کراچی (نیشنل ٹائمز) کراچی ایئرپورٹ کے قریبی چینی شہریوں پر ہوئے حملے میں استعمال گاڑی کے مالک کا پتا چل گیا جو کہ بلوچستان کا رہائشی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملے میں استعمال گاڑی جس کے نام تھی اس کا نادرا ریکارڈ مل گیا ہے۔گاڑی کی تفصیلات چیسز نمبر سے حاصل ہوئیں۔ کراچی ایئرپورٹ سگنل کے قریب دھماکے کی بم ڈسپوزل سکواڈ نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔
حکام کے مطابق گاڑی جس شخص کے نام تھی اس کی شناختی دستاویزات حاصل کرلی گئی ہیں اور اس شخص کے زیر استعمال سموں کا ڈیٹا بھی لیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ خود کش حملہ غیر ملکیوں کے وفد پر ہوا، دھماکے کے نتیجے میں 12 گاڑیوں کو بری طرح نقصان پہنچا اور تین مکمل تباہ ہوئیں۔
دھماکے میں تقریباً 70 سے 80 کلو گرام کمرشل دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور گاڑی میں دھماکا خیز مواد لے کر سوار تھا اور چینی باشندوں کی آمد کا منتظر تھا جس نے ہدف کو قریب آتے دیکھ کر گاڑی ان سے ٹکرادی۔ یاد رہے کہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے دھماکے میں 3 غیر ملکی شہری جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ واقعے میں غیر ملکی شہری سمیت17 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ آئل ٹینکر میں زور دار دھماکے کے بعد پاس ہی موجود دیگر گاڑیوں کو آگ لگنے سے زیادہ نقصان ہوا تھا۔
دھماکے سے متعلق مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ فرانزک کی رپورٹ کے آنے تک کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتے۔پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے 3 غیر ملکیوں کی شناخت لی جون، وہ چون زن اور لی زہااو کے نام سے ہوئی تھی۔ دھماکے کے 17زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ایس ایس پی ملیر کے مطابق کراچی میں ائیرپورٹ سگنل کے قریب زودار دھماکا ہوا جس کے بعد گاڑیوں میں آگ لگ گئی تھی۔
بتایاگیا تھا کہ ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد ٹینکر اور گاڑیوں کی آگ بجھادی گئی تھی۔ دھماکے کے بعد شارع فیصل ایئر پورٹ کے اطراف میں بدترین ٹریفک جام ہوگیاتھا۔آگ لگنے سے تین گاڑیاں اور چار موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئی تھیں۔دھماکے کے بعد شارع فیصل کے اطراف میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ دھماکے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 17 زخمی ہوگئے۔
جاں بحق اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں خاتون، 3 سکیورٹی، 2 رینجرز اور ایک پولیس اہلکار، غیر ملکی اور دیگر افراد شامل تھے۔دھماکے کے بعد جائے واقعہ کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ اظفر مہیسر کا کہنا تھا کہ کرائم سین پر کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک آئل ٹینکر میں آگ لگی اور پھر دھماکے سے نقصان ہواتھا۔ دھماکے سے کئی گاڑیاں تباہ ہوئیں، دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی۔



