اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) عدالت نے توڑ پھوڑ کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کے خلاف اشتہار جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی، آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنماء علی امین گنڈا پور کے خلاف اخبار میں اشتہار جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کے لیے عدالت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے، عدالت نے بذریعہ اشتہار علی امین گنڈا پور کو 21 نومبر کو طلب کرلیا۔ ادھر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت نے تھانہ آئی نائن میں درج مقدمہ میں مسلسل عدم پیشی پر وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپوراور سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بر قراررکھے ہیں، گزشتہ روز سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور عمر تنویر واثق قیوم عدالت پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے، دوران سماعت سابق صوبائی وزیر راجہ راشد حفیظ کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائرکی گئی جسے عدالت نے منظور کرلیا اور کیس کی مزید سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
قبل ازیں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے علی امین گنڈاپورکی جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں بھی درخواست ضمانت خارج کر دی تھی، دوران سماعت وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ’راستے بند ہیں، میرا رابطہ ہوا ہے، علی امین گنڈاپور پیش نہیں ہو سکتے، عدالت ایک موقع دے، علی امین عدالت پیش ہوں گے‘۔ جج نے ریمارکس دیے کہ ’بغیر کسی وجہ کے ہر مرتبہ ریلیف نہیں دے سکتے، آخری مرتبہ بھی آپ کی مرضی کی تاریخ دی گئی تھی‘، ان ریمارکس کے ساتھ ہی اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد ان کی درخواست ضمانت بھی خارج کردی۔



