عابد حسین قریشی
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج ہر گزرا لمحہ خوبصورت اور دلکش نظر آتا ہے۔ بچپن سے جوانی، لڑکپن، ادیھڑ عمری اور بڑھاپا سبھی تو دیکھ چکے۔ سبھی بہت سحر انگیز تھا۔ بچپن اور نوجوانی کا ابتدائی حصہ تو لا ابالی پن میں گزر جاتا تھا۔ نہ بہت سی ضروریات نہ توقعات، جو مل جاتا راضی رہتے۔ پڑھائی لکھائی میں دل نہ لگنے کے باوجود دل لگانا پڑتا۔ بعض اوقات تو یوں لگتا کہ ہم سے تعلیم کے نام پر کوئی بیگار لے رہا ہے۔ رزلٹ اچھا آتا تو گھر میں باعزت داخلہ ہوتا، ورنہ یار لوگ کئی دنوں تک گھر میں اس وقت داخل ہوتے جب بے عزتی پروگرام کا کم خطرہ ہوتا۔ ویسے اس عمر میں کیا عزت اور کیا بے عزتی، ہر وہ شرارت روا تھی جس سے دوسرے کو تکلیف دے کر قہقہے بکھر سکیں۔ پھر ہم اچانک جواں ہو گئے۔ آنکھوں میں بہت سے سپنے سجائے کالج اور یونیورسٹی کے آزادانہ ماحول میں گھومنے، فلسفیوں کی طرح سوچنے۔ ہاسٹل کنٹین میں بیٹھ کر یا نیو کیمپس کی پر فریب نہر کنارے اٹھکھیلیاں کرتے یوں لگتا کہ وقت یہیں کہیں ٹھہر جائے گا۔ دوستوں کی یہ قربت یونہی قائم رہے گی۔ نہ غم ، نہ فکر، نہ شرمندگی نہ پشیمانی، مگر وقت کو کون روک سکا ہے۔ طالب علمی کا زمانہ کیا ختم ہوا، سب رونقیں، محفلیں، ہنسی اور قہقہے ہوا ہوئے۔ عملی زندگی کا بے رحم اور مشکل دور شروع ہوا۔ جب وقت تھا، جوانی تھی، صحت تھی مگر پیسے نہیں تھے۔ اس دنیا میں روپے پیسے کے بغیر جوانی پوہ کی راتوں کی چاندنی کی طرح ہی ہوتی ہے ، جسے سخت سردی میں چھت پر جا کر دیکھنا سخت مشکل کام ہوتا ہے۔ پھر آپ کے پاس روپے پیسے کا مطلب صرف دستر خواں میں وسعت ہی نہیں ہوتا بلکہ آپکے حلقہ احباب میں ایک ہجوم دلبراں بھی ہوتا ہے۔ البتہ صنف کا انتخاب آپکی صوابدید پر ہے۔ کچھ خوش قسمت ہوتے ہیں جو صرف حسن و جوانی کے بل بوتے پر زندگی کا وہ لطف لے جاتے ہیں، جو بہت سے دولتمند بھی نہیں لے پاتے۔ ہر بندہ جوانی سے عملی زندگی کی دہلیز میں داخل ہوتے وقت ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ کوئی وکالت کرتا ہے، تو کوئی ملازمت، کوئی بزنس کرتا ہے تو کوئی دکانداری، کوئی زمیندارہ کرتا ہے تو کوئی دیار غیر میں اپنا رزق تلاش کرتا ہے۔ مگر جہاں بھی ہو بہرحال محنت کرنا پڑتی ہے۔ دن کو پسینہ اور رت جگوں سے اس زندگی کی دوڑ میں آبلہ پائی کرنی پڑتی ہے۔ کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔ اس تگ و دو اور مسابقت والی زندگی میں کئی کندن بن کر ابھرتے ہیں ، اور کئی راستہ میں ہی سفر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر زندگی بھی کیا کیا موڑ مڑتی ہے۔ بچے سے جوان اور جوانی سے بڑھاپے کا سفر کتنی دلکش یادیں نمکین بھی اور شیریں بھی ساتھ ساتھ لیکر چلتا ہے۔ کتنے دوست ملتے ہیں اور بچھڑ جاتے ہیں۔ جنہاں باجھ اک پل نیئں ساں جیندے، او صورتاں یاد نہ رہیاں۔ بڑھاپے کا آغاز تو لوگ چاہے نچائے قبول کر لیتے ہیں مگر اسکے انجام سے ڈرتے ہیں۔ کہ بڑھاپا زندگی اور اپنوں کے بہت سے رخ بے نقاب کر دیتا ہے۔ بہت سی تلخ حقیقتیں آپ پر منکشف ہوتی ہیں ۔ بہت سے لوگ جو ایک وقت میں آپ پر واری نیاری ہوتے ہیں، بڑھاپے میں چہرے کی سلوٹوں سے گبھرانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس عمر میں آپکی اچھی صحت، نیک اور تابعدار اولاد، با وفا اہلیہ اور کچھ مالی آسودگی اللہ تعالٰی کی خاص مہربانیوں میں سے ہوتے ہیں۔ اور اس بڑھاپے میں بعض اوقات انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے۔ وقت بھی ہوتا ہے، دولت بھی ہوتی ہے، فرصت بھی ہوتی ہے اور ایک دھڑکتا ہوا دل بھی ہوتا مگر وہ کچھ نہیں ہوتا جس کے سہارے ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ سو زندگی غنیمت ہے، اسکا ہر لمحہ قیمتی ہے، اسے مثبت طرز فکر سے لازوال بنایا جاسکتا ہے۔ اسکے ہر لمحہ سے لطف اندوز ہوکر، اپنوں سے پیار کرکے اور غیروں سے دعائیں لیکر۔



