(عابد حسین قریشی)
نبوت کے باقاعدہ اعلان سے پہلے چالیس سال تک مکہ کی گلیوں میں،عرب کے صحراؤں میں، دشت و بیابان میں، جلوت اور خلوت میں، مجمع عام میں اور کنج عزلت میں، ہر حال اور ہر رنگ میں محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں نے دیکھا اور پرکھا۔ ان کے ساتھ معاملات کیے۔ تجارت کی، گفتگو کی، مگر آقا کریم کی شخصیت میں کوئی جھول، کوئی کمی نظر نہ آئی۔ اپنے بیگانے سبھی اس نوجوان کو صادق اور امین سمجھتے اور پکارتے تھے۔ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت سے پہلے اور بعد میں لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے اپنے مقام و مرتبہ سے فرو تر حرکت نہیں کی۔ لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے کسی توہم پرستی کا سہارا نہیں لیا۔ سیدھا اور صاف ، غیر مبہم انداز میں پیغام توحید، انکار کرنے والے بت پرستوں اور مشرکوں کو پہنچایا۔ کئی ایسے مواقع بھی آئے کہ کسی انہونے واقعہ کی آڑ میں لوگوں نے توہم پرستی کا سہارا لینا چاہا، تو آقا کریم نے لوگوں کو روکا اور درست سمت میں رہنمائی فرمائی۔ اپنے لخت جگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تدفین کے موقع پر سورج کو گرہن لگ جاتا ہے۔ عرب میں مشہور روایات کے مطابق لوگ یہ قیاس کرنا شروع کرتے ہیں، کہ یہ سورج گرہن نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے کی رحلت کے سوگ میں لگا ہے۔ تو رحمت العالمین نے اس توہم پرستی پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے بآواز بلند فرمایا، کہ اس سورج گرہن کا تعلق میرے بیٹے کی موت سے نہ ہے، بلکہ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے، اور ایسے موقعوں پر نماز ادا کرتے ہیں۔ اب ذرا ان جعل سازوں پر نظر دوڑائیں جو ہمہ وقت کسی شعبدہ بازی یا توہم پرستی کی دکان سجھا کر جھوٹی پیغمبری کے دعویدار ہونے سے بھی نہیں چوکتے۔ جو اتنے من گھڑت اور مضحکہ خیز کرامات کے ذریعے لوگوں کو اپنے جھوٹے سحر میں گرفتار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کہ انسان حیران و ششدر رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے ختم نبوت کا تاج محمد عربی صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر سجایا ہے، اور سچی بات تو یہ ہے، کہ وہی اس تاج کے اصل اور صحیح حقدار ہیں۔ وہ دلکش شخصیت، وہ چاند سا مکھڑا، وہ گیسوئے عنبرین، وہ دلکش انداز گفتگو، یہ وسیع القلبی، یہ تسامح، یہ وضعداری اور حسن تکلم، وہ محویت و استغراق، یہ تواضع و انکسار، وہ دیدہ حق شناس، وہ پیکر جود و سخا، یہ بے مثل عفو و درگزر، وہ حکمت و دانائی کا سر چشمہ، یہ عزت و تکریم کی بلندیاں، وہ بے مثل پختگئ کردار، وہ بلند پایہ فضل و امتنان، وہ لاجواب رضوان و فضیلت ، وہ انسانی معراج کی خلعت فاخرہ، وہ محبت و جانثاری کا بادہء گلفام، وہ راہ عشق و دلبری کا نقیب، وہ انسانوں کی فلاح کا حریص، وہ زمانہ امن کا مصلح، قاضی، امام، نبی اور پیغمبر، اور وہ میدان کارزار کا عظیم سپاہی اور کمانڈر، وہ ایک بہترین دوست، ساتھی اور غمگسار، وہ اپنی صفات میں یگانہ اور عدیم النظیر، وہ پیکر شفقت و محبت اور ایثار و قربانی، وہ غریبوں اور یتیموں کا والی و سر پرست، وہ اپنی برکات میں سر تا پا رحمت العالمین، وہ سلسلہ نبوت کی آخری اینٹ، وہ انسانیت کا فخر، وہ ہم سب کے دلوں کا قرار اور انسانیت کا وقار، وہ قرآن کریم کی زبان میں یاسین، طاہا، مزمل اور مدثر، وہ اخلاق کی وسعتوں اور گہرائیوں کا پیامبر، وہ علم و حکمت کا بیش قیمت خزینہ ، وہ شافع روز محشر، وہ اللہ تعالٰی کی حکمتوں اور پوشیدہ مصلحتوں کا راز داں، وہ تجلیات ربانی جن کے قلب منیر پر جلوہ فگن رہیں، جنکی لاجواب فصاحت و بلاغت دلوں پر راج کرتی رہی، وہ محبوب دلربا، ستودہ صفات ہستی جن کے سر پر ابدی سعادت کا تاج سجا، وہ اخلاق حمیدہ کےراکب اور شہسوار ہیں،جنہیں محاسن اخلاق اور مکارم اخلاق کے ساتھ حیات سرمدی سے سرفراز فرمایا گیا۔ وہ قران کریم کے چشمہ صافی و شیریں سے سیراب اور فیضاب , وہ کہ جن کے فیض نظر سے ریگزار عرب کے حقیر ذرے آفتاب و مہتاب بن کر چمکے، وہ حامل قرآن اور شارع قرآن، وہ کہ جو شاہد بھی، بشیر بھی اور نزیر بھی۔ وہ کہ جو افضل الانبیاء بھی اور افضل الابشر بھی۔ وہ کہ جو نبیوں کا امام بھی اور اماموں کا نبی بھی ،
وہ سیدہ کائنات فاطمہ سلام اللہ علیہا کا بابا اور حسنین کریمین کا نانا، وہ انسانیت کے ماتھے کا جھومر، محسن انسانیت، ہماری آن اور شان محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تو ہیں۔اور جو ختم نبوت کی مہر ہیں۔ اس عظیم و منفرد ، کریم و رحیم، عالی شان اور عالی مرتبت نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام جاں فزا کیا تھا،عام زندگی میں باہمی محبت و احترام، رشتوں کو جوڑ کے رکھنا۔ صلہ رحمی، یتیموں اور مسکینوں کی دست گیری، چھوٹوں سے پیار اور بزرگوں سے شفقت، عفو و در گزر،اپنے عزم و نظم سے، اپنے عزم صمیم اور حسن کردار سے۔ لیکن اگر میدان کار زار میں ہیں ، یا سیل حوادث میں، یا خونخوار موجوں میں ، ہر حال میں ثابت قدم رہنا ہے، جہاد کا صرف حکم ہی نہیں دینا بلکہ خود سپاہ کی قیادت کرنی ہے، اور ہر طرح کے حالات میں، جنگ و جدل کے میدان میں، ابتلا و آزمائش کے رو فرسا لمحات میں ، تیروں اور تلواروں کی یلغار میں،نہ صبر کا دامن چھوڑنا ہے، نہ پائے استقامت میں لغزش آنے دینا ہے۔ بدر کا میدان ہو یا احد کا پہاڑ، عاشقان پاک طینت، محبان دلفگار، اور مشتاقان دیدار نے یہ عجب منظر کب دیکھا ہوگا، کہ نبی آخرالزمان خود پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ صف اول کے مجاہدین کے شانہ بشانہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ کردار و عمل کی یہی وہ جہت ہے، جو آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کو اخلاق و کردار اور عمل کی بلندیوں اور رفعتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔ وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نے۔ غبار راہ کو بخشا فروغ وادئ سینا۔ نگاہ عشق و مستی میں، وہی اول وہی آخر۔ وہی قرآں ، وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طحٰہ۔



