عابد حسین قریشی
یہ تو علم نہیں، کہ قدرت جب انسان بنانے کا خاکہ تیار کر رہی تھی تو ماں کے لئے استعمال ہونے والا میٹریل کہاں تیار کرا رہی تھی۔ ایسا میٹیریل جو بے لوث پیار، خلوص، محبت ، شفقت، ایثار، قربانی، صبر،شکر، رضا، احسان پر مشتمل تھا۔ اس جسد میں قدرت نے دل کہاں سے تیار کروایا ہوگا، جو سب انسانوں سے منفرد اور یکتا ہو، جو کیف و سرور سے لبریز اور ماں کی ممتا کے سوز و گداز میں گدا ہو, مگر وہ تو مالک ارض و سما ہے۔ جو کائنات کے سارے رازوں سے آشنا ہے۔ وہ رحیم و کریم ہستی ماں جیسی نایاب و بے مثل تخلیق پر مسرور تو ہوا ہوگا، اسے ماں کا رشتہ تخلیق کرتے ہوئے، یہ اطمینان بھی ہوا ہوگا، کہ لوگ اگر دنیا میں رب کا روپ دیکھنا چاہیں گے، تو ماں کو دیکھ کر اپنے رب کی رحیمی اور کریمی کا اندازہ کر لیا کریں گے۔ حضرت علامہ اقبال نے اپنی ساری شاعری میں تقدیر کی بجائے تدبیر پر زور دیا۔ کہ۔ تقدیر کے پابند ہیں، نبادات و جمادات، مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند۔ مگر جب علامہ اقبال کی والدہ محترمہ وفات پاگیئں تو انہوں نے “والدہ مرحومہ کی یاد میں ” ایک بڑی شہکار نظم لکھی، مگر اسکا پہلا شعر ہی تقدیر کے سامنے سرنگوں ہوئے یوں کیا۔ ذرہ ذرہ دہر کا زندانئ تقدیر ہے۔ پردہء مجبوری و بے چارگی تدبیر ہے۔ آج اپنی والدہ محترمہ کی وفات پر میرے بھی وہی جزبات ہیں، کہ موت اٹل ہے، اسکا وقت مقرر ہے اور یہ کسی حیلے بہانے سے ٹل نہیں سکتی، اس دنیا میں نہ کوئی اپنی مرضی سے آتا ہے نہ اپنی مرضی سے جاتا ہے۔ مگر میرا معصومانہ سا سوال یہ ہے، کہ کیا ماں بھی مر جاتی ہے۔ اپنے بچوں کو پیدا کرنے، زمانہ کی تپش سے بچاتے، پالتے پوستے، تعلیم و تربیت کرتے، خود بھوکا رہ کر بچوں کو کھلانے کا ہنر جاننے والی ماں کیا مر بھی سکتی ہے۔ گھر میں بڑا ہونے کے سبب مجھے اپنے بچپن کا سارا دور یاد ہے، اس میں وہ چند سال بھی شامل ہیں، جن میں ہم نے زندگی کا بہت ہی کٹھن روپ دیکھا اور بگھتا ۔ مگر میری ماں صبر و رضا کی پیکر بن کر ہمارے گرد ہالہ بنائے چٹان کی طرح کھڑی رہیں۔ انہوں نے ہماری تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اپنی بہت سی خواہشات ہماری چھوٹی موٹی خوشیوں پر قربان کر دیں۔ بڑی سادہ مگر پر وقار زندگی بسر کی۔ خود صرف قرآن پاک پڑھ سکتی تھیں۔ مگر تعلیم کی محبت سے سرشار، ہاتھ کی سخی کہ جو کچھ بھی ہاتھ لگا تقسیم کر دیا۔ کبھی اپنی اولاد سے نہ کوئی مطالبہ کیا نہ ہاتھ پھیلایا ۔ رشتوں کے تقدس میں یقین رکھنے والی۔ میری والدہ کے 40/ 42 کزن تھے، جن میں سے آدھے سے زیادہ دنیا سے رخصت ہو چکے۔ وہ عمر میں ان سب سے بڑھی اور سب کی چہیتی آپا تھیں۔ بلکہ پورے گاؤں کی آپا تھیں۔ ہر لمحہ صبر و رضا کے ساتھ اپنے بچوں کے لئے دعاگو،95 سال کی عمرمیں آخری دنوں میں سخت بیماری کے دوران ایک دن مجھے کہنے لگیں، میں نے آپ لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ اماں جی، سنا ہے، جب میں ڈیڑھ دو سال کا تھا، تو سخت بیمار ہو گیا تھا اور میرے بچنے کی کوئی امید نہ تھی، تو جب ڈاکٹر بھی نا امید ہوگئے تو آپ مجھے پیروں فقیروں کے پاس بھی لیکر جاتی رہیں اور سارا دن بسوں میں دھکے کھاتی رہیں، تو کیا آپ نے مجھے لا علاج سمجھ کر پھینک دیا تھا، کہ آج آپ کو نظر انداز کر دیں۔ میرا ہاتھ پکڑ کر چومنے لگیں۔ زندگی کے وہ تمام ماہ و سال آنکھوں میں فلم کی طرح گھومتے رہے، کہ جب بھی دوران سروس گاؤں کا چکر لگتا، تو کس والہانہ انداز میں وہ میرا اور میری اہلیہ کا استقبال کرتیں۔ رخصت کرتے وقت میرا ماتھا چومتیں۔ ساری زندگی اپنے سارے کام خود کئے، مگر زندگی کا آخری سال بستر پر گزارا۔ مگر بڑے صبر اور حوصلہ سے۔ میری اہلیہ نے سال بھر جس طریقہ سے میری ماں کی خدمت کی، قابل رشک تھا۔ میں جب بھی انکے کمرا میں جاتا بآواز بلند اماں جی کی حال اے، جواب آتا اللہ کا شکر ہے۔اور میرے ہاتھ پکڑ کر چومنے لگتیں۔ یہ فقرہ اسوقت بھی کہا جب نزع کی بے خوشی طاری ہونا شروع ہو چکی تھی۔ ماں خواہ جوان ہو یا بوڑھی، اسکے دنیا سے اٹھ جانے پر اولاد کے لئے اندھیرا ہی چھا جاتا ہے۔ 65 سال سے زائد کی رفاقت کی کون کونسی یاد کی آنچ جلائیں۔کہتے ہیں ماں تو قبر کے اندر بھی اولاد کے لئے سراپا رحمت ہی ہوتی ہے۔ دفنانے کے بعد آج ماں جی کی قبر پر حاضری دی تو اسی طرح پوچھا کہ اماں جی کی حال اے۔ دل کو سکون سا ملا کہ ماں قبر میں آسودگی اور راحت میں ہی ہے۔ دوران سروس میرے قریبی دوست مجھے کہا کرتے کہ تمہارے پیچھے دعاؤں کا کوئی مضبوط ہالہ ہے۔ میں کہتا میری ماں زندہ ہے۔ آج وہ ماں ساری دعائیں اپنے ساتھ لے گئی، میں نے بھرپور زندگی گزاری، ماں کی دعائیں ہمہ وقت ایک حفاظتی حصار میں رکھتیں ، آج میں صرف ان دعاؤں سے ہی محروم نہیں ہوا لگتا ہے بھری دنیا میں اکیلا رہ گیا۔ ابھی تک یہ سمجھ نہیں نہیں آرہا کہ یہ کیسے مان جاوں کہ ماں بھی مر سکتی ہے۔ کیا کبھی اللہ کی رحمت بھی دنیا سے ختم ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالٰی میری والدہ مرحومہ کی آخروی منازل آسان فرمائے۔ اور انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔



