حالیہ بارشوں کے بعد کل سیالکوٹ اپنے آبائی علاقے چٹی شیحاں جانے کا اتفاق ہوا ۔کوٹلی بہرام سے گوہد پور کی طرف جاتے ہوئے یہ گمان گزرا کہ کسی دلدل اور صحرائی علاقے سے گزر رہا ہوں۔ واپسی پر صورتحال مزید بگڑ گئی جب سڑک کو ایک طرف سے قابل عمل بنانے پر مامور عملہ نے کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک کو درمیان سے کھڈے مار کر بند کر دیا اور پھر واپس دونوں نہروں کو کراس کرتے ہوے ایرپو رٹ کے راستہ موٹر وے تک رسائی ہوئی ۔ذاتی تکلیف کو ایک طرف کرتے ہوے اپنے شہر کی حالت زار پر ترس آیا کہ ہم جس شہر کا مقدمہ ڈویژن بنانے کا لڑ رہے ہیں وہ تو اک اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہا ہے ۔اس شہر کا شاید کوئی والی وارث نہیں ۔میرے خیال میں ڈویژن سے زیادہ اس شہر کو بچانا ضروری ہے ۔حیرت اس بات پر ہے کہ اس شہر کے باسی خرگوش کی نیند سو رہے ہیں ۔اربوں ڈالر کی ایکسپورٹ کرنے والا شہر اتنی بےبسی اور کسمپرسی میں ہے بیان سے باہر ہے ۔اس فورم میں میڈیا اور دیگر بااثر گروپس کے لوگ شامل ہیں ۔ اپنے شہر کو بچانے کے لئے اور اسے عوام کے لیے مناسب بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ۔اور شاید ڈویژن بنانے سے زیادہ اہم بھی ۔جو لوگ گندے پانی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر احتجاج نہیں کرتے ان سے ڈویژن کے لیے کسی تہریک کی توقع رکھنا عبث ہے ۔اپنے پیارے شہر کی نوحہ گری پر معذرت ۔
میرے شہر کی حالت زار



