لاہور(نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف اور صحافتی تنظیموں نے ہتکِ عزت بل کو کالا قانون قرار دے کر عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ترجمان پی ٹی آئی نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ فارم 47 زدہ ایوان سے اسپیکر منتخب ہونے والے کو ہتکِ عزت قانون پر دستخط کرتے ہوئے شرم آنی چاہئیے۔ جمہوریت کا منجن بیچنے والی دو بڑی جماعتوں نے آزادی اظہار و ابلاغ کو کرمنالائز کرکے آمریت کی نظریاتی اولاد ہونے کی حقیقت دنیا کو دکھائی ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صحافی اورسول سوسائٹی اس کالے قانون کے خلاف ہم آواز ہیں۔ تحریک انصاف اس کالے قانون کے نفاذ کو روکنے کیلئے عدلیہ کا دروازہ کھکھٹائے گی۔ دریں اثناء متنازعہ ہتک عزت بل کے خلاف صحافی تنظیموں نے حکومتی تقریبات، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں، وفاقی و صوبائی بجٹ کی کوریج کے ساتھ حکومتی اتحادی جماعتوں کی سرگرمیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا ہے ۔متنازع ہتک عزت بل کی گورنر پنجاب کی طرف سے منظوری کے خلاف صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں سی پی این ای، اے پی این ایس، ایمنڈ، پی بی اے، پی ایف یو جے اور پریس کلب کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکا نے متنازع کالے قانون کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا اور متنازع بل کے خلاف مثر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔فیصلہ کیا گیا کہ حکومتی تقریبات، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں، وفاقی و صوبائی بجٹ کی کوریج کے ساتھ حکومتی اتحادی جماعتوں کی سرگرمیوں کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔اتفاق رائے سے طے پایا کہ متنازع قانون کے خلاف حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے سوا دیگر سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بار کونسلز کے ساتھ مشاورت سے مرحلہ وار آگے بڑھا جائے گا۔انسانی حقوق کے منافی متنازع ہتک عزت قانون کے خلاف اقوام متحدہ اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی رابطہ کیا جائے گا جبکہ قانون پر متعلقہ سرکاری دفاتر کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔تمام صحافی تنظیموں نے اسے انسان دشمن قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان آپشنز پر مرحلہ وار عمل کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی اور صحافتی تنظیموں کا ہتکِ عزت قانون عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان



