ویٹیکن سٹی (نیشنل ٹائمز)کیتھولک چرچ کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے غزہ کی پٹی میں جاری جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پوپ فرانسس نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔
اس خونی جنگ کو فوری طورپر روکا جانا چاہیے۔ دنیا میں کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسس نے جمعہ کو العربیہ/الحدث کو خصوصی طور پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ میں مشرق وسطیٰ کی تشویش اپنے دل میں رکھتا ہوں۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا، اور انسانی بنیادوں پر غزہ میں خوراک کی امداد کے داخلے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے پٹی میں قید تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایک انسانی تباہی رونما ہو رہی ہے میں مطالبہ کرتا ہوں کہ “ان فلسطینیوں کو امداد فراہم کی جائے جو خوفناک طور پر مصائب کا شکار ہیں۔ گذشتہ سات اکتوبر کو اغوا کیے گئے یرغمالیوں کو رہا کیا جائے‘‘۔ انہوں نے زور دیا کہ “اسلحے کی دوڑ کی ہواؤں کو اس آگ کا دائرہ بڑھانے کی اجازت نہ دی جائے اور جنگ کو پھیلنے دیا جائے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “جنگ کسی مقصد کی طرف نہیں لے جاتی، بلکہ امید کو بجھا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک شکست سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے دنیا کے حکمرانوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے ان سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے شدید الفاظ میں لکھا کہ ’’دنیا کے حکمرانوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ برائے مہربانی وہ ہتھیاروں کا شور بند کریں اور بچوں کے بارے میں سوچیں جس طرح آپ اپنے بچوں کے بارے میں سوچتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ امید کی ایک کھڑکی اور امن کے لیے ایک موقع موجود ہے، اگر ہم جانتے ہیں کہ ہر ایک کے رہنے اور ریاست رکھنے کے حق کو کیسے پہچاننا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دنیا کے سب سے چھوٹے ملک ویٹیکن کی سربراہی کرنے والے پوپ کا یہ پیغام ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں فلسطینی علاقے غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے غیرمعمولی تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی دھمکیوں کی وجہ سے جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ ہے



