مولانا فضل الرحمان کی بانی چیئرمین سے رابطوں کی تردید، جھوٹ قرار دے دیا

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بانی چیئرمین سے رابطوں کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دے دیا اور کہا ہے کہ وہ عید کے بعد لائحہ عمل دیں گے، ہم ہر قسم کے نتائج بھگتنے کو بھی تیار ہیں۔منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم ملک میں مثبت جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں، ہم نے امن کا راستہ اختیار کیا اور اسی راستے پر چلتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی قوتیں پاکستان کو معاشی طور پر اور سیاسی طور پر اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہیں، ہم جدوجہد کر کے عالمی قوتوں کا مقابلہ کریں گے۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب انتخابات آتے ہیں تو ملک کے جاسوسی ادارے حرکت میں آجاتے ہیں، دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے بعد 2024 کے انتخابات کو بھی ہم نے مسترد کیا، جے یو آئی کی مجلس شوری اور مجلس عاملہ عید کے بعد بیٹھ کر جدوجہد کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل دے گی۔فضل الرحمان نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہم سفروں نے دھاندلی زدہ الیکشن کے بعد اقتدار قبول کیا مگر ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور جدوجہد میں ہر قسم کے نتائج بھگتنے کیلیے بھی تیار ہیں، اگر جنگ ہے تو جنگ ہی سہی۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، قبائلی علاقوں کے ذخائر پر قبضے کیے جا رہے ہیں، ہم فوج اور ملکی دفاع کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتے اور انہیں طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں مگر وہ ہمیں اور پارلیمنٹ کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین روٹی کیلئے اپنی کھڑکیاں دروازے بیچ رہی ہیں۔فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین میں چالیس ہزار سے زائد لوگ شہید ہو چکے، فلطسینی کیمپوں پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں، عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کے ظلم کو ظلم کہا، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کے مظالم پر کیوں خاموش ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ سے اپیل کروں گا فلسطین کی مالی مدد کریں، آج یورپ کے ممالک فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں۔جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ اسلامی ریاست ہے لیکن لوگوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے، ہم نے ماضی میں جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کی کوشش کی لیکن وہ روک دی گئی اور وہ رکوانے والا سیاست دان نہیں تھا۔ آج قبائلی علاقوں کے لوگوں پر ظلم کیا جا رہا ہے اور نوجوانوں کا جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے۔فضل الرحمان نے کہا کہ سات ستمبر 1974کو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، ہم پچاس سال مکمل ہونے پر یوم فتح منائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں فضل الرحمان نے کہا کہ میرا اڈیالہ جیل والے سے کوئی رابطہ نہیں ہے، سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔



  تازہ ترین   
بنوں پولیس چوکی حملہ: افغان ناظم الامور دفترخارجہ طلب، احتجاجی مراسلہ دیا گیا
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی، بلوچستان سے خودکش بمبار خاتون گرفتار
صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی منصوبے پر ایران کا جواب مسترد کردیا
ایران نے یورینیم افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کر دی: امریکی اخبار
غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، ضرورت پڑنے پر بھرپور جواب دینگے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ہمارا مسودہ ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے نہیں، ایران کا امریکہ کو دوٹوک جواب
ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر کے دورہ چین کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر