اسلام آباد(نیشنل ٹائمز ) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے عزم استحکام آپریشن کی ضرورت پڑی، آپریشن عزم استحکام سے ہمیں ملک کو محفوظ بنانا ہے لیکن طالبان کو لانے والے آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔اپوزیشن کو شیڈو بجٹ دینا چاہیے تھا، انہوں نے بجٹ پڑھے بغیر تنقید کی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ جو دہشت گردی کی لہر ہے، اس کی وجہ سے عزم استحکام آپریشن کی ضرورت پڑی ہے۔ ہفتے کو عزم استحکام کی منظوری ہوئی، عزم استحکام کابینہ میں بھی آیا اور ایوان میں بھی، سوال تو یہ ہے کہ طالبان کو کون واپس لے کر آیا تھا، گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی بحث کون لایا تھا، میت گھر آتی ہے تو کہرام کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان کو واپس لائے، انہوں نے کہا کہ جب کسی سپاہی اور فوجی کے سینے پر گولی لگتی ہے تو گولی پر نہیں لکھا ہوتا کہ گڈ طالبان کی ہے یا بیڈ طالبان کی۔عطااللہ تارڑ نے اپوزیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ طالبان کے حق میں نعرے لگ رہے ہیں، یہاں بیٹھ کر اپنے لیڈر کو خوش آمد نہ کریں، اپوزیشن گالم گلوچ کے بجائے اچھی تجاویز دے، سمجھتا تھا کہ قابلیت کا فقدان ہے، مگر نیت کا بھی فقدان ہے۔اپوزیشن کی بجٹ میں کوئی تیاری نہیں ہے، یہاں صرف تنقید برائے تنقید کی جارہی ہے، اپوزیشن بجٹ پر بات نہیں کرتی، نعرہ لگانے میں آگے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا اعتراض تنخواہیں بڑھانے پر ہے، کیا اعتراض صنعتوں کی بجلی کے نرخ کم کرنے پر ہے، شور شرابا کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ روز جو کچھ ایوان میں ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے تھی کہ کون سے طبقات ہیں جنہیں بجٹ میں ریلیف دے سکتے ہیں،اپوزیشن کو شیڈو کابینہ بنانی چاہیے تھی اور شیڈو بجٹ دینا چاہیے تھا، انہوں نے بجٹ پڑھے بغیر تنقید کی، فارم 47اور 804اور 420 کی آوازیں تو آئیں گی مگر بجٹ پر بات نہیں آئے گی۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ آج ہمیں سڑکوں پر انصاف کرنے کو روکنا ہوگا، ہم ختم نبوت کے بھی امین ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کے بھی امین ہیں، انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن کو اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ عطا تارڑ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابا کیا۔ بجٹ پر بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی دور میں ہم شیڈ و بجٹ پیش کرتے تھے، بحث کرنا آسان ہے، شیڈو بجٹ تیار کرنا مشکل ہے، افسوس ہے کہ صرف تنقید برائے تنقید کی جارہی ہے، شیڈ و بجٹ میں بہتر تجاویز دی جاسکتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ فریال تالپور کو اسپتال سے گرفتار کیا گیا، وہ نہیں بھاگیں، لیکن فواد چوہدری ایسے بھاگے کہ رکنے کا نام نہیں لیا۔عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ کیا اقلیتوں کے تحفظ کیلئے قرار داد منظور نہیں ہونی چاہیے، اپوزیشن نے اقلیتوں کے تحفظ کی قرارداد کی مخالفت کی۔
دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے عزم استحکام آپریشن کی ضرورت پیش آئی، عطا تارڑ



