راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) بجٹ اعلان سے قبل پنڈی تاجروں نے اشیائ خوردونوش کی قمیتوں میں اضافہ کر دیا۔مختلف اشیا کی قیمتوں میں 10سے30فیصد اضافے کے باوجود مقامی انتظامیہ اورپرائس کنٹرول مجسٹریٹس خاموش ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویڑن کے برعکس آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان سے قبل ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے مصنوعی قلت کی آڑ میں جڑواں شہروں میں مختلف اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا مختلف اشیا کی قیمتوں میں 10سے30فیصد اضافے کے باوجود مقامی انتظامیہ اورپرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے چپ سادھ لی آمدہ بجٹ سے قبل ہی اس وقت مارکیٹ میں مختلف برانڈ کے سگریٹ، مختلف کمپنیوں کی روز مرہ استعمال کی پیک شدہ اشیا،دالوں اوردیگر اشیائے ضروریہ کی بلیک میں فروخت شروع ہو گئی راولپنڈی میں شہر کینٹ کے علاوہ اسلام آباد میں کھنہ ڈاک، کھنہ ایسٹ، شکریال، سوہان، سمیت وفاقی دارلحکومت کے بیشتر علاقوں میں مختلف برانڈ کے سگریٹ کی قیمتوں میں 20سے 40روپے فی پیکٹ اضافی وصولی کی جا رہی ہے اسی طرح مختلف برانڈ کے پیک شدہ مصالحوں، مشروبات، ماچس، دالوں اور دیگر اشیائے ضروریہ میں بھی خود ساختہ اضافہ کر دیا گیا عوام نے اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں من مانے اضافے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کرتی ہے لیکن تاجر مافیا اور مقامی انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے چن دنوں میں عوام کی جیبوں پر کروڑوں، اربوں روپے کا ڈاکہ ڈال لیا جاتا ہے لیکن حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی عوامی حلقوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ سے پہلے قیمتوں میں خود ساختہ اضافے کا فوری نوٹس لے کر متعلقہ کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سمیت متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے اور خود ساختہ مہنگائی کے مرتکب ہول سیلروں اور پرچون فروشوں کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔
بجٹ اعلان سے قبل ہی راولپنڈی میں تاجروں نے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا



