لاہور(نیشنل ٹائمز) ایف بی آر ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مارچ 2024 میں ٹیکس کلیکشن میں بڑے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مارچ 2024ء کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے مارچ میں 879 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا ٹارگٹ دیا تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 29 مارچ تک 835 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، مارچ 2024ء میں ٹیکس ہدف میں 44 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔
ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی سال کا جولائی سے مارچ تک کا ٹیکس ہدف 6707 ارب روپے ہے، آج تک 6666 ارب جمع ہو گئے ہیں، ٹیکسز جمع کرنے کیلئے ہفتہ اور اتوار کو بھی بینک کھلے رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزارت خزانہ نے مارچ کی ماہانہ آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہوگیا،آئی ایم ایف سے 1.1 ارب ڈالر قرض کی آخری قسط مل جائے گی، حکومت کے پالیسی اقدامات سے فنانسنگ کی ضروریات میں کمی آئی ہے۔
ربیع سیزن کی فصلوں کی اچھی پیدا وار ہوگی، ربیع سیزن میں یوریا کے استعمال سے 4.2 فیصد کمی ہوئی،ڈی پی اے کے استعمال میں 15 فیصد کا اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال ٹریکٹر کی پیداوار میں 68.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فروری میں مہنگائی کم ہوکر 23.1 فیصد ہوگئی ہے، اگلے ماہ مہنگائی کم ہوکر 21 سے 22 فیصد کے درمیان رہے گی۔ حکومت نے غریب طبقات کیلئے 12.5ارب روپے کا رمضان پیکج دیا، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 17 فیصد سے کم ہوکر 82 کروڑ ڈالر رہی۔
رواں سال ڈالر ریٹ میں 5 روپے 54 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ہرماہ پاکستان کی معاشی اور مالی پوزیشن بہتر ہورہی ہے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنانسنگ بحال ہورہی ہے، حکومتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات سے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہورہا ہے۔اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھا ہے، مہنگائی میں اضافے کے خدشات کے باعث شرح سود کو برقرار رکھا گیا، مارچ میں مہنگائی 23.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔پائیدار معاشی استحکام کیلئے بروقت پالیسی اقدامات درکار ہیں، بیرونی ادائیگیوں کیلئے بہتر فنانسنگ کی ضرورت ہے۔



