راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) حکومت نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی میں مزید توسیع کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی توسیع کے تحت اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی تا حکم ثانی برقرار رہے گی، اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی میں توسیع پنجاب حکومت نے کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث کیا گیا ہے، جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق سیاسی قیدیوں سمیت عام قیدیوں پر بھی ہوگا، سیکورٹی خدشات کے باعث اس بار جیل میں ملاقاتوں پر پابندی تاحکم ثانی رہے گی۔
بتاتے چلیں کہ رواں ماہ پہلی بارپنجاب حکومت نے 4 اکتوبر سے 18 اکتوبر تک اڈیالہ جیل میں ہر قسم کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کی، اس کے بعد اکتوبر 18 کو جیل ملاقاتوں پرپابندی میں مزید 2 روز کی توسیع کی گئی، تاہم راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی میں توسیع کے باوجود آئینی ترمیم سے متعلق مشاورت کے لیے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملنے کی اجازت برقرار رکھی گئی تھی۔
معلوم ہوا ہے کہ پابندی کے دوران اڈیالہ جیل حکام نے حفاظتی اقدامات کومزید بڑھا دیا گیا تھا، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے ملاقاتوں پر پابندی لگائی تھی، ملاقاتوں پر پابندی کے دوران اڈیالہ جیل کے اندر اور بیرونی دیواروں کے ساتھ کئی حفاظتی مشقیں کی گئیں، جن میں جیل پولیس، پنجاب رینجرز، سول ڈیفنس، پنجاب پولیس، بم ڈسپوزل سکواڈ، ریسکیو 1122، اور فائر فائٹرز شامل تھے، ان حفاظتی مشقوں کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔



