(از کلیم چشتی)
سیالکوٹ شہر سے تقریباً پانچ کلو میٹر مغرب کی طرف ایک تاریخی اور قدیمی قصبہ چٹی شیخاں ہے۔ کئی تاریخی حوالوں کی روشنی میں خصوصی طور پر مختلف کتابوں جن میں “ جواہر فریدی”، “ اولاد گنج شکر”، “ تاج العارفین” ، “تاریخ سیالکوٹ”، اور “ سیالکوٹ گزییٹر” کے مطابق یہاں بابا فرید گنج شکر کی اولاد آباد ہے۔ جو قریشی، فاروقی اور چشتی کے ناموں سے پہچانی جاتی ہے۔ مختصراً تاریخ اس طرح ہے کہ آج سے تقریباً ساڑھے چار سو سال پہلے بابا فرید گنج شکرؒ کے پڑ پوتے حضرت بدر الدین سلیمان چشتی بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں سے کشمیر میں سیر و سیاحت کے لیے تشریف لائے۔ چٹی شیخاں اس وقت ایک آباد قصبہ تھا اور کشمیر کے ملحقہ راستے میں پڑتا تھا۔ بابا جی نے یہاں قیام کیا اور یہیں پر شادی کی۔ اپنے عزیز و اقارب کو چشتیاں اور پاک پتن سے بلوا کر یہاں آباد کیا۔ اس طرح ایک نسل انکی یہاں آباد ہو گئی۔ چٹی شیخاں مغلیہ دور میں ایک سٹیٹ(ریاست) تھی۔ اور ہمارے آبا میں سے ساتویں پشت میں نواب رضا فاروقی قریشی اسکے حاکم تھے۔ یہ وہی نواب رضا ہیں جنہوں نے رسول نگر وزیرآباد کے زمیندار چوہدری پیر محمّد کے ساتھ مل کر سکھوں کے قبضہ میں آئے ہوئے خاندان اہل بیت کے تبرکات/نوادرات ایک زرِ کثیر ادا کر سکھوں سے واگزار کرائے جن تبرکات میں نعلین اور آئینہ مبارک حضور سرور عالم ﷺ و جبہ شریف مولا علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امام حسن ؓاور امام حسین ؓ کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی دو عدد چوبی تختیاں جن پر تحریر ایسی کہ نظر ٹھہرنے نہ پائے اور حضرت غوث العظم رحمتہ اللہ کی تسبیح۔سیالکوٹ گزییٹر نے جو انگریز نے 1920 میں شائع کرایا اسکے صفحہ نمبر 47 پر بھی ان تبرکات کا زکر ہے۔ یہ وہی تبرکات ہیں جن کا کثیر حصّہ اس وقت بادشاہی مسجد لاہور میں محفوظ ہے۔
چٹی شیخان مغلوں کے زمانے میں تعلیم کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ رسالہ “بول نماز” کے مصّنف کے مطابق مغلوں کے دور میں چٹی شیخاں ایک وسدا نگر اور علاقہ میں تعلیم کا مرکز تھا۔ مشہور پنجابی شاعر حافظ برخودار رانجھا تخت ہزارہ بہلوال سے یہاں تعلیم کے لیے تشریف لائے اور یہیں مدفون ہیں۔ 1864 میں سیالکوٹ شہر کے باہر جن تین دیہات میں پرائمری سکول بناے گئے سمبڑیال اور کوٹلی لوہاراں کے بعد چٹی شیخاں بھی ان میں شامل تھا۔
بابا فرید گنج شکرؒ سے نسبی اور روحانی تعلق کی بنیاد پر اصلاً قریشی فاروقی عقیدتاً چشتی و فریدی کہوانے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔ چٹی شیخاں میں بابا فرید گنج شکرؒ کی ایک کثیر اولاد تقریباً تین ساڑھے تین سو خاندانوں پر مشتمل آباد ہے۔ جو زندگی کے کئی شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نواب رضا فاروقی قریشی مثل حقیقت مرتبہ 1865 کے مطابق چٹی شیخاں کے قرب و جوار کے کئی دیہات پر مشتمل ایک وسیع ریاست کے حکمران تھے اور تقریباً ایک ہزار ایکڑ اراضی کے مالک تھے۔ یہ وہی اراضی ہے جو بعد ازاں قریشی فاروقی برادری کے مختلف خاندانوں میں تقسیم ہو کر آج تک اُنکے زیر تصرّف ہے۔ چٹی شیخاں کی ریاست کا مکمل حدود و اربعہ تو تاریخ میں نہیں ملتا البتہ انگریز کے زمانہ میں ذیلداری نظام میں قریشی محمّد یعقوب ذیلدار تقریباً 36 ملحقہ دیہات کے ذیلدار تھے اور علاقہ میں عزّت و احترام سے جانے جاتے تھے۔ اسی طرح قریشی محمّد حسین سفید پوش علاقہ کی ایک بااثر شخصیت تھے اور سیالکوٹ گزییٹر جو 1920 میں انگریز ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے مرتب کیا اُس میں اُنکے نام کا دو مرتبہ ذکر کیا گیا ہے جو کہ ایک بڑا اعزاز ہے۔ اسی طرح قریشی حکیم برادری کے سربراہ حکیم محکم الدین قریشی بڑے مخیّر اور فلاحی کاموں پر ذاتی مال خرچ کرنے میں شہرت رکھتے تھے۔ نالہ پلکھو پر دو پُل اور جامع مسجد کی تعمیر اُنکی فراخ دلی کے زندہ ثبوت ہیں۔ انکی اولاد میں کافی لوگ بڑے پڑھے لکھے اور اچھے عہدوں پر فائز رہے۔ جن میں بریگیڈیر سلیم قریشی، انکے بھائی ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کے سابق ایم۔ایس ڈاکٹر عظیم قریشی، بریگڈیر یونس قریشی، ممتاز ماہر تعلیم محمّد بشیر قریشی اور محمّد انور قریشی وغیرہ شامل ہیں۔ اس طرح قریشی فاروقی خاندان کے قبل از قیام پاکستان ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر فضل الہٰی چشتی جو مختلف اعلٰی سرکاری عہدوں پر فائز رہے اُنکے فرزندان ارجمند میں ارشد منیر چشتی نیوی کے ایڈمرل اور ارشد نذیر چشتی آرمی سے کرنل کے عہدوں سے ریٹائر ہوئے۔ علاقہ کی ہر دل عزیز شخصیت قریشی محمد سرور نمبردار اور انکے بیٹے صابر حسین قریشی نمبردار برادری میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے جنہوں نے گرلز ہائی سکول کے لیے ایک ایکڑ زمین وقف کی جس پر آج کل گرلز ہائی سکول چل رہا ہے۔ انکے بیٹے عابد حسین قریشی حال ہی میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں اور برادری کی عزّت و عظمت کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔ “اولاد گنج شکر” کتاب کے مصنف تحریک آزادی کے سپاہی، ممتاز عالم دین اور مولانا غلام فرید قریشی فارقی کے پوتے ڈاکٹر جنید اقبال قریشی PHD زرعی یونیورسٹی کے ایک بڑے سکالر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور اُنکے بھائی کرنل جاوید قریشی چشتی آرمی سے ریٹائر ہوئے، اعجاز انور فریدی مذہبی سکالر ہیں اور حاجی ادریس قریشی اس وقت علاقہ کی ممتاز مذہبی اور روحانی شخصیت ہیں۔ اسی طرح کرنل نعمان قریشی اور میجر اشتیاق متین قریشی کیپٹن فرقان اشتیاق قریشی اور ڈاکٹر طاہر ایوب قریشی ممتاز سرجن سروسز ہسپتال لاہور میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح سیالکوٹ میں ڈاکٹر عبدالباری قریشی بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پھر گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں خالد حسین قریشی ایڈوکیٹ نے چیئرمین یونین کونسل کورپور کا الیکشن جیت کر عوام و خاص کی خدمت میں نیک نامی کمائی۔ سیاسی شیصیات میں ظہیر احمد قریشی مرحوم کسی تعارف کے محتاج نہی ۔ پاکستان کی والی بال ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ ڈی۔ایس۔پی ٹریفک سیالکوٹ مظہر فرید قریشی اور لاھو پولیس میں ایس ایچ او ادریس قریشی کا تعلق بھی اسی برادری اور قصبہ سے ہے۔ والی بال میں ہمارے قصبہ چٹی شیخاں کو ایک منفرد مقام حاصل ہے جس میں بڑے نامور کھلاڑی جن میں سے تین پاکستان کی قومی ٹیم کے کپتان بشمول کرنل قیصر مصطفٰی، زمان بٹ اور پاکستان آرمی کی نیشنل ٹیم کے موجودہ کپتان حیدر عباس قریشی کا تعلق بھی اسی قصبہ سے ہے۔ جاوید چشتی سابق پرنسپل پائیلٹ سکول اور پروفیسر اشفاق قریشی پرنسپل علامہ اقبال کالج سیالکوٹ کا تعلق بھی اسی قصبہ سے ہے۔ . کاروباری شحصیات میں سے ایوب قریشی۔ مطلوب قریشی۔ ندیم عبداللہ۔شیح امجد حسین۔ افضل قریشی۔عامر اعجاز ۔ عامر افضل قریشی۔عظیم قریشی۔ عثمان ظہیر قریشی۔ میاں ابرار ۔ ندیم سہیل۔
متذکرہ بالا افراد کے علاوہ چٹی شیخاں کی قریشی فاروقی برادری میں بے شمار ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، پولیس، واپڈا، پروفیسر، صحافیوں میں روزنامہ جنگ لاہور کے ایم طفیل اور دیگر کئی شعبوں میں کئی نامور شخصیات پیدا کی ہیں جن کا فرداً فرداً یہاں ذکر کرنا ممکن نہ ہے جن میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہیں جو ملک و قوم کی خدمت پوری جانفشانی سے ادا کرتے ہوئے تاریخی قصبہ چٹی شیخاں کا نام روشن کر رہے ہیں۔



