اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماءاعظم سواتی کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا،جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، اعظم سواتی کو انسداد دہشت گردی عدالت پہنچایا گیا ۔جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ اعظم سواتی کا مزید جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے؟ کوئی ثبوت دیں، جس پر پراسیکیوٹر راجا نوید کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی سے تفتیش کیلئے مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اعظم سواتی کا مزید جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے؟ کوئی ثبوت دیں، اعظم سواتی سے کیا اسلحہ برآمد ہوا ہے؟ کچھ تو بتائیں؟۔پراسیکیوٹر راجا نوید نے کہا کہ اعظم سواتی نے کارکنان کو اکسایا ہے۔
جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دئیے کہ ثبوت جسمانی ریمانڈ کیلئے ناکافی ہیں۔بعدازاں انسداددہشت گردی عدالت نے اعظم سواتی کو 2 مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو 3 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو تھانہ کوہسار میں درج دہشتگردی کے مقدمہ میں انسداد دہشتگردی عدالت پیش کیا گیا تھا جبکہ جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی تھی۔ ایس ایچ او تھانہ کوہسار شفقت فیض نے پی ٹی آئی رہنما کے 30 کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہمیں فون ریکوری اور مالی معاونت کی انفارمیشن کے حوالے سے جسمانی ریمانڈ چاہئے۔
وکیل اعظم سواتی نے مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی تھی جبکہ ایس ایچ او تھانہ کوہسار نے 30 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔اعظم سواتی نے جج سے مکالمے میں کہا تھاکہ کیا آپ میرا انتظار کررہے تھے؟ جس پر جج طاہر عباس سپرا نے کہا اعظم سواتی میں صرف آپ کیلئے نہیں بیٹھا 200 کے قریب لوگ تھے جن کو پیش کیا گیا۔ بتایا گیا تھا کہ اعظم سواتی کو دو دن پہلے اسلام آباد پولیس نے حراست میں لیا تھا۔رہنما پی ٹی آئی اعظم سواتی کو گرفتار کرکے پہلے تھانہ سنگجانی منتقل کیا گیا، پھر رات گئے انھیں تھانہ سنگجانی سے سی آئی اے سینٹرمنتقل کیا گیا تھا۔



