پشاور(نیشنل ٹائمز) حکومت خیبرپختونخوا نے کے پی ہاؤس سیل کرنے کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے خیبرپختونخوا ہاؤس سیل کرنے کے کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا ہاؤس صوبہ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پشاور ہائی کورٹ ہی اس درخواست کو سنے قبل ازیں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ غیرقانونی تعمیرات کی آڑ میں خیبرپختونخوا ہاؤس کو سیل نہیں کیا جاسکتا ان کاکہنا تھا کہ عدالت سے خیبرپختونخوا ہاؤس کو کھولنے کی درخواست کریں گے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ہاؤس کا نقشہ 1975 میں پشاور سے منظور کرایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کر دیا تھا سی ڈی اے ذرائع نے بتایا کہ بلڈنگ رولز کی خلاف ورزی پر خیبرپختونخوا ہاؤس سیل کیا جا رہا ہے اسپیشل مجسٹریٹ سردار محمد آصف نے خیبرپختونخوا ہاؤس کے متعدد بلاک کو سیل کیا ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ بھی موجود تھے. قبل ازیںاسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے کے پی ہاؤس اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جس میں اپوزیشن ارکان بھی شامل ہیں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے مطابق مجسٹریٹ کی موجودگی میں اسلام آباد انتظامیہ نے کے پی ہاؤس کو سیل کیا‘ کے پی ہاؤس سیل کرنے کی وجوہات جو بھی ہیں مگر یہ اچھا عمل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اس ایوان اور عوام کی عزت کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، وفاق صوبے کے عوام کو مجبور کر رہی ہے سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ بلڈنگ رولز کی خلاف ورزی پر خیبرپختونخوا ہاؤس سیل کیا جا رہا ہے۔



