اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے قائد اور سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی، متفرق درخواست میں عبوری ریلیف کی استدعا بھی شامل ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈینٹسٹ ڈاکٹر ثمینہ نیازی اور ایک ای این ٹی سپشلسٹ کو فوری معائنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو رسائی نہیں دی جا رہی۔
درخواست گزار نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف کو 15 اکتوبر 2024ء کو جیل میں عمران خان تک رسائی نہیں دی گئی، ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے معائنے کی اجازت دی جائے، ذاتی معالجین کو 15 روزہ شیڈول کے تحت چیک اپ کی اجازت دی جائے۔
ادھر حکومت نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی میں مزید توسیع کردی، ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی توسیع کے تحت اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی تا حکم ثانی برقرار رہے گی، اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی میں توسیع پنجاب حکومت نے کی ہے، اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث کیا گیا ہے، جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق سیاسی قیدیوں سمیت عام قیدیوں پر بھی ہوگا، سیکورٹی خدشات کے باعث اس بار جیل میں ملاقاتوں پر پابندی تاحکم ثانی رہے گی۔
معلوم ہوا ہے کہ پابندی کے دوران اڈیالہ جیل حکام نے حفاظتی اقدامات کومزید بڑھا دیا گیا ، ملاقاتوں پر پابندی کے دوران اڈیالہ جیل کے اندر اور بیرونی دیواروں کے ساتھ کئی حفاظتی مشقیں کی گئیں، جن میں جیل پولیس، پنجاب رینجرز، سول ڈیفنس، پنجاب پولیس، بم ڈسپوزل سکواڈ، ریسکیو 1122، اور فائر فائٹرز شامل تھے، ان حفاظتی مشقوں کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔



