اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات پر پابندی کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود اڈیالہ جیل میں وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر سیکریٹری داخلہ اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے، اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے وکیل انتظار حسین پنجوتھہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات پر پابندی کے خلاف درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی ایسے وقت میں لگائی گئی جب عمران خان کے خلاف نئے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، فریقین کا کنڈکٹ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے اور دانستہ طور پر عدالتی آرڈر کی خلاف ورزی کی گئی، اس لیے توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔
بتایا جارہا ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تمام ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، پنجاب حکومت نے اڈیالہ جیل میں 18 اکتوبر تک ہر قسم کی ملاقات پر پابندی عائد کی ہے، اس دوران بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے پارٹی رہنماؤں، وکلاء اور فیملی کی ملاقات پر بھی پابندی ہوگی۔
معلوم ہوا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی سکیورٹی وجوہات کے باعث لگائی گئی، ملاقاتوں پر پابندی کا یہ فیصلہ پنجاب حکومت نے کیا، جس کے تحت اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق عام قیدیوں پر بھی ہوگا، علاوہ ازیں اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سلسلے میں جڑواں شہروں میں سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔



