کیفیت کا شکار ہے۔ وہ صرف اپنی حکومت کو پاکستان پر حملہ کرنے پر اکسا ہی نہیں رہا بلکہ جنگ شروع کرنے کا حکم بھی صادر کر رہا ہے۔ لگتا ہوں ہے، کہ یہ جنگ اگر ہوئی تو میڈیا کے خوف یا اسکو راضی کرنے کے لئے ہوگی۔ویسے جنگ پاگل پن کا ہی دوسرا نام ہے۔ انڈیا نے ہمارا پانی بند کرتے وقت ایک لمحہ کے بھی نہیں سوچا کہ کیا دریا کبھی الٹے بھی بہے ہیں۔ دریا بند کرنے سے پانی اپنے ہی علاقوں میں پھیلے گا۔ ایک دوماہ میں مون سون شروع ہونے والا ہے، اتنا زیادہ پانی اگر مودی سمیت ساری انڈین قوم دن میں تین مرتبہ بھی نہائے تو پھر بھی پانی کافی سارا بچ جائے گا۔ پھر یا انکے اپنے شہر ڈوبیں گے یا ہماری طرف طغیانی آئے گی۔ ایک بات کی سمجھ ہی آج تک نہ آسکی، کہ لوگ نقصان ہونے یا کرنے کے بعد ہی کیوں سوچتے ہیں۔ یہ نقصان بھی دو طرفہ تماشا ہے۔ بعض اوقات کسی کا کرتے کرتے اپنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ ہر بات پر غصہ کرنا، ہر ناپسندیدہ بات کا جواب دینا، ہر بات پر react کرنا، ہر کسی کو سبق سکھانے کی کوشش کرنا، ہر وقت اضطراری اور اضطرابی کیفیت میں رہنا، دوسروں سے زیادہ اپنا نقصان کر جاتا ہے۔



