صنعتی ترقی، مہنگائی میں کمی، اہم معاشی اہداف میں ناکامی ہوئی، اقتصادی سروے

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی ترقی، مہنگائی میں کمی، اہم معاشی اہداف میں ناکامی ہوئی، حکومتی اصلاحاتی پالیسی سیبتدریج اقتصادی بحالی ہورہی ہے، عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں ہے اور وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے 9 ماہ کے پروگرام کی وجہ سے آج ہم اہداف پر تبادلہ خیال کرنے کی پوزیشن میں ہیںمنگل کو قومی اقتصادی سروے2023-24کے اجرا کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی ٹیم کے ساتھ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے میں اچھی کارکردگی کیوجہ سے بھی شرح نمومیں اضافہ ہوا، مہنگائی مسلسل نیچے کی طرف آرہی ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیر مملکت برائے خزانہ و توانائی علی پرویز ملک، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، سیکریٹری منصوبہ بندی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ 2022 اور 2023 میں افراط زر کا سب کو پتا ہے، اسی سال روپے کی قدر میں 29 فیصد کمی ہوئی اور زرمبادلہ دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگیاتھا اور وہاں سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مختلف اہداف ہیں، جس پر بات کریں گے لیکن یہ مذکورہ صورت حال ہمارے سفر کا آغاز ہے اور آج ہم شہباز شریف کی قیادت میں 5 سال کے لیے منتخب حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہا جب میں نجی شعبے سے وابستہ تھا اس وقت بھی میں واضح تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں جانا چاہیے کیونکہ آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں ہے اگر کوئی پلان بی ہوتا تو آئی ایم ایف کو آخری امید نہیں کہا جاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام لے کر حوصلہ افزا فیصلہ کیا اور جہاں ہم آج ہیں اس کی وجہ وہی فیصلہ تھا کیونکہ اگر وہ پروگرام نہ ہوتا ہم آج اہداف کی باتیں نہیں کرتے بلکہ ہمارے ملک کی صورت حال بہت مختلف ہوتی اور ہم مختلف باتیں کر رہے ہوتے اور آج جو اعدادوشمار ہیں وہ ہم ڈسکس نہ کر رہے ہوتے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ پراثر پڑنا تھا اور وہ پڑا ہے، مگر زرعی شعبے کی گروتھ حوصلہ افزا ہے، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بے مثال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پرائمری سرپلس رہا ہے اور اس میں صوبوں کو بھی کریڈٹ جاتا ہے،کرنٹ اکانٹ خسارہ 6 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا جا رہا تھا اور اس وقت صرف 200ملین ڈالر ہے، رواں مالی سال کے دوران چند مہینے ہمارا کرنٹ اکانٹ 3 فیصد سرپلس میں بھی رہا ہے، کرنسی میں استحکام آیا ہے اس کی بڑی وجوہات میں نگران حکومت کے انتظامی اقدامات ہیں، نگران انتظامیہ نے ہنڈی حوالہ اور اسمگلنگ کو روکا گیا اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہاسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو ضروریات تھیں وہ بڑھائیں اور اسٹرکچرل کردار ہے۔پریس کانفرنس کے دوران وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات خوشگوار ماحول اور تعمیری انداز میں جاری ہیں، ان مذاکرات میں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات کا اعتراف کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی اسٹریٹجک ادارہ نہیں ہے،اسٹریٹجک سرگرمی ہوسکتی ہے اسے سرکار کے پاس رکھا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام اور آئی ایم ایف شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، پسماندہ طبقے پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا انہیں تحفظ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں اور شرح سود کے اثرات ایل ایس ایم پر آنے تھے، ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے سب کو ملک کی ترقی اور ریونیو میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، خیرات اور بھیک سے ملک نہیں چل سکتے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دو ایسے شعبے ہیں جن کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں ہے، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جن پر 100 فیصد ہمارا کنٹرول ہے اور زرعی پیداوار کیسے بڑھانی ہے یہ سب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔اقتصادی سروے کے اعداد وشمار کے ملک میں ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ 3 ہزار 879ارب روپے سے زائد ہے، انکم ٹیکس کی مد میں 476.96 ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں 2858.721ارب روپے،کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 543.521ارب روپے کی چھوٹ دی جا رہی ہے۔سروے میں کہا گیا کہ مالی سال 2023-24میں ملکی معیشت(جی ڈی پی)کا حجم 338.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر374.9 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے ایک سوال میں کہا کہ جس جس چیز سے حکومت کو جتنا نکال سکتے ہیں اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہوگا، ہم پاسکو کی ری اسٹرکچرنگ کرنے جارہے ہیں، ہمیں اسٹریٹجک ذخائر رکھنے چاہئیں۔



  تازہ ترین   
امریکہ، ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر عبوری معاہدے کے قریب، آج اعلان متوقع
مودی سرکار کے اقدامات نے بھارتی ریاستی جبر میں اضافہ کیا: صدر، وزیراعظم
’’یوم استحصال‘‘: پاک فوج کا کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ
اسحاق ڈار یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچ گئے
آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے، سینٹ کام
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ منایا جارہا ہے
یمن: بحیرۂ احمر میں بھارتی کارگو جہاز پروجیکٹائل حملے کے بعد ڈوب گیا
پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر