تحریر:عابد حسین قریشی
کل جب بردار عزیز سردار طاہر صابر کی ریٹائرمنٹ پر چند الفاظ لکھ کر سوشل میڈیا پر شیئر کیے تو بڑی تعداد میں دوست احباب نے سراہا اور ساتھ کچھ دلچسپ تبصرے بھی ہوئے۔ ایک دیرینہ عزیز دوست نے دل کی بھڑاس یہ لکھ کر نکالی “”، کہ ہر باوقار آفیسر کی ریٹائرمنٹ پر نوحہ خوانی کی بجائے ان سانپوں سے نپٹنے کا لائحہ عمل طے کریں جو 99 پر ان کو ڈس لیتے ہیں۔ “”یہ comment اتنا جاندار اور حسب حال تھا کہ اس نے بہت کچھ یاد کرا دیا۔ اگرچہ یہ elevation والی سٹوری، اس میں ممکنہ سازشیں، ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچنے، کانہ پوسی جسے ہائی کورٹ کی زبان میں شاید whispering کہتے ہیں، ان سب کا ذکر بڑی جامعیت کے ساتھ اپنی کتاب عدل بیتی میں کر چکا ہوں۔ مگر آج اس کا ذکر ایک اور انداز میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ ہمارے نظام عدل میں ہائی کورٹ کے جج بننے کے لیے دو طرح کے طریقے رائج ہیں۔ ایک وکلا یا بار میں سے اور دوسرے سروس یا سیشن ججز میں سے۔ بار سے آنے والے وکلا کی اہلیت کا تعین کرنے کے لیے مختلف فیکڑز کام کرتے ہیں۔ جن میں انکی قانونی یا پروفیشنل استعداد کے علاوہ، انکا کس تگڑے چیمبر سے تعلق ہے، سیاسی اور سماجی روابط اور ذاتی شخصیت سب کچھ ہی matter کرتا ہے۔۔ جہاں تک سروس سے elevation کا تعلق ہے، کسی بھلے زمانے میں ہماری اوائل سروس میں بڑا لگا بندھا اصول تھا، کہ سنیارٹی کم فٹنس ہی بنیادی اصول ہوتا تھا، جس میں سنیارٹی اکثر prevail کر جاتی تھی۔ لہزا یہ تقریباً طے شدہ امر تھا، کہ رجسٹرار ہائی کورٹ ، سیکرٹری لا، اور سیشن جج لاہور elevation کے مضبوط امیدوار ہوتے اور وہ اس منصب پر آسانی سے پہنچ بھی جاتے۔ ان دنوں سینیر موسٹ سیشن ججز کو ہی ان تین سیٹوں پر لگایا جاتا۔ اور ان کی elevation پر کسی کو اعتراض بھی نہ ہوتا۔ پھر آہستہ آہستہ ہمارا یہ اچھا خاصا کامیابی سے چلتا سسٹم زوال کی طرف گامزن ہوا۔ سنیارٹی کے اصول ختم ہوئے ، سنیارٹی کم فٹنس کو ذاتی وفاداری اور پسند و ناپسند کے ملفوف غلاف میں لپیٹ کر اصول و ضوابط کا مذاق بنایا گیا۔ اب elevation کے لیے 150 نمبر پر بیٹھا سیشن جج بھی اپنے سوشل اور سیاسی روابط کی بنیاد پر مضبوط امیدوار elevation بن بیٹھا ۔ یوں کہیں لیں کہ جو جہاں بیٹھا تھا وہ اس elevation کی ریس میں شامل ہونے کی کوشش کرتا۔ ہر کوئی دوسرے کو گرانے اور اپنے آپ کو promote کرنے کی کوشش میں تمام اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتا۔ ایک دوسرے کے خلاف پمفلٹ بازی، سازشیں، شکایتیں اور فرضی حکایتیں گھڑی جاتیں۔ جوڈیشل کمیشن جسے ججز کلب کہنا زیادہ مناسب تھا وہاں سرخروئی کے لیے مضبوط تعلق اور لابی ضروری ٹھہری ۔ جوڈیشل کمشن کے اگر ایک بھی ممبر کے ساتھ کبھی بھول چوک میں بھی کسی جوڈیشل آفیسر کی کسی زمانے میں کوئی پرخاش یا ناراضگی تھی تو اس کے elevate ہونے کے امکانات معدوم ہی سمجھے جاتے۔ اور اگر کسی کو elevate کر ہی لیا جاتا تو پوری کوشش کی جاتی کہ یہ کنفرم نہ ہونے پائے ۔ اس ساری صورتحال کا پنجاب کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری کو بطور اداراہ شدید نقصان پہنچا۔ بالکل درست اعداد و شمار کے مطابق 2016 سے 2024 تک پنجاب کے سیشن ججز میں سے صرف سات لوگ elevate ہوئے ، اور ان میں سے بھی صرف تین کنفرم ہوئے ۔ اس دوران پنجاب میں ڈیڑھ سو سے زیادہ سیشن ججز elevation کی آس لگائے ریٹائرڈ ہوئے ۔ سیشن ججز جو عموماً بیس تیس سال کی سروس کے بعد ہائی کورٹ کے جج بنتے ہیں، انکی کنفرمیشن کا تو سوال ہی نہیں اٹھنا چاہیے مگر انکو بھی کند چھری سے اکثر ذبح کر دیا جاتا ہے۔۔ ابھی حال ہی میں محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک نہایت قابل اور ذہین و فطین جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب جو ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ ہی نہیں بلکہ ایک خاص لیول کا پیار اور وارفتگی بھی رکھتے ہیں انکی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے رولز کو تبدیل کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ جس میں انکے ساتھ بہت معاملہ فہم اور درد دل رکھنے والے جناب ریٹائرڈ جسٹس منظور اے ملک صاحب بھی ہیں۔ امید ہے یہ کمیٹی elevation میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ساتھ ہونی والی زیادتیوں کا ازالہ کرے گی۔ اور کوئی ایسا criteria طے کرے گی کہ کسی بھی سیشن جج کی حق تلفی نہ ہو اور صرف میرٹ ہی prevail کرے۔۔ بات کچھ ثقیل ہو گئی ہے، لہزا کچھ ہلکا پھلکا تبصرہ بھی ضروری ہے۔ elevation پر بیٹھے سیشن جج عمومی طور بڑے کمزور نظر آتے ہیں ۔ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔ بعض کمزور دل تو اپنے سایے سے بھی ڈرتے ہیں۔ جوں جوں elevation لیٹ ہوتی ہے، مزاج میں چڑ چڑا پن نمایاں ہوتا جاتا ہے۔ اکثر ذہین اور ہوشیار وکلا ایسے کمزور اعصاب سیشن ججز کو elevation کی جھوٹی سچی کہانی سنا کر مشکل کیسوں میں بھی ریلیف لے جاتے ہیں۔ ایسے ہی elevation پر بیٹھے ایک سیشن جج صاحب سے جب میں نے انکے بال بچوں کا حال پوچھا تو قدرے جنجلاھٹ میں بولے کہ آپ جانتے ہیں، میرا ایک ہی بچہ ہے، تو میں نے کہا کہ جناب بچے کی ماں بھی تو بال بچوں میں ہی شمار ہوتی ہے۔سن کر مسکرا دیے۔ ایک اور سنیئر سیشن جج صاحب سے سر راہ ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں متوقع elevation کی خوشخبری سنانے کی کوشش کی۔ وہ نہایت سنجیدہ ہوگئے اور مجھ سے اس خبر کا سورس پوچھنے لگ پڑے، بڑی مشکل سے جان چھڑائی ۔ ایک سیشن جج صاحب کو جب میری موجودگی میں سید ناصر علی شاہ صاحب نے ایڈوانس مبارک باد دی اور کچھ دنوں بعد انکا نام elevation کی لسٹ میں جب نہ آیا تو انکا غصہ دیدنی تھا اور وہ ناصر علی شاہ کے ساتھ اس طرح خفگی کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ جیسے یہ لسٹ شاہ صاحب نے تیار کرنی تھی۔ شاہ صاحب اپنی خاندانی شرافت و نجابت کے ساتھ ساتھ اپنی فطری خوش مزاجی کی وجہ سے زیر لب مسکرا بھی رہے تھے۔ ناصر علی شاہ صاحب GOR V میں کچھ عرصہ میری ہمسایگی میں بھی رہے۔ میں نے پنجاب کے بڑے بڑے طرے خاں سیشن ججوں کو شاہ صاحب کے گھر حاضری بھرتے دیکھا ہے کہ ان دنوں شاہ صاحب کا کوئی عزیز وزیر اعظم ہاؤس میں کسی اہم سیٹ پر تعینات تھا اور شاہ صاحب کے پاس elevation کی انفرمیشن سو فیصد درست ہوتی تھی۔اس زمانے میں یہ جوڈیشل کمشن والا شو شروع نہیں ہوا تھا۔ اگلی صبح سیشن کورٹ کی طرف جاتے ہوئے یا شام کو ماڈل ٹاؤن پارک میں سیر کرتے ہوئے میں اور شاہ صاحب اس صورتحال پر دیر تک ہنستے رہتے۔ ابھی میں کچھ واقعات بوجہ خوف فساد خلق خدا لکھ نہیں سکتا۔ ورنہ بات میں کچھ اور چاشنی پیدا ہوتی۔۔ دراصل elevation میں تاخیر ، بے جا توقعات ، جھوٹے سچے وعدے بندے کو سنکی بنا دیتے ہیں۔ بہت کم لوگ اس المیہ کو مسکراتے ہوئے سہتے ہیں۔
کہانی دلچسپ بھی ہے اور تکلیف دہ بھی۔ سبق آموز بھی



