اسلام آباد(آئی این پی )ترجمان دفتر خارجہ ممتاززہرا بلوچ نے کہا ہے کہ چین کے بعد پاکستان نے بھی سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ یوکرین امن کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، پاکستان دنیا میں قیام امن کے لیے سب سے آگے ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان خطوط کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔ بھارتی میڈیا ہمیشہ سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ کرتا ہے، اردن میں ہونیوالی ڈی ایٹ کانفرنس میں پاکستان نے غزہ میں جاری بربریت کی مذمت کی ہے ، بیرون ممالک سیاسی پناہ لینے والے شہریوں نے خود پاکستانی شہریت ترک کی ہے، اس حوالے سے نئی پالیسی ہمارا اندرونی معاملہ ہے، کسی ملک کی ہدایات قبول نہیں کریںگے۔ان خیالات کا اظہار دفترخارجہ کی ترجمان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کیا ۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں، 11 جون 1991 کوبھارت نے 32 کشمیریوں کو ںے دردی سے قتل کر دیا تھا، آج تک وہ کشمیری انصاف کے منتظر ہیں۔وزیراعظم شہباز کی جانب سے نریندرمودی کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر ٹوئٹ کے ذریعے مبارک باد دی جا چکی ہے۔ حکومت کے لیے رسمی طور پر ضروری ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ملک کے حکمران کو منتخب ہونے پر مبارک باد دے۔ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان تہنیتی خطوط کا تبادلہ نہیں ہوا۔ایک سوال پر ترجمان نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ کی طرف سے پاکستان کو 15 اور 16 جون کو یوکرین کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی ہے تاہم پاکستان اپنی کچھ مصروفیت کی وجہ سے کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ پاکستان دنیا میں قیام امن کے لیے سب سے آگے ہے۔واضح رہے کہ چین نے بھی یوکرین امن کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ بیجنگ بھی یہ بات سمجھتا ہے روس کے بغیر ایسی کانفرنس فضول ہوگی۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ توقع ہے آئندہ کچھ مہینوں میں پاک چائنہ تزویراتی معاون شراکت داری میں پیش رفت ہوگی۔ پاکستان اور چین کے درمیان چینی شہریوں کے تحفظ ، دو طرفہ تعلقات سمیت تمام امور مشترکا اعلامیے میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ خدیجہ شاہ کا کیس زیرسماعت ہے اور پاکستانی قوانین کے تحت نمٹایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عدالتیں فیصلہ کریں گی۔ ممتاززہرا بلوچ نے کہا کہ رواں ہفتہ پاکستان کی خارجہ امور سے متعلق اہم تھا، غزہ کے حوالے سے وزیر خارجہ نے ڈی ایٹ میں شرکت کی، ڈی ایٹ کانفرنس میں وزرائے خارجہ نے غزہ میں فور ی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اردن میں ہونے والی غزہ کانفرنس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے موقف پیش کیا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ڈی ایٹ کانفرنس کے دوران اپنے دیگر ہم منصب سے بھی ملاقات کی اور پاکستان نے غزہ میں جاری بربریت کی شدید مذمت کی۔بیان میں کہا گیا کہ فلسطین پر یو این کی انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے، رپورٹ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل کے حوالے سے حیرا ن کن انکشافات کیے گئے ہیں، اب وقت ہے کہ غزہ میں ہونے والے مظالم کو روکا جائے۔ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسرائیلی فوج کو فوجی سپلائز پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا ۔ ترجمان کا کہناتھا کہ فلسطین پر یو این کی انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے، رپورٹ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل کے حوالے سے حیراں کن انکشافات کیے گئے ہیں، اب وقت ہے کہ غزہ میں ہونے والے مظالم کو روکا جائے۔پا کستان فلسطین سے متعلق کمیشن آف انکوائری کو خوش آمدید کہتا ہے۔ دفترخارجہ کی ترجمان نے کہا غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے پلان پر عملدرآمد جاری ہے۔ باہر ملکوں میں سیاسی پناہ لینے والے شہریوں نے خود پاکستانی شہریت ترک کی ہے، اس حوالے سے نئی پالیسی ہمارا اندرونی معاملہ ہے، اس بارے میں کسی ملک کی ہدایات قبول نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا ہم نے متعدد باربتایا ہے کہ دہشت گردی سے خطرہ ہے۔ اپنے ملک میں دہشت گردی میں مطلوب افراد کے بارے میں افغانستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
چین کے بعد پاکستان بھی یوکرین امن کانفرنس میں شرکت نہیں کریگا، ترجمان دفتر خارجہ



