پشاور (نیشنل ٹائمز) گورنر خیبرپختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین اور ہم سب کا صوبے میں امن وامان کیلئے بیٹھنا بہت اچھی پیشرفت ہے،سیاسی نظریاتی اختلافات ہوسکتے لیکن امن قائم کرنا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے، منتخب نمائندے مسئلے کا حل نہیں نکالیں گے تو کون نکالے گا؟ کل رات وزیراعلیٰ کا فون آیا امن کی خاطر اجلاس میں گیا۔
انہوں نے ہم نیو زکے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخواہ میں امن وامان کی صورتحال بہت خراب ہے، وزیراعظم سے بھی بات کی تھی کہ نوگوایریاز بنے ہوئے تھے، کل رات مجھے وزیراعلیٰ کا فون آیا کہ ہم جرگہ کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ بھی شرکت کریں تو اچھی بات ہوگی، صوبے کے امن وامان کی وجہ سے ان کی آفر کو قبول کیا اور ہم سب بیٹھے، اس میں صوبائی اسمبلی کا بڑا کردار تھا، محسن نقوی کو بھی کریڈٹ دوں گا ، ہم نے ان کو جن چیزوں کا کہا وہ اختیار دیا گیا۔
پشتونوں کے جرگے میں ایک واقعہ ہوا جس میں تین چار لوگ شہید ہوئے، ان کے پاس گئے تھے وزیراعلیٰ بھی جائیں گے، کل اس جرگے میں بھی جائیں گے ، وزیراعلیٰ اس جرگے کی میزبانی کریں گے۔ پاکستان کے آئین قانون کے دائرے میں کام کرے گا ہم ہر کسی کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں۔
خیبرپختونخواہ میں امن وامان کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، گیارہ ڈپلومیٹ فیملی کے ساتھ جارہے تھے کیا ہوا؟پاراچنار، ڈی آئی خان، کرک، بنوں، لکی، کوہاٹ، ٹانک میں کیا ہورہا تھا، سی پیک روڈ اور ہائی ویز بلاک ہوجاتی تھیں، صوبے کے سیاسی لوگ اور منتخب نمائندے مسئلے کا حل نہیں نکالیں گے تو کون نکالے گا؟ سیاسی نظریاتی اختلافات ہوسکتے لیکن امن قائم کرنا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے، اچھی بات ہے کہ مرضی کی تشخیص سے پہلے ہی مسئلے کا حل نکال لیں، وزیراعلیٰ اور ہم سب کا صوبے میں امن کیلئے بیٹھنا بہت اچھی پیشرفت ہے۔



