عابد حسین قریشی
برادر عزیز ممتاز دانشور ،سید قاسم علی شاہ صاحب کی FB وال سے آج جب برٹرینڈ رسل کی quotation پڑھی،”” کہ لوگ ہماری خامیوں سے زیادہ ہماری خوبیوں کی وجہ سے ہمیں ناپسند کرتے ہیں”” تو فوری عرض کیا، “” حالانکہ لوگوں کی نظر خوبیوں سے زیادہ خامیوں پر ہوتی ہے،پھر بھی اگر خوبیاں لوگوں کو کھٹکتی ہیں،تو بندہ خوش نصیب ہے”۔ یہ تو وہ وقتی اور فوری جواب تھا جو اس پوسٹ کے نیچے لکھ دیا، مگر اس پوسٹ میں پنہاں جو گہری اور راز کی بات تھی، اس پر تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ دراصل ہم ایک complexed معاشرہ میں رہتے ہیں، ہم اپنی ہی ذات کے جھوٹے سحر میں اس بری طرح گرفتار ہوتے ہیں کہ ہم یہ توقع ہی نہیں رکھتے کہ کوئی ہم سے بہتر بھی ہو سکتا ہے۔ ہم تو خدائی تقسیم پر بھی راضی نہیں ہوتے۔ اسطرح کے ماحول اور اسطرح کی سوچ میں ہمیں دوسرے کی خوبیاں کھٹکتی ہیں۔ خصوصاً جو خوبی ہمارے اندر نہیں، وہ بھلا اور کسی کے اندر کیسے ہو سکتی ہے۔ ہم ہمیشہ دوسروں کی صلاحیتوں کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ زندگی میں بہت کم لوگ ملے جو دوسروں کی عدم موجودگی امیں انکی خوبیوں کی تعریف و ستائش کرنے والے تھے۔ اکثر کو شاقی ہی پایا۔ کسی کا اچھا ذکر کریں تو وہ زیر لب مسکرا دیں گے، گویا اس تعریف کا وہ بندہ مستحق نہیں تھا جسکا ذکر خیر ہو رہا تھا۔ برا ذکر کریں یار لوگ ساتھ اپنی طرف سے بھی کچھ حصہ مذہبی فریضہ سمجھ کر ڈال دیں گے۔ بات سمجھ نہ آسکی،کہ اگر میں اپنے کسی دوست، کسی عزیز، کسی ماتحت یا کولیگ کی کسی خوبی جو کہ اسے قدرت کی طرف سے عنایت ہوئی ہے، اسے سراہتا ہوں، اسکی تعریف و توصیف کرتا ہوں، تو میرا کیا بگڑتا ہے۔ ہر وقت کسی دوسرے کی خامیوں پر انگلی اٹھانا، ان خامیوں کا مزے لے لے کر کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یہ شاید ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ ہم دوسروں کی تعریف و ستائش میں بخل سے ہی کام نہیں لیتے بلکہ ہمیں دوسروں کی خوبیاں گراں گزرتی ہیں۔ جوں جوں کسی کا اچھا ذکر شروع ہوگا، طبیعت میں انقباض اور چہروں سے بے اطمینانی کے آثار نمایاں، اور اگر کسی کی خامیاں بیان کرنا شروع کریں تو محفل میں بشاشت و طمانیت کی لہر دوڑ جائے گی۔ جو مزہ کسی کی پشت پر دوسرے کی کلاس لینے میں آتا ہے، وہ بھلا تعریف و توصیف میں کہاں۔ معروف شاعر حسین مجروح کا یہ خوبصورت شعر شاید ہمارے معاشرتی رویوں کا بہترین عکاس ہے۔
وہ قحط مخلصی ہے، کہ یاروں کی بزم میں۔
غیبت نکال دیں تو فقط خامشی بچے۔
میرے خیال میں انسان کی نظر دوسروں کی خامیوں کی بجائے خوبیوں پر رہے تو اپنی کوتاہیوں پر بھی نظر پڑنے کا امکان رہتا ہے۔ بعض اوقات ہم اپنی خامیوں کو دوسروں کے اندر ہر قیمت پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک سوشل ایشو ہے، جسکی وجہ سے دن بدن باہمی تعلقات میں وہ گرمجوشی، اپنائیت، اخلاص و ایثار کا فقدان نظر آ رہا ہے، جو کبھی ہمارے کلچر کا بہت خوبصورت اور دل پزیر جزو ہوتا تھا۔
ہماری خوبیاں اور خامیاں



