عابد حسین قریشی
1979 /80 میں زمانہ طالب علمی والا لاہور کہ نیو کیمپس نہر کے کنارے بیٹھ کر گاڑیاں گنی جاسکتی تھیں۔صاف و شفاف نہر کنارے سنگل روڈ اور جناح ہسپتال والے پل سے آگے خوفناک سناٹا۔ ٹھوکر نیاز بیگ کبھی لاہور سے میلوں دور علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ اب لاہور کا سنٹر ہے۔ اتنی شفاف اور خوبصورت سر سبز و شاداب فضا اور ماحول کہ لاہور میں رہتے ہوئے عجب آسودگی اور لطف و کیف آتا۔یہ صورتحال 95 /96 تک بھی کافی حد تک برقرار رہی۔ زمانہ سول ججی میں روزانہ شام کو ریس کورس پارک میں سیر عجب سحر اور وارفتگی پیدا کرتی۔ پھر پراپرٹی مافیاز، حکومتی عدم توجہگی اور ناقص منصوبہ بندی، حکومتی اداروں کی غفلت، لالچ ، آبادی کا بے تحاشہ پھیلاؤ، بے ہنگم ہاؤسنگ سوسائٹیز کا قیام ، گاڑیوں کی بہتات، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، انتہائی مضر صحت دھواں چھوڑتی گاڑیاں، رہائشی علاقوں میں صنعتیں اور فیکٹریاں اور بے ہنگم کمرشل ایکٹویٹی، قانون وضوابط کی عمل داری کا فقدان، سبھی عوامل مل کر آج لاہور کو اس جگہ لے آئے ہیں، کہ صاف ہوا میں سانس لینا بھی دشوار ہو چکا، اور وہ لاہور جو کبھی باغات اور پھولوں کا شہر ہوا کرتا تھا، اب سموگ اور دھویں کے سیاہ بادلوں کی لپیٹ میں ہے۔ لگتا ہے کہ لاہور کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ جس لاہور میں رہنے پر لوگ فخر کیا کرتے تھے، آج وہاں سکول کالج بند کرکے اور درجنوں پابندیاں لگا کر بھی سموگ اور آلودہ فضا پر قابو نہیں پایا جا رہا ۔ ہمارے نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہر آباد کرنے کی تلقین کی تھی ، مگر ہماری تعلیمی ، معاشی اور معاشرتی مجبوریاں لوگوں کو لاہور کی طرف کیھنچتی رہیں۔اب یہ لاہور مریدکے سے شروع ہوکر مانگا منڈی ، اور رائے ونڈ اور ادھر قصور تک رہائشی کالونیوں کے بڑھتے ہوئے عفریت کی زد میں ہے۔ آبادی کے اس بے تحاشہ دباؤ کو برداشت کرنے کے لئے اور گاڑیوں کے سیلاب کو روکنے کے لئے نہ کسی نے منصوبہ بندی کی نہ ہی اب ممکن ہے۔کبھی پر کیف و سحر انگیز بلکہ نشاط انگیز اکتوبر نومبر لوگوں کو لاہور کی سیر کے لئے اکسایا کرتا تھا، اب ہر سال سردیوں کے آغاز سے شروع ہونےوالی سموگ اور آلودہ فضا گلے اور سانس کی بیماریوں کے ساتھ لاہوریوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔اور لوگ لاہور سے بھاگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ معروف افسانہ نگار کرشن چندر نے شاید جس لاہور کے بارے میں کہا تھا کہ یہ لوگوں کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا، اب اسی لاہور میں بچوں اور بوڑھوں کو سانس لینا دشوار ٹھہرا۔ اس لاہور کو ہم سب نے مل جل کر آلودہ کیا ہے۔ اللہ تعالٰی ہم پر رحم فرمائے ۔ کہ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔



