لاہور (نیشنل ٹائمز) سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی نے انکشاف کیا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ بانی تحریک انصاف عمران خان کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے سینئر سیاستدان و رکن قومی اسمبلی، صدر تحریک تحفظ آئین پاکستان نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ میرے مشاہدے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے 50فیصد سے زائد لوگ موجودہ حالات سے خوش نہیں، اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر عمران خان کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں مگر بانی تحریک انصاف نہیں مان رہے ہیں۔
مجھے نہیں لگتا کہ بانی تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کے کندھے پر چڑھ کر آئے گا، اگر وہ ایسا کرے گا تو اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارے گا کیونکہ عمران خان کو جتنی اکثریت حاصل ہے ابھی تک اتنی کسی کو بھی نہیں ملی۔
عمران خان خود بھی بالغ اور سمجھدار آدمی ہیں، ہر انسان میں کمزوریاں ہوتی ہیں، میں نے ان کے ساتھ وقت گزارا ہے، کوئی اسے اچھا سمجھے یا برا لیکن یہ بات ماننی ہوگی کہ عمران خان اس ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہے۔
شہباز شریف اگر اسٹیٹس مین ہیں تو ان کو عمران خان کو رہا کر دینا چاہئے، عمران خان نے کہاں بھاگنا ہے؟ نواز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور بلاول ایک کمیٹی بنائیں مسئلے کا حل نکل آئے گا۔ دوسری جانب سینئر سیاستدان سینیٹرمشاہد حسین سید نے اے آوائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدی نمبر 804 کا نام بھی نہیں لیا جاسکتا لیکن سیاست کا محور وہ ہیں، ساری سیاست عمران خان کے اردگرد گھوم رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کی فری میں مشہوری ہورہی ہے، جس کو ہارا ہوا سیاستدان کہا جاتا تھا آج وہ مقبول ترین ہے۔
اس وقت سیاست پھنسی ہوئی ہے ہر طرف ڈیڈلاک نظر آرہا ہے، ایک ریاست ڈنڈا استعمال کررہی ہے اور ایک طرف اسٹریٹ پاور ہے جو قیدی نمبر 804کے ساتھ ہے، پاکستان میں سیاست کی صورتحال بڑی عجیب ہوگئی ہے۔ 8فروری کے بعد پاکستان بدلا ہے اور لوگوں نے ردعمل بھی دیا ہے۔ 8فروری کو جو سرپرائز ہمیں ملا اسی طرح بھارت میں مودی کو سرپرائز ملا، بھارت میں ای وی ایم کے ذریعے الیکشن ہوئے دھاندلی کا الزام نہیں لگا۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو غلط طریقے سے اقتدار سے الگ کیا گیا، اسی طرح بانی پی ٹی آئی کو بھی غلط طریقے سے اقتدار سے الگ کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کے خلاف ”سافٹ کُو “ تھا ، قید میں ڈالنا زیادتی ہے، پرانی غلطیاں نہ دہرایا کریں نئی غلطیاں کیا کریں، اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج متاثر ہورہا ہے،توشہ خانہ ، سائفر اور عدت کیس کوڑے دان میں چلے گئے ہیں، بدقسمتی ہے کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے، ہماری بدقسمتی کہ نظریہ ضرورت کے مطابق ڈاکٹرائن تبدیل کرلیتے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی نے امریکا کے خلاف لگائے الزامات واپس لے لئے، بانی پی ٹی آئی ہی ہیں جو موجودہ صورتحال کو انجوائے کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو پتا ہے کہ سیاست ان کے گرد گھوم رہی ہے، بانی پی ٹی آئی واحد ہیں جو8فروری کے بعد مسکرا رہے ہیں۔



