اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) محکمہ تعلیم پنجاب نے اسموگ کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور،گوجرانوالا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژنز کے 18 اضلاع کے سرکاری اور نجی سکینڈری اور ہائر سکینڈری تعلیمی ادارے 7 سے17 نومبر تک بند رہیں گے۔ چاروں ڈویژنز میں آن لائن کلاسز لی جائیں گی۔فضائی آلودگی میں لاہور کا پہلا نمبر، آئندہ 3 روز صورتحال مزید بدترین ہونے کا خدشہ۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز بھی کل سے 17 نومبرتک بند رہیں گی۔یاد رہے کہ اسموگ کے باعث ایک ہفتے کے لیے پرائمری تک اسکول بند کرنےکا پہلے ہی اعلان کیا جاچکا ہے۔اس کے علاوہ لاہور،گوجرانوالا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژنز میں ماسک پہننا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ 31 جنوری تک اسموگ سے متاثرہ علاقوں میں ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ باہر نکلتے ہوئے ماسک پہننےکی پابندی کی جائے۔ اسموگ سے متاثرہ علاقوں میں سانس کے امراض بڑھ رہے ہیں۔ لوگوں کو کیمیائی مادوں کے اثرات سے بچانےکے لیے ماسک کی پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔لاہور اسموگ: موٹر سائیکلوں کے اسٹینڈ بند اور چنگ چی رکشوں پر پابندی عائد۔سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کے مطابق نجی و سرکاری اداروں میں 50 فیصد “ورک فرام ہوم ” ہوگا۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مل کر کام کرنے تک اسموگ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔خیال رہے کہ آج صبح بھارتی آلودہ ہواؤں سے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1100 سے زائد پر پہنچ گیا تھا۔
اسموگ کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے 18 اضلاع میں بارہویں تک تعلیمی ادارے بند کرنےکا حکم



