پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان میاں محمد سعید کا یوم ولادت (31 اگست 1910ء) ہے۔
1948میں ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم بھارت کے دورے پر تھی اس دوران ایک ٹسٹ میچ کھیلنے کے لئے ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے دورے پر آنا تھا ویسٹ انڈیز کے کپتان جان گوڈرڈ نے بھارتی کپتان لالہ امرناتھ سے پاکستانی ٹیم کے ممکنہ معیار کے بارے پوچھا تو بھارتی کپتان لالہ امرناتھ نے ہنستے ہوئے کہا
“ارے وہ تو اسکول کے لڑکوں کی ٹیم ہے”۔
اس وقث پاکستان کو ٹسٹ کا درجہ حاصل نہ تھا۔ مضبوط ویسٹ انڈیز سےمیچ نوزائیدہ پاکستان کے لئے بڑی اہمیت کاحامل تھا۔کپتان میاں محمد سعید ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کوبیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستان کے فاسٹ بولر منورعلی خان نے پہلی ہی گیند پر جارج کیرو اور دوسری گیند پر کپتان جان گوڈرڈ کی وکٹوں کو اڑاکر رکھ دیا۔ تیسری گیند پرنذر محمد نے کلائیڈ والکٹ کا کیچ گراکر منور علی کو ہٹ ٹرک سے محروم کردیا۔ بہرکیف کپتان میاں سعید اور امتیاز احمد کی سنچری کی بدولت یہ غیر سرکاری ٹسٹ ڈرا ہوگیا۔ جو بلاشبہ پاکستان کے لئےجیت کے مترادف تھا۔ جان گوڈرڈ بھارت واپس گئے تو امرناتھ پر برہم ہوئے کہ انہوں نے پاکستانی ٹیم کے معیار کےحوالےسےگمراہ کیا۔
میاں محمد سعید نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کے بعد سول سروس جوائن کرلی۔ وہ کرکٹ کے بڑے اچھے کھلاڑی تھے۔ 1930میں انہوں نے اپنا پہلا فرسٹ کلاس میچ رانجی ٹرافی میں ساؤتھ پنجاب کی جانب سے کھیلا۔ وہ 1936 اور 1937 میں میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف غیر سرکاری ٹیسٹ کھیلنے والی ہندوستانی ٹیم کے اہم رکن تھے۔
دوسری جنگ عظیم میں میاں سعید نے برٹش انڈین آرمی میں بطور کپتان شمولیت اختیار کی انہوں نے قاہرہ (مصر) میں آرمی انٹیلیجنس کے لیے گراںقدر خدمات سر انجام دی۔ 14 اگست 1947 کو جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو میاں سعید اس وقت لاہور میں بحیثیت سٹی مجسٹریٹ تعینات تھے ان کے سرکاری فرائض میں ہندو مہاجرین کو واہگہ بارڈر تک لے کر جانا اور انہیں بحفاظت ہندوستان میں داخل کرنا تھا انہوں نے یہ فرائض انتہائی جانفشانی سے ادا کیے اور لاکھوں ہندو مہاجرین کو ان جنونی مسلمانوں کے ظلم و ستم سے بچایا جو اپنے پیاروں کا بدلہ لینے کے لیے بیتاب تھے۔
قیام پاکستان کے بعد میاں سعید نےجسٹس کارنیلس٫ سید فدا حسن ٫ ڈاکٹر جہانگیر خان اور دیگر رفقاء کے ساتھ لاہور جیم خانہ گراؤنڈ میں ایک اجلاس میں باقاعدہ بورڈ کرکٹ کنٹرول فار پاکستان قائم کر دیا۔ مغربی پنجاب کے وزیراعلی کو کرکٹ بورڈ کاصدر اور جسٹس کارنیلس کو سینئیر نائب صدر کے علاوہ چیئرمین ورکنگ کمیٹی اور چیئرمین سلیکشن کمیٹی کی اضافی ذمہ داریان دی گئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے پہلے اجلاس میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے میاں سعید کو قومی ٹیم کا کپتان نامزد کردیا۔
27 دسمبر 1947 کو باغ جناح لاہور میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا فرسٹ کلاس میچ میں سندھ اور مغربی پنجاب کے مابین کھیلا گیا جس میں میاں سعید نے مغرب پنجاب کی قیادت کرتے ہوئے نذر محمد کے ساتھ اننگ کا آغاز کیا میاں سعید نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے پہلی فرسٹ کلاس نصف سینچری (69 رنز) اسکور کی اور عمدہ قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ کو شکست سے ہمکنارکیا۔
میاں محمد سعید نے پاکستان کرکٹ کے ابتدائی چھ غیر سرکاری ٹیسٹ میچوں میں قیادت کے فرائض انجام دئیےانہوں نے ویسٹ انڈیز٫ سیلون (سری لنکا) اور کامن ویلتھ کے خلاف چھ میں سے چار میچوں میں فتوحات سمیٹی ایک میں شکست کا سامنا کیا جبکہ ایک میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔
1951 میں ایم سی سی (انگلینڈ) کے دورہ پاکستان کے موقع پر کرکٹ بورڈ نے حیرت انگیز طور پر میاں سعید کو نہ صرف قیادت بلکہ ٹیم سےبےدخل کر کے کارداد کو قومی ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری سونپ دی۔ حالانکہ میاں سعید کپتانی کے فرائض بخوبی سرانجام دے رہے تھے اور پاکستان کی نوزائیدہ ٹیم کو اپنے پاؤں کو کھڑا کرنے کے لیے ان کی خدمات بلاشبہ ناقابل فراموش تھی۔
افسردہ میاں سعید نے قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے کے باوجود فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا جاری رکھا۔ 1953 میں دورہ انگلینڈ کی تیاری کے سلسلے میں کرکٹ بورڈ نے ایک ٹورنامنٹ انعقاد کیا تاکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی اور صلاحیت کی بنیاد پر ٹیم منتخب کی جائے اس ٹورنامنٹ کو قائدا اعظم ٹرافی 🏆 کا نام دیا گیا اور یہی کرکٹ سیزن پاکستان کرکٹ کا اولین سیزن کہلایا قائد اعظم ٹرافی کا فائنل پنجاب اور بہاولپور کے مابین کھیلا گیا جسے خان محمد کی قیادت میں بہاولپور نے جیتا جبکہ پنجاب کے کپتان میاں محمد سعید تھے۔ اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ کرکٹ کی تاریخ کا واحد میچ ہے جس میں باپ بیٹا اور داماد نے حصہ لیا یعنی میاں سعید ان کے بیٹے یاور سعید اور میاں سعید کے داماد فضل محمود نے شرکت کی جو اب تک کی تاریخ کی واحد مثال پے۔
دور انگلینڈ کےلئے سید فدا حسن جو پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھی تھے چاہتے تھے کہ قیادت کی ذمہ داری ایک بار پھر میاں سعید کے سپرد کی جائے مگر کارداد اور دیگر کرکٹ حکام ان کے آگے دیوار بن گئے۔ کاردار نے میاں سعید کا راستہ روکنے کے لیے مستقبل کے گورنر جنرل سکندر مرزا سے رابطہ کر لیا سکندر مرزانے کرکٹ حکام کو باور کرایا اگر کاردار کو کپتان نہیں بنایا گیا تو قومی ٹیم کو پاسپورٹ اور زر مبادلہ جاری نہیں کیا جائے گا یوں میاں سعید پر قومی ٹیم کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیے گئے۔
عملی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد میاں سعید بطورمینیجر قومی ٹیم سے وابستہ رہے۔ انہوں نے پاکستان ایگلٹس کے علاوہ 1965 میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے پہ جانے والی پاکستان ٹیم کے مینیجر کے فرائض سر انجام دئیے۔ بطور سول سرونٹ وہ لاہور اور راولپنڈی ایڈیشنل کمشنر کے علاوہ اوتھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سیکرٹری بھی رہے۔ پاکستان کرکٹ کے پہلے سپر سٹار فضل محمود ان کے داماد تھے جبکہ انگلش کاؤنٹی سمر سیٹ کے لیے طویل عرصے تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے اور قومی ٹیم کے سابق منیجر یاور سعید ان کے صاحبزادے تھے۔
عمر کے آخری حصے میں میاں سعید پر فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد وہ وھیل چیئر پر آگئے ان کے انتقال سے قبل ان کے حریف اور ان پر کرکٹ کے دروازے بند کرنے والے اے آر کاردار ان سے ملاقات کے لیے آئیں اور وہ کافی دیر ان کے ساتھ بیٹھے رہے جب وہ واپس جانے لگے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ ان کے ساتھ کی گئی زیادتی کی معافی مانگنے کے لیے آئے تھے۔ پاکستان کرکٹ کے بانی ارکان میں شامل اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان میاں محمد سعید 23 اگست 1979 کو اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔
مشہور انگریز مصنف پیٹر اوبورن اپنی کتاب Wounded Tiger میں میاں سعید کے بارے میں لکھتے ہیں کہ “میاں سعید انتہائی خوبصورت اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے انہوں نے پاکستان کرکٹ کی خدمات وفاداری اور انتہائی سمجھ بوجھ کے ساتھ پوری کیں وہ نہ صرف عمدہ بیٹسمین بلکہ کارامد اسپنر بھی تھے”.
پاکستان کرکٹ کے بانیوں میں سے ایک جسٹس کارنیلس نے میاں سعید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ” اگر کسی نے نوخیز ٹیموں میں دلچسپی ابھارنے کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کا فن ثابت کیا تو میاں سعید تھے۔”
یہ تحریر میری زیر طبع کتاب “کپتان” کا حصہ ہے اور ماہنامہ سرگزشت جولائی 2023 میں بعنوان ” پاکستانی کرکٹ” نام سے بھی شائع ہو چکی ہے۔



