عابد حسین قریشی
(ر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج۔ محترم منیر لونگی صاحب۔ آپکی چٹی شیخاں کے لئے سماجی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ آپ لندن مں بیٹھ کر بھی فیس بک پر ہر لمحہ متحرک ہیں۔آپکی لونگی برادری بھی چٹی شیخاں کی ایک ممتاز اور مخیر برادری تھی۔ آج آپکی وال پر چٹی شیخاں کی تاریخ کے بارے میں کچھ پڑھا۔ اس میں تاریخی حقائق کے ساتھ کچھ اضافہ کی ضرورت ہے۔ تاریخی طور پر مختلف کتابوں کے حوالے سے چٹی شیخاں اور قریشی فاروقی برادری کا تعارف میں نے اپنی کتاب “عدل بیتی” میں مختصراً کرایا ہوا ہے۔ ہے۔ ویسے تو اس گاؤں میں آباد ساری برادریاں اور قومیں ہی قابل احترام اور قابل رشک ہیں۔ اور انکا اس قصبہ کی فلاح و بہبود اور تعلیمی و سماجی طور پر بڑی قابل فخر شناخت ہے۔ مگر بات چونکہ تاریخی حوالہ سے ہو رہی ہے، اسلئے نئی نسل کو چٹی شیخاں کی تاریخ سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ چٹی شیخاں ایک قدیمی گاؤں ہے اور غالباً یہ آٹھ نو سو سال یا اس سے بھی پرانا گاؤں ہے۔ جو اب ایک ماڈرن قصبہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسکا پرانا نام گجر برادری کی ایک زمیندارہ عورت چٹی کے نام سے تھا۔ اور بعد ازاں آج سے کوئی چار ساڑھے چار سو سال قبل شیخ بدر الدین سلیمان چشتی فاروقی جو بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ علیہ کے پڑپوتے تھے اور چشتیاں سے اس گاؤں میں آکر آباد ہوئے، انکے آنے کے بعد اس گاؤں کا نام چٹی شیخاں پڑ گیا۔ شیخ عربی زبان میں عزت اور بزرگی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ بابا جی کی عزت و توقیر میں ہی ایسا ہوا ہوگا۔ اور پھر اس گاؤں میں بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمت اللہ علیہ کی اولاد آباد ہوتی چلی گئی۔ بابا جی شیخ بدر الدین سلیمان چشتی رحمت اللہ نے چٹی شیخاں میں “قلعہ” پر رہائش رکھی۔اور قلعہ والی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ اسے ہمارے بچپن میں “”باوا تھڑا ” بھی کہتے تھے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ شادی والے روز ہر دلہا قلعہ پر جاکر “باوا تھڑا “پر سلام کرتا تھا۔جو رسم اب متروک ہو چکی۔ اب اس جگہ خوبصورت مسجد ہمارے مرحوم چچا مبارک قریشی صاحب نے بنوا دی ہوئی ہے۔ مغلیہ دور میں چٹی شیخاں ایک باقاعدہ ریاست بن چکا تھا۔ ۔ اور ہمارے دگڑ دادا نواب رضا فاروقی قریشی اسکے پہلے حکمران بنے۔ یہ وہی نواب رضا ہیں جنہوں نے وزیرآباد کے معروف چھٹہ خاندان کے زمیندار چوہدری پیر محمد چھٹہ سے مل کر سکھوں کے ناجائز قبضہ میں آئے ہوئے تبرکات نبوی و اہل بیت اطہار علیہ السلام ، زر کثیر ادا کرکے واگزار کرائے۔ ان میں سے کچھ آج بھی قلعہ پر ہمارے دادا کے بھائی میاں نزیر قریشی مرحوم کی اولاد کے پاس محفوظ اور مرجع خلائق ہیں اور باقی بادشاہی مسجد لاہور میں موجود ہیں۔انگریز سرکار نے 1864 کے لگ بھگ جب زمینوں کا ریکارڈ مرتب کرانا شروع کیا تو نواب رضا فاروقی قریشی مثل حقیت 1864 کے مطابق چٹی شیخاں میں ایک ہزار ایکڑ زمین کے مالک تھے۔ اس گاؤں میں آباد قریشی فاروقی برادری جو کہ تین ساڑھے تین سو گھرانوں پر مشتمل ہے یہ اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔اور اسی زمین پر قابض و متصرف رہے۔ نواب رضا فاروقی کی اولاد میں بہت سے نامور لوگ پیدا ہوئے، لیکن میرے پڑدادا میاں محمد حسین قریشی فاروقی سفید پوش قیام پاکستان سے پہلے اور میرے دادا محمد سرور نبمردار قلعہ والے قیام پاکستان کے بعد علاقہ کی معروف شخصیات تھیں جنہوں نے اس گاؤں کی ترقی اور سماجی بہتری کے بڑا کام کیا۔ اسی خاندان سے قریشی محمد یعقوب ذیلدار چٹی شیخاں سے ملحقہ 36 دیہات پر مشتمل ذیل کے ذیلدار تھے۔ اور علاقہ کی معروف شخصیت تھے۔ اور ہمارے بزرگ پیر غلام فرید قریشی فاروقی مبلغ اسلام کی خدمات تو ترویج اسلام اور تحریک پاکستان میں اس قدر نمایاں ہیں کہ نواب مدوٹ اور ممتازدولتانہ جیسی شخصیات بھی پیر صاحب کی شخصیت کے سحر میں گرفتار رہیں۔ پیر غلام فرید مرحوم نے اپنی شعلہ بیانی کے سبب کئی دفعہ انگریز سرکار کی قید و بند بھی برداشت کی۔ وہ میرے والد مرحوم صابر حسین قریشی نمبردار کے حقیقی ماموں بھی تھے۔ چٹی شیخاں کے پہلے PHD سکالر ڈاکڑ جنید اقبال قریشی جو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایک عرصہ تک منسلک رہے وہ پیر صاحب کے پوتے ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلےاس علاقہ کے پہلے ایم بی بی ایس ڈاکڑ فضل الہی چشتی بھی اسی برادری کے نامور فرزند تھے۔ جن کے پوتے آجکل ڈائیو ٹرانسپورٹ اور کے الیکٹرک سمیت بہت بڑے بزنس کے مالک ہیں۔ محکمہ مال سے تحصیلدار عبداللہ قریشی، محمد رفیق قریشی اور خادم حسین قریشی، دینی تبلیغ میں حاجی خورشید قریشی، انکے بیٹے صوفی ادریس قریشی، صوفی اعجاز انور فریدی، حاجی عبدالواحد قریشی اور سید امین شاہ مرحوم قابل ذکر ہیں۔ شعبہ تعلیم میں اس قصبہ کا بڑا رول ہے۔ ڈاکٹر جنید قریشی اور آسٹریلیا میں مقیم ڈاکٹر خالد فاروقی ، آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر رشید بھٹی، صابر حسین قریشی، پزیر احمد قریشی،غلام فرید فاروقی ، ماسٹر وددود قریشی، مرزا علی محمد، لاہور سنٹرل ماڈل سکول کے سائنس ٹیچر سلیم قریشی، سید ظہور حسین کاظمی اور انکے بھائی سید دلدار حسین شاہ، ماسٹر بشیر قریشی ، انکے بیٹے سمیع قریشی اور انکے بھائی ریٹائرڈ پرنسپل پروفیسر اشفاق قریشی اور انکے علاوہ بے شمار لوگوں نے تعلیمی شعبہ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ممتاز نیوکلیر ساینٹسٹ ادریس لونگی کا تعلق بھی اسی قصبہ سے ہے۔ نوجوان نسل کی کامیابیاں اور کامرانیاں تو قابل رشک ہیں ۔ خالد حسین قریشی ایڈووکیٹ سابق صدر سیالکوٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور قریشی برادری کے پہلے چیرمین یونین کونسل کورپور کا اس قصبہ کی تعلیمی اور سماجی شعبہ میں خدمات قابل رشک ہیں۔ لاہور میں ملک کے معروف سائبر لاز ایکسپرٹ زین علی قریشی ایڈووکیٹ بھی اسی قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔انکے چھوٹے بھائی حسن عابد اسسٹنٹ کمشنر کسٹمز چٹی شیخاں کے پہلے سی ایس پی آفیسر ہیں۔اسی قصبہ سے پاکستان آرمی اور نیوی میں بھی کافی لوگ اعلٰی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ جن میں ایڈمرل ارشد منیر چشتی، یبریگیڈیئر سلیم قریشی، بریگیڈیئر یونس قریشی۔ کرنل ارشد نزیر چشتی فاروقی،آئی ایس آئی کے کرنل نعمان قریشی،کرنل جاوید چشتی، کرنل الیاس گھمن، کرنل قیصر مصطفٰی بٹ، میجر اشتیاق متین وغیرہ نمایاں ہیں۔ شعبہ طب میں بھی چٹی شیخاں کا کافی contribution ہیں۔ بریگیڈیئر سلیم قریشی، اور عظیم قریشی اور بریگیڈیئر ڈاکٹر یونس قریشی کے علاوہ کرنل ڈاکٹر پرویز قریشی۔ ڈاکڑ وحید بھٹی، پنڈی سے معروف آئی سرجن ڈاکٹرٹیپو قریشی، لاہور سروسز ہسپتال کے ماہر سرجن ڈاکٹر طاہر ایوب قریشی، سیالکوٹ سے ڈاکٹر ہادی اور ڈاکٹر یعقوب اور انکے علاوہ بیسیوں ینگ ڈاکڑز اور لیڈی ڈاکٹرز اسی قصبہ سے ہیں۔موجودہ ایس ایچ او تھانہ بمنبوالہ پیرزادہ ادریس قریشی بھی اسی قصبہ سے ہیں۔ معروف کالم نگار ادیب اور شاعر طارق بٹ شان اور مقامی جماعت اسلامی کے امیر صغیر قریشی بھی اسی قصبہ سے ہیں۔ چٹی شیخاں میں حکیم برادری بھی آباد ہے ، جو مغلوں کے شاہی طبیب ہونے کی بنا پرصاحب ثروت اور بارسوخ لوگ تھے۔ ان میں حکیم محکم دین قریشی بڑے مخیر انسان تھے۔ بریگیڈیئر ڈاکٹر سلیم قریشی، انکے بھائی ہولی فیملی ہسپتال کے سابق ایم ایس ڈاکڑ محمد عظیم قریشی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز باو محمد بشیر قریشی اور محمد انور قریشی، اور اس علاقہ کے پہلے تھانیدار SHO نزیر قریشی مرحوم یہ سبھی حکیم برادری کے نامور سپوت تھے۔ چٹی شیخاں کی متزکرہ بالا تاریخ اور ان ساری باتوں کے لئے مصدقہ حوالہ جات کے لیے مختلف تاریخی کتب جن میں “تاج العارفین” از پیر اجمل چشتی، جواہر فریدی از مولانا اصغر علی چشتی، اولاد گنج شکر از پیر غلام فرید فاروقی قریشی، سیالکوٹ گیزیٹئر مرتبہ 1922، تحریک پاکستان میں سیالکوٹ کا کردار از خواجہ محمد طفیل “” شامل ہیں۔ مشہور افسانوی قصہ مرزا صاحباں کو شاعری کا رنگ دینے والے معروف پنجابی شاعر حافظ برخوردار بھی چٹی شیخاں میں بسلسلہ تحصیل علم مقیم رہے اور یہیں ہمارے آبائی قبرستان میں مدفون ہیں۔ پاکستان میں والی بال کے کھیل میں اس قصبہ کا بڑا رول اور نام ہے۔ اور ہماری قومی والی بال ٹیم کے تین کپتان( ر) DSP مظہر فرید قریشی,( ر) کرنل قیصر مصطفٰی بٹ اور سب انسپکڑ زمان بٹ بھی اسی چٹی شیخاں سے ہیں۔ صحافت و ٹی وی رپورٹرز میں اس گاؤں سے روزنامہ جنگ کے سینئر ایڈیٹر اور صحافت کی دنیا سے پچاس سال سے زائد وابستہ رہنے والے مرحوم ایم طفیل (پا طفیل) کا تعلق بھی اسی قصبہ سے تھا۔ انکے بیٹے معروف صحافی اور اینکر مظہر طفیل اور سیالکوٹ سے مقامی صحافی و ٹی وی رپورٹرز نوازش قریشی اور کلیم چشتی بھی اسی قصبہ چٹی شیخاں سے ہیں۔لیسکو کے XEN رضوان قریشی اور انکے بھائی ڈاکڑ کامران کا تعلق بھی اسی قصبہ سے ہے۔ نوجوان انجینیرز فیصل مخدوم قریشی اور دوبئی میں مقیم فرحان اعجاز قریشی بھی یہیں سے ہیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر حارث شفیق قریشی۔ نوجوان قانون دان تیمور قریشی اور سیالکوٹ بار کے عادل بٹ ایڈووکیٹ کا تعلق بھی چٹی شیخاں سے ہے۔ میں نے اپنی یاد داشت کے سہارے یہ سب کچھ لکھا ہے۔ اسلئے ممکن ہے سب لوگوں کا ذکر نہ ہو سکا ہو۔ خیر اندیش۔ عابد حسین قریشی (ر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج۔ جسے چٹی شیخاں کی دھرتی سے تعلق ہونے پر فخر ہے۔



