عابد حسین قریشی
تاریخ انسانی بتاتی ہےکہ دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف حکمران خاندانوں نے سینکڑوں برس حکومتیں کیں۔ مگر سوائے جنگ و جدل اور عروج و زوال کی داستانوں کے تاریخ کے جھرنوں میں اور کچھ بھی نہیں ملتا۔ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور کچھ دیگر نبی اور پیغمبر سیکنڑوں سال تبلیغ میں مصروف رہے اور انکی قوموں نے ہر قدم پر انکے راستوں میں روڑے اٹکائے۔ اور پھر جب بات حد سے بڑھی تو قدرت نے ان پر عذاب نازل کیا اور کچھ پانی کی نزر ہوئے تو کچھ پر اینٹوں روڑوں کی برسات اور کچھ کی بستیاں ہی الٹ دی گئیں۔
ادھر صحرائے عرب میں جب کفر و الحاد، بت پرستی اور بد اخلاقی عروج پر پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس سر زمین عرب پر رحم آتا ہے اور وہ دعائے ابراہیم علیہ السلام کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے انہی عرب کے لوگوں میں ایک نبی اور رسول مبعوث فرماتا ہے۔ جو رحمت العالمین بن کر نہ صرف صحرائے عرب کی بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کی کایہ ہی پلٹ دیتا ہے۔ اور نبوت کا تاج جوکہ در حقیقت آخری نبی اور رسول کا تاج تھا وہ کس شان اور کس حکمت سے حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر سجتا ہے، کہ چالیس سال تک آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم انہی کفار میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ مکہ کے یہ در یتیم بچپن میں بکریاں بھی چراتے ہیں، نوجوانی میں تجارت بھی کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ میں رہ کر ایک الگ پہچان اور شناخت بناتے ہیں۔ ان چالیس سالوں میں اپنوں یا غیروں نے آپکی زندگی میں نہ کوئی جھول دیکھا نہ کوئی کجی۔ بلکہ جب اعلان نبوت فرمایا تو سبھی نے بیک زبان کہا کہ محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم صادق اور امین ہیں۔ اتنی بلند کرداری، اخلاق کی معراج، پاک دامنی, لین دین میں اعتبار ، وعدوں کا بھروسہ، معاملات میں شفافیت، انسانی اور اخلاقی اقدار کی پاسداری، طبیعت میں وضع داری اور انکسار، غریبوں اور یتیموں کے حقوق کی پاسداری حسن اخلاق سے قول و عمل کی آبیاری، مخلوق خدا کی دلداری، مشکل میں اپنوں اور غیروں کی غمگساری، اور ہر وقت یوں لگتا تھا کہ کسی بڑے مشن کی ہے تیاری، کہ جنہیں آخرت اس دنیا سے تھی پیاری، محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت سے اپنے وصال تک صرف 23 سال میں جی صرف 23 سال میں انسانی قلب و ذہن پر، انسانی سماج اور رویوں پر، انسانی معاشرت اور معیشت پر،دین مبین اور اسکے متعین کردہ راستوں پر، قرآن کریم کے دیئے گئے ضابطہ حیات پر، ایک ایسا سحر انگیز اور دلنشین بلکہ تاریخ ساز انقلاب برپا کر دیا، کہ قیامت تک نہ کسی مزید ہدایت کی ضرورت رہی نہ اس سے بہتر اسوہ حسنہ ممکن ہو سکا اور اللہ تعالٰی نے نبوت اور رسالت کے سارے دروازے بھی بند کردیئے۔ سخت مشکلات میں، سیل حوداث میں، زندگی کے کٹھن ترین لمحات میں، حتیٰ کہ مکہ سے ہجرت کرتے ہوئے بھی اپنے تعاقب میں لگے دشمنوں کو بھی نہ بد دعا دی نہ کسی عزاب کی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔
محسن انسانیت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے بعد جس طرح نہایت مختصر وقت میں انسانی سوچ نے ایک تبدیلی محسوس کی، وہ باد نسیم کا وہ پر لطف اور سحر انگیز ایک جھونکا ہی تو تھا۔ جس نے اپنی مہک اور خوشبو سے اس کائنات کو معطر کر دیا۔ دنیا انگشت بدنداں تھی کہ کیسے ایک بوریا نشین نے انسانیت کی کایا ہی پلٹ دی۔ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا۔ایک فرد واحد نے اپنی کوشش و کاوش سے مشکلات اور مخالفتوں کے پہاڑ سر کرتے ہوئے اپنی بصیرت افروز قیادت میں اپنے جانثاران کا ایک ایسا گروہ تشکیل دیا، جو میدان جنگ میں اور حالت امن میں بھی اپنے لیڈر اور نبی مکرم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے محض ایک اشارے پر تن من ،دھن نچھاور کرنے کو سعادت سمجھتے تھے۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ صحرائے عرب کے یہ بوریا نشین بے سروسامانی کے باوجود روم اور ایران کی بادشاہتوں سے بھی ٹکرائے اور انکی ساری نخوت اور تکبر کو پاش پاش کر دیا۔
مسلمان اس دنیا پر اس وقت تک حکمرانی کرتے رہے جب تک وہ نبی آخرالزمان صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوے راستہ اور اصولوں کی پاسداری کرتے رہے۔ جب تک وہ سر بکف رہے موت ان سے ڈرتی رہی، مگر جب انہوں نے اپنے نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں اور قرآن کریم کے بتائے ہوئے راستہ سے روگردانی کی تو شکست انکا مقدر ٹھہرئ، حزیمت اور مایوسی نے انہیں گلے لگایا۔ دنیا کی مال و دولت اور جاہ و منصب کی دوڑ میں سارے اخلاقی اور جرات و شجاعت کے اصول پامال ہوئے۔ نتیجہ سامنے ہے، آج دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان اس کرہ ارض پر موجود ہیں، مگر نہ انکی کوئی آواز ہے ، نہ ساکھ، نہ جرآت نہ پرواز، نہ سوز ہے نہ ساز، نہ حمیت ہے نہ عزت۔ چند لاکھ پر مشتمل اسرائیلی ریاست نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو آگے لگایا ہوا ہے۔ کاش کے یہ قوم اپنے نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کریم کے بتائے ہوئے راستہ سے روگردانی نہ کرتی۔ وہ انقلاب جو صرف 23 سال کی زندگی میں وہ بھی تیرہ سال تو کفار مکہ کی ریشیہ دوانیوں اور چیرہ دستیوں سے نبرد آزما ہوتے گزر گیا اور ریاست مدینہ کا عہد نبوی تو صرف دس سالوں پر محیط تھا، مگر جب لیڈر شپ مخلص ہو، بلند نگاہی اور مقاصد متعین ہوں، ذاتی اغراض اور مال و دولت اور جاہ منصب کی خواہش غالب نہ ہو، تو پھر انسانیت کی کایا یوں ہی پلٹتی ہے۔ آج بھی دنیا اور آخرت میں سرخروئی کے لئے آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہی واحد کسوٹی اور راستہ ہے۔



