انیسویں صدی کے اواخر میں ہندوستان پر قابض غیر ملکی استعمار نے ارضِ قادیان میں جعلی نبوت کا جو پودا کاشت کیا اور اس کی آبیاری کرتا رہا، اس کے آغاز ہی میں علمائے ربانیین اس کی حقیقت آشکار کرنے میں مصروف اور سادہ لوح عوام کو اس کے دام ہم رنگ زمین میں آنے سے بچاتے رہے، جن میں سب سے نمایاں نام ناصر السنہ علامہ محمد حسین بٹالوی (وفات: 1920ء) کا ہے۔
اس عالم بے بدل نے پورے ملک میں اس فتنے کو آشکارا کیا اور اکابر علما کی تائید سے 1891ء میں ایک فتوائے تکف۔یر مرتب کیا جس میں متنبیِ قادیان مرزا کادیانی کو دجال اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔
بعد ازاں اس فتنے کو شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری (وفات: 1948ء) نے منطقی انجام تک پہنچایا اور بالآخر مرزا کادیانی نے ان کے مقابلے میں عاجز آ کر دعا (مباہلہ نہیں) کی کہ جھوٹا سچے کی زندگی مر جائے۔
مرزا کادیانی کی یہ ”اکلوتی دعا” تھی جو قبول ہوئی اور اس کے نتیجے میں وہ 26 مئی 1908ء کو جہنم واصل ہوا، جبکہ مولانا امرتسری مرحوم اس کے بعد چالیس سال زندہ رہے اور قادیانی جغادریوں کو ناکوں چنے چبواتے رہے۔
اسی بارے میں مولانا ظفر علی خان (وفات: 1956ء) نے کہا تھا:
خدا سمجھائے اس “ظالم” ثناء اللہ کو
نہ چھوڑا قبر میں بھی قادیانیت کے بانی کو
زیر نظر مضمون میں ہم شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ ہی کے ایک شاگرد اور بلند مرتبت اہلِ حدیث عالم حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری (وفات: 1989ء) کی ان خدمات کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے سلسلے میں انجام دیں اور حکومتی ایوانوں میں ختم نبوت کے اس عظیم مجاہد نے قادیانی خلیفہ اور اس کے حواریوں کا پامردی سے مقابلہ کیا۔
اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مذہبی راہنماؤں کی طرف سے جو کاوشیں بروئے کار آئیں، ان کا ذکر تو ہم سنتے رہتے ہیں، لیکن اس مردِ مجاہد کی مساعی چونکہ ہماری نظروں سے اوجھل ہیں اور کیا اپنے اور کیا بے گانے، سبھی ان کے تذکرے میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اس لیے ذیل کی سطور میں ہم تحریک ختم نبوت 1974ء میں ان کی جہود پیش کرتے ہیں۔
ارضِ پاک میں آئینی طور پر اس گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی پہلی آواز مولانا محمد حنیف ندوی (وفات: 1987ء) نے 2 دسمبر 1949ء کو ہفت روزہ ” الاعتصام” میں اٹھائی اور اس جماعت کے خلاف پہلی تحریک فروری 1953ء میں برپا ہوئی جس میں دس ہزار اسلامیانِ پاکستان شہید ہوئے۔
دوسری مرتبہ مئی 1974ء میں اس گروہ کو غیر مسلم قرار دینے کی تحریک کا آغاز ہوا جو تین ماہ بعد ثمر آور ہوئی اور اس فرقے کو کا۔فر ڈکلیئر کر دیا گیا۔
29 مئی 1974ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی غنڈوں کا نشتر کالج ملتان کے طلبہ پر تشدد اس تحریک کا نقطہ آغاز بن گیا اور جلد ہی یہ آواز ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر گئی کہ اس حادثے کے مجرم گرفتار کیے جائیں۔
اس کام کے لیے صمدانی کمیشن کے نام سے ایک انکوائری کمیٹی بنی، لیکن عوام کے احتجاج کی بدولت حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ فیصلہ ہوا کہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کی دینی حیثیت کو زیر بحث لایا جائے اور خلیفہ کادیانی مرزا ناصر کو گفتگو کا موقع دے کر سوال جواب کیے جائیں، تاکہ اس قضیے کو آئینی طور پر نمٹایا جا سکے۔
حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”فسانہ قادیان” کے آغاز ( ص: 62) میں لکھا ہے کہ قومی اسمبلی نے 3 جون 1974ء سے اس مسئلے کی تحقیق و تفتیش کا سلسلہ شروع کیا اور مکمل آزادی کے ساتھ کادیانیوں کو اپنا موقف اور اس کے دلائل پیش کرنے کی اجازت دی۔
اس سلسلے میں تمام اخراجات بھی حکومت نے خود برداشت کیے۔ 30,40 دن کی تحقیق کے نتیجے میں جب سارا مواد اکٹھا ہو گیا تو اگست کے دوسرے ہفتے سے پارلیمنٹ نے اس مسئلے پر باقاعدہ بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ کارروائی خفیہ طریقے سے انجام پاتی رہی۔
اگست 74ء کے اوائل میں قادیانی خلیفہ مرزا ناصر نے اپنی صفائی میں 1200 صفحات کا طویل بیان قومی اسمبلی میں داخل کیا جس میں اس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادیانی گروہ بھی دیگر اسلامی فرقوں کی طرح ایک مذہبی جماعت ہے۔ اس پر تحریک ختم نبوت کے زعماء اور اسمبلی کے ممبران نے مرزا ناصر کے بیان پر جرح کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس جرح کا اصل مقصد مرزائی کتب کی روشنی میں کادیانیوں کے اصل عقائد کا اظہار اور اس امر کی نشان دہی کرنا تھا کہ مرزا ناصر نے اپنے بیان میں جو کچھ کہا ہے، وہ حقائق کے خلاف اور صداقت کے منافی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ایک قانونی پیچیدگی یہ تھی کہ اس مکالمے میں صرف ممبرانِ اسمبلی ہی حصہ لے سکتے تھے اور وہ بھی اس طرح کہ اراکینِ اسمبلی جو سوال کرنا چاہیں، سکریننگ کمیٹی میں پیش کریں اور اس کے ساتھ مرزائی لٹریچر سے وہ عبارت مع حوالہ درج کریں جس کی بنا پر وہ یہ سوال کر رہے ہیں، پھر کمیٹی کے مطالبے پر اصل کتاب اور دستاویز بھی مہیا کریں۔
یہ کمیٹی جن سوالات کو معقول اور مدلل خیال کرے گی، وہ اٹارنی جنرل کو فراہم کرے گی اور وہ متعلقہ رکن اسمبلی کے حوالے سے مرزا ناصر سے جواب طلب کریں گے۔
ظاہر ہے کہ جرح کا یہ طریقہ بڑا پیچیدہ، مشکل اور طویل العمل تھا۔ ایک طرف تو لا علمی کی بدولت ارکانِ اسمبلی سوال کرنے سے قاصر تھے اور دوسری طرف اس کام کے اہل افراد کی وہاں تک رسائی خارج از امکان تھی۔ اس صورتِ حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے بعض ممبران نے ایسے علماء اور لیکچراروں سے رابطہ کیا جن کی پرجوش اور جذباتی خطابت سے وہ متاثر تھے، لیکن جلد ہی انھیں معلوم ہو گیا کہ یہ حضرات اس کام کے اہل نہیں۔ کوئی صاحبِ قلم نہیں تو کسی کے پاس متعلقہ لٹریچر نہیں۔
حافظ ابراہیم کمیر پوری صاحب فرماتے ہیں کہ میں ان دنوں سرگودھا میں مقیم تھا اور علالت کے باعث زیادہ تگ ودو نہیں کر رہا تھا۔ لیکن انہی دنوں رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد سلیمان تونسوی نے خواجہ قمر الدین سیالوی سے عرض کی کہ وہ ہماری راہنمائی کے لیے کسی ایسے صاحبِ علم کا انتظام کریں جو اِن اِن اوصاف کا حامل ہو۔
حضرت خواجہ صاحب سیالوی نے مجھے اس کام کا اہل سمجھا اور میں ان کے ارشاد کے مطابق خواجہ صاحب تونسوی کے پاس اسلام آباد پہنچ گیا اور قادیانیوں کے خلاف قرار داد منظور ہونے تک وہیں رہا۔
پیر آف سیال کے ارشاد پر جب اسلام آباد جانے کا پروگرام طے پایا تو اسلام آباد میں قیام کے مصارف کا مسئلہ سامنے آیا۔ سرگودھا میں تحفظ ختم نبوت کی تنظیم سے کچھ لینا میری جماعت کو پسند نہ تھا اور مقامی جماعت سے اخراجات وصول کرنا مجھے گوارا نہ تھا۔ آخر اس مشکل کو محترم الحاج میاں عبدالستار صاحب آزادؔ نے حل کر دیا۔ انھوں نے یہ بوجھ اپنے ذمے لے لیا اور اسے پوری طرح نبھایا۔ وعند اللہ فی ذاک الجزاء
راولپنڈی پہنچ کر میں نے سب سے پہلے مختلف ذرائع سے یہ معلوم کیا کہ مجھے جو کچھ کرنا ہے اس کے حدود کیا ہیں اور اس کا طریق کار کیا ہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ مفتی محمود، شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالحکیم، پروفیسر عبدالغفور اور کچھ دوسرے حضرات نے بھی اس مقصد کے لیے کچھ علماء کی خدمات حاصل کی ہیں۔
میں ان سب سے ملا لیکن شرح صدر نہ ہوا۔ آخر براہِ راست سکریننگ کمیٹی کے چیئرمین سے ملاقات کی۔ وہ راسخ العقیدہ مسلمان، جدید تعلیم یافتہ اور قانون مروجہ کے طالب علم تھے۔ ان کی راہنمائی سے مجھے بڑا اعتماد حاصل ہوا۔ مزید برآں انھوں نے خود بھی مرزائی سیاسیات کے موضوع پر مجھ سے معلومات حاصل کیں۔
مرزا ناصر احمد نے اپنے بیان میں جن حقائق کو چھپایا تھا، وکیل استغاثہ کی طرح ہم ان کی زبان ہی سے وہ اگلوانا چاہتے تھے اور اراکین اسمبلی کو بتانا چاہتے تھے کہ انھوں نے اس معزز ایوان کو جو معلومات فراہم کی ہیں وہ غلط بیانی اور فریب دہی کے زمرے میں آتی ہیں۔
اٹارنی جنرل ممبرانِ اسمبلی کے حوالے سے جو سوال مرزا ناصر سے پوچھتے تھے، دراصل وہ ہمارے ہی تیار کردہ سوال تھے جو درمیانی کمیٹیوں سے پاس ہو کر وہاں تک پہنچتے تھے۔
بعد ازاں حافظ کمیر پوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”فسانۂ قادیان” (ص: 70-64) میں وہ مدلل چھبیس سوالات درج کیے ہیں جو انھوں نے لکھے اور ممبر نیشنل اسمبلی خواجہ غلام سلیمان تونسوی نے 25 جولائی 1974ء کو قومی اسمبلی میں پیش کیے تھے، علاوہ ازیں حافظ ابراہیم صاحب مرحوم نے مزید 18 متفرق سوالات بھی اپنی کتاب میں درج کیے ہیں جو ان کے تیار کردہ تھے اور قومی اسمبلی میں زیر بحث لائے گئے۔
طوالت کے پیش نظر ہم یہ ساری تفصیلات تو درج نہیں کر سکتے، شائقین انھیں محولہ بالا کتاب میں ملاحظہ کریں، البتہ ہم وہ فیصلہ کن سوال اور اس کی روداد حافظ کمیر پوری ہی کے قلم سے پیش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مرزا ناصر کی مکاری اور دجل و فریب کھل کر سامنے آ گیا اور یوں قادیانی امت اپنے انجام کو پہنچی۔
حافظ کمیرپوری صاحب ”لاجواب اور فیصلہ کن سوال” کے عنوان سے اپنی کتاب ” فسانہ قادیان” میں لکھتے ہیں:
” ارکانِ اسمبلی کی طرف سے آخری سوال جس کا جواب مرزا ناصر نہ دے سکا، وہ میرا ہی تحریر کردہ تھا۔
ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ مرزا کی نبوت کو ظلی، بُروزی اور لغوی وغیرہ کہہ کر اس کی شدت اور سنگینی کو کم کرنا چاہتے ہیں، جب کہ وہ خود اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پلہ بلکہ ان سے اونچی شان کا حامل قرار دیتے ہیں، جیسا کہ ان کا ایک مرید ان کی زندگی اور ان کی موجودگی میں ان کی مدح و توصیف ان الفاظ میں کرتا ہے:
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار البدر: 22 اکتوبر 1902ء)
مرزا قادیانی نے اس گستاخ کو نہ ڈانٹا، نہ جھڑکا۔ بلکہ ”زبانِ مبارک” سے جزاک اللہ کہا اور فریم شدہ قصیدہ گھر لے گئے۔ مرزا ناصر نہ صرف اس سوال کا جواب نہ دے سکا بلکہ بھری محفل میں اپنی ایک غیر اخلاقی حرکت کی پاداش میں اٹارنی جنرل کی سرزنش کا نشانہ بن گیا۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سکریننگ کمیٹی میں جو چند سوالات ہماری طرف سے پیش کیے گئے، ان میں یہ سوال اپنے صحیح حوالے کے ساتھ شامل تھا۔ یہ سوال کسی اور معزز رکن کی طرف سے بھی آیا تھا، لیکن انھوں نے حوالے میں قادیانیوں کے اخبار “بدر” کی جگہ ”الفضل” کا نام لکھ دیا تھا۔ بعض مخفی ذرائع مرزا ناصر کو ہمارے فراہم کردہ ان سوالات سے رات کو آگاہ کر دیتے تھے اور قادیانی علما کا بینچ انھیں جواب کے لیے تیار کرتا تھا۔ سکریننگ کمیٹی نے ہماری اجازت سے طے کیا کہ یہ سوال اس معزز ممبر کی طرف سے پیش ہو، اس کارروائی کا منشا یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ ارکان کو جرح کے عمل میں شریک کیا جائے۔
خلیفہ جی اس سوال کا جواب دینے کے لیے ”الفضل” کا پہلا شمارہ ساتھ لائے۔ اٹارنی جنرل نے جب ”الفضل” کے حوالے یہ سوال کیا تو خلیفہ جی نے اس کا پہلا شمارہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”الفضل” تو شروع ہی 1914ء میں ہوا تھا، لہٰذا یہ سوال قطعی بے بنیاد ہے جو ”الفضل” کا آغاز 1902ء سے پہلے بتا رہا ہے۔
اٹارنی جنرل نے سوال واپس لے لیا اور ارکانِ اسمبلی کو صحیح حوالہ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ میرے احباب نے فوراً اس صورتِ حال سے مجھے مطلع کیا۔ میں نے متعلقہ کمیٹی کی وساطت سے قومی اسمبلی کے سیکرٹری اور اٹارنی جنرل تک اصل حوالہ ”بدر۔ 26 اکتوبر 1902ء” پہنچایا، پھر دوسرے دن خواجہ صاحب تونسوی کے حوالے سے دوباہ سوال کرنے کی درخواست کی، جو منظور ہوئی۔
اگلے دن کارروائی کے آغاز ہی میں کمال عقل مندی سے کام لیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے خلیفہ جی سے کہا کہ مرزا صاحب! وہ کل والی بات پوری طرح صاف نہیں ہوئی۔ مرزا ناصر نے پوری عیاری سے کام لیتے ہوئے پر اعتماد انداز میں کہا: جناب میں بتا چکا ہوں کہ 1902ء میں ”الفضل” تھا ہی نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا: ہو سکتا ہے کہ کسی اور اخبار، رسالے یا کتاب میں یہ عبارت ہو اور فاضل ممبر کو حوالہ لکھنے میں غلطی لگ گئی ہو۔ آپ اپنے پورے لٹریچر سے اس شعر کی نفی کریں۔ مرزا ناصر نے ایسے ہی کیا اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ جناب یہ ہم پر کھلم کھلا اتہام ہے۔ میں اپنے مکمل لٹریچر میں اس کی نفی کا اظہار کرتا ہوں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے ہمارا پیش کردہ 22 اکتوبر 1902ء کا ”بدر” نکالا اور بلند آواز سے یہ شعر پڑھتے ہوئے قومی اسمبلی کو ورطہ حیرت اور خلیفہ ربوہ کو بحرِ ندامت میں ڈال دیا، پھر خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”مرزا صاحب! یہ بات قطعاً قرین قیاس نہیں کہ یہ حوالہ آپ اور آپ کے معاونین کو معلوم نہ ہو۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ نے ایک مذہبی راہنما ہوتے ہوئے اس معزز ہاؤس میں حقائق پر پردہ ڈالنے کی ناروا جسارت کی ہے۔”
خلیفہ جی جو سات دن سے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر اپنی نوعیت میں اس مثالی جرح سے مجروح ہو چکا تھا، آج کی کارروائی سے اتنا بد دل ہوا کہ اس نے مزید سوالات کا جواب دینے سے معذوری ظاہر کر دی۔ یوں ان کی اسی پسپائی اور رسوائی پر معاملہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ فللّہ الحمد
اس طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد 7 ستمبر 1974ء کو حکومتی ایوان میں مرزائیوں کی دونوں جماعتوں قادیانی اور لاہوری گروہ کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے یہ قرارداد پاس کی گئی:
”جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مطلقہ پر ایمان نہ رکھے اور آپ کو آخری پیغمبر تسلیم نہ کرے۔ یا جو شخص کسی بھی معنی، کسی بھی شکل اور لفظِ نبوت کی کسی بھی تعبیر کے مطابق نبوت کا مدعی ہو۔ اسی طرح جو شخص کسی بھی ایسے مدعی نبوت پر ایمان لائے یا اسے مجددِ دین سمجھے وہ دستور و قانون کی نگاہ میں غیر مسلم ہے۔”
ہر چند کہ ختمی مرتبت علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد نبوت کے منصب پر براجمان ہونے والے اور اس کے متبعین کی اصل سزا تو وہی ہے جو صدیق اکبر کی خلافت میں مسیلمہ کذاب اور ان کی قوم کو دی گئی تھی، لیکن ہمارے لیے یہ بات بھی غنیمت ہے کہ بین الاقوامی سطح کے سیکولر اور مذہب گریز عالمی اداروں کے طے کردہ نام نہاد بنیادی حقوق کے شور شرابے کے دور میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی پر حضرت نذیر حسین محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کے فتوائے تکفیر کو صحیح باور کیا، بلکہ امتِ مسلمہ کی وحدت کو سبوتاژ کرنے والی مرزائی جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والے علامہ اقبال کے مطالبہ کو بھی عملی جامہ پہنا دیا۔ فللّہ الحمد۔”
( فسانہ قادیان ، ص: 62، 75)
سطور بالا میں اختصار کے ساتھ ہم نے صرف 74ء کی تحریک ختم نبوت میں حافظ کمیرپوری رحمہ اللہ کی خدمات کا اجمالی تذکرہ ہے، ضرورت تو یہ بھی ہے کہ قادیانی فتنے کی سرکوبی کے علاوہ ان کی دیگر علمی، سیاسی، دعوتی، تعلیمی اور ملی خدمات کا ذکر بھی کیا جائے، لیکن سر دست ہم اسی پہ اکتفا کرتے ہیں اور یہ کام کسی دوسری فرصت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔
اللہ تعالی مرحوم حافظ صاحب اور اس کار عظیم کی ادائی میں شریک دیگر مذہبی و سیاسی قائدین کو اجر جزیل سے نوازے اور روز قیامت اسے شفاعت نبوی کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین



